اسماعیلی شیعوں کی خونریزیاں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسماعیلی شیعوں کی خونریزیاں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 3

اسماعیلی شیعوں کی خونریزیاں

(1) رسول اللہﷺ کا جسمِ اطہر چرانے کی کوشش:

حاکم بامر الله فاطمی کے دورِ حکومت کی بات ہے یہ وہی حکمران ہے جس کی عقل چلی گئی تھی اور یہ زندیق تھا اس نے ان حملہ آوروں کے سالار سے کہا تھا جنہیں اس نے مدینہ منورہ میں بھیجا تھا کہ انہیں اندر آنے دیں اور رسولِ اکرمﷺ کی قبر مبارک اکھاڑنے دیں تاکہ وہ آپﷺ کا جسمِ اطہر اٹھا کر وہ اپنے ملک لے جائیں اور لوگوں کی نظروں کا مرکز بن جائیں اور فاطمی شیعہ مسلمانوں کے نزدیک بلند رتبہ ہو جائیں یہ فاطمی قائد رسولِ اکرمﷺ کے شہر میں داخل ہوا لوگ کپکپانے لگے اور اس کو سنگین جرم قرار دیا اسے نصیحت کی کہ رسولِ اکرمﷺ کی قبرِ اطہر سے وہ تعرض نہ کرے لیکن یہ فاطمی سالار خبیث اپنے خلیفہ کے حکم کی برآری کے لیے مصر تھا رات کے وقت اس نے اپنے آدمی حرمِ نبوی میں داخل کروا دیے یہ حجرہ شریفہ کی طرف آئے کہ قبرِ اطہر کو اکھاڑیں اچانک تند و تیز آندھی اٹھتی ہے جس سے فضا تاریکی میں ڈوب گئی ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے عمارت بنیادوں سے ہل جائے گی اور خوف زدہ ہوئے اور اپنے اس فعلِ بد سے رک گئے یہ لعنتی مسجدِ نبوی سے لرز ابر اندام ہو کر بھاگ گئے کینہ پرور فاطمی خلیفہ 524ھ سے لے کر 540ھ تک تخت خلافت پر متمکن رہا تھا اس خبیث نے رسولِ اکرمﷺ کے جسمِ اطہر کو قاہرہ نقل کرنے کی دوبارہ کوشش کی اس نے چالیس مضبوط آدمی بھیجے مدینہ میں ایک مدت تک ٹھہرے رہے اور دور سے ایک سرنگ کھودی لیکن الله عزوجل نے اپنے حبیبﷺ کے جسد مبارک کو ان کافروں اور زندیقیوں کے دستِ ستم گر سے محفوظ رکھا وہی سرنگ ان کے اوپر گرگئی یہ سارے کے سارے لمحہ بھر میں ہلاک ہو کر لقمہ دوزخ بن گئے۔

(2) اسماعیلیوں نے ابوبکر نابلسیؒ کی کھال اتار دی

اس امام زاہد و عابد اور سرا پائے وفا ابوبکر نابلسیؒ کو معزلدین الله فاطمی کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے اور یہ معزان سے کہتا ہے: میں نے سنا ہے کہ تم کہتے ہو کہ میرے پاس اگر دس تیر ہوں تو میں 9 تیر رومیوں عیسائیوں کو ماروں گا اور ایک تیر سے فاطمی شیعوں کو ماروں گا ابوبکر نابلسیؒ نے فرمایا: میں نے یہ نہیں کہا اس فاطمی بادشاہ نے کہا: پھر تم نے کیا کہا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے کہا ہے:

ينبغی أن نرميكم بتسعة ثم نرميهم بالعاشر۔ 

کہ میں تم فاطمیوں کو 9 تیر ماروں گا اور دسواں تیر رومیوں کو ماروں گا۔

اس نے کہا: یہ تاثرات تم کیوں بیان کر رہے ہو؟ ابوبکر نابلسیؒ نے فرمایا:

لانكم غيرتم دين الله وقتلتم الصالحين وأطفاتم نور الله الالهية وادعيتم ماليس لكم۔

وجہ یہ ہے کہ تم نے الله کے دین کو بدل ڈالا نیکوکاروں کو مارا اور نورِ الٰہی کو بجھایا اور نامناسب دعویٰ زبان پر لائے اس کے جواب میں یہ شیعہ خبیث کہنے لگا: امام صاحب کو پیٹا جائے ایک دن اور دوسرے دن بھی مارا شدید کوڑے مارے تیسرے دن ان کا چمڑا اتارنے کا حکم دیا ایک یہودی کو اس روح فرسا سزا دینے کے لیے لایا گیا وہ چمڑا اتار رہا تھا امام نابلسیؒ قرآنِ پاک کی تلاوت فرمار ہے تھے یہ یہودی جلاد پکار اٹھا اور اس بہیمانہ ظلم سے اس کا دل رقت کے آنسو بن جاتا ہے اور کہتا ہے: جب میں شیخ کے دل تک پہنچا تو برداشت نہ ہوسکا تو میں نے چھری مار کر انہیں فورا شہید کردیا تڑپتا نہ دیکھ سکا اور حضرت امام قرآنِ پاک کی اس بشارت کے مستحق قرار پائے فرمان الٰہی ہے:

وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٲتَۢا‌ۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ۝فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَٮٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ وَيَسۡتَبۡشِرُونَ بِٱلَّذِينَ لَمۡ يَلۡحَقُواْ بِہِم مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ أَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡہِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ۝(سورۃ آلِ عمران آیت 169۔170)۔

تو ہرگز نہ گمان کر ان لوگوں کو الله کی راہ میں جو قتل کیے گئے ہیں کہ یہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دیئے جاتے ہیں خوش ہونے والے ہیں ان کے ساتھ جو ان کے رب نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے اور جو ابھی ان سے ملے نہیں، انہیں یہ بشارت دینا چاہتے ہیں کہ ان پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ ہی یہ غم کھائیں گے۔ (البدایہ والنہایہ)۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ ایک یہودی پر ظلم سے رقت طاری ہوئی یہ اسماعیلی شیعہ بےرحم ظاہر ذرا متاثر نہ ہوا۔ 

اسماعیلیوں کے قاتلانہ حملے:

(1)۔ نظام الملک سلجوقی کا قتل:

ماہِ ربیع الاول 485ھ میں نظام الملک سلجوقی فارس کے حکومتی علاقہ کے دورے پر نکلا اس کے ساتھ عباسی خلیفہ کا بیٹا ابو فضل جعفر بھی تھا جب سلجوقی دورے سے واپس لوٹا تو ماہِ رمضان میں دارالخلافہ بغداد کا دورہ کیا ابھی یہ راستے میں ہی تھا کہ "دیلم" کا رہنے والا بچہ جو کہ اسماعیلی شیعہ تھا ایک فریادی کے روپ میں آگے بڑھا اور نظام الملک پر خنجر سے وار کردیا جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگیا نظام الملک کے فوجیوں نے اس دیلمی لڑکے کو پکڑ کر مار دیا یہ وزیر جو کہ سنی تھا یہ اسماعیلی باطنی فرقہ کا پہلا شکار ہوا اسماعیلی فرقہ کی جانب سے جب قاتلانہ حملوں میں اضافہ ہوا تو مسلمان قائدین نے زریں زیب تن کرنا شروع کیں ان کے غدار خنجروں سے بچانے والے لباس زیب تن کرنے لگے اور یہ ان سے سخت احتیاط برتنے لگے اس کے باوجود ان کی دھوکہ بازیاں نئے اسلوب میں سامنے آتی رہیں اور انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ ایک لمحہ ضائع نہ ہونے دیتے تھے۔

(2)۔ امیر بلکا بک بن سرمد کا قتل:

493ھ ماہِ رمضان میں اصبہان کی پولیس کے سربراہ امیر بلکا بک بن سرمد پر قاتلانہ حملہ کیا گیا حالانکہ امیر ان سے بہت محتاط رہتا تھا ہمیشہ لوہے کی زرہ پہنتا تھا لیکن اس رات وہ زرہ نہ پہن سکا اسماعیلیوں نے اسے غنیمت جانا اور دھوکہ باز چھریوں کی بوچھاڑ کر کے انہیں شہید کردیا اور یاد رہے! اسماعیلیوں نے بڑے بڑے عظیم فقہاء واعظین اور علمائے اہلِ سنت کو ناحق شہید کیا ہے ان کا جرم صرف یہی تھا کہ وہ حق کا اعلان کرتے تھے اور انکے فاسد اور گمراہ کن عقائد کی تردید کرتے تھے۔

(3)۔ ابو مظفر خجندی کا قتل:

صفحہ 1 از 3