حدیث کے ساتھ قرآن کی تفسیر
علی محمد الصلابی2۔ حدیث قرآن کی وضاحت اور تشریح کرتی ہے۔ اس لیے سنت کے ساتھ قرآن کی تفسیر کی اہمیت ظاہر ہوئی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس ضمن میں وافر حصہ ملا تھا۔ چونکہ وہ کثرت سے سنت نبویہ روایت کرتی ہیں، اس لیے وہ قرآن کے جن مقامات کو ابتدا میں سمجھ نہ سکتی تھیں ان کے متعلق وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فوراً سوال کرتی تھی۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:
وَلَقَدۡ رَاٰهُ نَزۡلَةً اُخۡرٰى۞ (سورۃ النجم آیت 13)
ترجمہ: اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس (فرشتے) کو ایک اور مرتبہ دیکھا ہے۔
جب ان سے اس کی تفسیر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
’’اس امت میں سے میں نے ہی سب سے پہلے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ جبریل امین تھے میں نے انھیں اس صورت میں کبھی نہیں دیکھا جس پر انھیں تخلیق کیا گیا ہے، سوائے ان دو مواقع کے کہ میں نے انھیں آسمان سے نازل ہوتے ہوئے اس طرح دیکھا کہ ان کی عظیم تخلیق نے زمین و آسمان کے درمیان خلا کو پُر کر رکھا تھا۔‘‘
(اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر بھی اس کی مثال ہے:
وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِى الۡعُقَدِ۞ (سورة الفلق آیت 4)
ترجمہ: اور ان جانوں کے شر سے جو (گنڈے کی) گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔
چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات چاند کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھ کر فرمایا:
’’اے عائشہ! تو اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کر کیونکہ یہی اَلْغَاسِقِ اِذَا وَقَبَ
(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3366۔ مسند احم: جلد 6 صفحہ 215، حدیث نمبر: 25844۔ سنن کبری للنسائی: جلد 6 صفحہ 83، حدیث نمبر: 10137۔ مسند طیالسی: صفحہ 208۔ تفسیر ابی یعلیٰ: جلد 7 صفحہ 417، حدیث نمبر: 4440۔ مستدرک حاکم: جلد 2 صفحہ 589۔ امام ترمذی اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3366 میں اسے حسن صحیح کہا ہے اور امام نووی رحمہ اللہ نے اسے المنثورات: حدیث نمبر: 292 میں ضعیف کہا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے الفتوحات الربانیۃ: جلد 4 صفحہ 334 میں کہا ہے کہ یہ حسن غریب ہے۔ علامہ زرقانی رحمہ اللہ نے مختصر المقاصد: صفحہ 93 میں اسے صحیح کہا۔ امام ترمذی رحمہ اللہ کے قول کی تائید کی اور امام نووی رحمہ اللہ کے قول کی مخالفت کی اور الوادعی رحمہ اللہ نے الصحیح المسند: حدیث نمبر: 1634 میں اسے حسن کہا ہے۔
اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال ہے:
وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ۞ (سورۃ المؤمنون آیت 60)
ترجمہ: اور وہ جو عمل بھی کرتے ہیں، اسے کرتے وقت ان کے دل اس بات سے سہمے ہوتے ہیں۔‘‘
(اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔)
ان کا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق سوال:
فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا ۞ (سورۃ الإنشقاق آیت 8)
ترجمہ: اس سے تو آسان حساب لیا جائے گا۔