اسماعیلی شیعوں کی خونریزیاں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسماعیلی شیعوں کی خونریزیاں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

اسما عیلیوں کا دستِ خون ریز صرف حکام سلاطین مسلمانوں تک ہی نہیں بڑھا بلکہ ان کے یہ جفاکش ہاتھ فقہاء واعظین اور علماء تک بڑھ گئے تھے انہوں نے ہر اس شخص کو قتل کیا جو بھی اسماعیلیوں کے افکار فاسدہ اور ان کے عقائد ضالہ اور خبیثہ کی نقاب کشائی کرتا تھا 496ھ میں ایک اسماعیلی نے واعظ ابو مظفر بن خجندیؒ کو "رے" شہر میں شہید کردیا ابو مظفر جامع مسجد میں لوگوں کو وعظ کر رہے تھے جب یہ اپنے درس سے فارغ ہوئے اور اپنی کرسی سے نیچے اترے تو وہ خبیث اسماعیلی حملہ آور ہوا اور انہیں شہید کردیا اسماعیلی کو بھی اسی وقت مار دیا گیا ابو مظفر ایک عالم فاضل اور شافعی فقیہ تھے وزیرِ نظام الملک مرحوم ان کی ملاقات کے لیے حاضر ہوا کرتا تھا اور ان کی بہت تعظیم کیا کرتا تھا۔

(4)۔ ابو جعفر بن مشاط کا قتل:

ابو جعفر بن مشاط شافعیوں کے شیخ ہیں یہ بھی اسماعیلیوں کی بہیمیت کا شکار ہوئے تھے انہیں بھی ایک اسماعیلی خبیث نے ان کے استاد امام خجندی کی طرح شہید کردیا۔

(5) عبید الله خطیمی کا قتل:

ماہِ صفر 502ھ میں اصبہان کے قاضی عبید الله بن علی خطیمی رسید کو شہید کردیا گیا انہوں نے اسماعیلیوں کے بہت سارے باطل افکار کی پردہ کشائی کی تھی یہ ان غداروں سے محتاط تو بہت رہتے تھے لیکن احتیاط تقدیر نہیں ٹال سکتی ایک اسماعیلی جمعہ کے دن قاضی صاحب کے پاس آنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے ان کے اور ساتھیوں کے درمیان سے اندر آتا ہے اور اچانک حملہ کر دیتا ہے اور انہیں شہید کر دیتا ہے۔

(6)۔ قاضی صاعد بن محمد کا قتل:

جن قاضیوں کو اسماعیلیوں نے تہہ تیغ کیا تھا ان میں سے قاضی صاعد محمد بن عبد الرحمٰن ہیں یہ نیشاپور کے قاضی تھے جامع اصبہان میں عید کے دن انہیں ایک اسماعیلی نے ایک چھری کے ساتھ شہید کردیا۔

(7)۔ جناح الدولہ کا قتل:

495ھ میں مسلمانوں کے سپہ سالار جناح الدولہ حسین جو حمص والے تھے انہوں نے صلیبی جنگ میں عیسائیوں کے خلاف زبردست کارنامے انجام دیے یہ اپنے قلعہ سے جامع مسجد کبیر میں اترے تاکہ نماز جمعہ ادا کریں اردگرد رفقاء موجود تھے اسماعیلیوں کے تین آدمی زاہدانہ لباس میں آگے بڑھے انہوں نے کچھ مطالبات کیے انہوں نے اس سے وعدہ کیا کہ بہتری ہوگی پھر ان خبیث گندے لوگوں نے یکبارگی حملہ کر کے انہیں شہید کردیا اور ساتھ ہی کچھ ساتھی بھی شہید ہوئے یہ امیر نہایت ہی بہادر اور مجاہد تھے اور بنفسِ نفیس جنگوں میں شرکت کیا کرتے تھے۔

(8)۔ امام عبد الواحد بن اسماعیل کا قتل:

امام عبد الواحد بن اسماعیل یہ شافعی فقہاء میں سے ہیں ابو محاسن ان کی کنیت تھی رؤیانی نسبت تھی بلادِ عجم کے بھی شافعی مسلک کے شیخ تھے انہیں جامع طبرستان میں جمعہ کے دن شہید کردیا گیا انہوں نے دور دور آفاق کی طرف طلب علم کے لیے سفر کیا اور بہت سارے علوم حاصل کیے اور بہت ساری احادیث سنی تھیں اور شافعی مذہب کی حمایت میں کتابیں بھی تصنیف کی تھیں یہ فرمایا کرتے تھے:

لو احترقت كتب الشافعی لا مليتها من حفظی۔ 

اگر امام شافعیؒ کی کتابیں جل جائیں تو میں اپنے حافظہ سے دوبارہ لکھ سکتا ہوں۔

(9)۔ صلاح الدین ایوبیؒ

صلیبیوں کے خلاف جہاد اسلامی کے عظیم سپہ سالار بطلِ حریت صلاح الدین ایوبیؒ پر بھی کینہ پرور اسماعیلیوں نے قاتلانہ حملہ کی جرات کی حطیم کے مقام پر ایک مشہور جنگ ہوئی اس میں بھی صلاح الدین ایوبیؒ نے دشمن کو شکستِ فاش سے دو چار کیا اور مصر و شام میں ایسے فاتحانہ کارنامے انجام دیے جو اسلام کی پیشانی کا جھومر ہیں اور ظالم جنگجوؤں کے مقابلوں میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اس مسلمان سپہ سالار کو اس کی محنت و کاوش کا صلہ یہ دیا گیا کہ ان کینہ پرور اسماعیلیوں نے دو دفعہ ان پر قاتلانہ حملہ کیا پہلی دفعہ 570ھ میں ان کے قتل کی کوشش کی گئی اس وقت سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے حلب شہر کا محاصرہ کر رکھا تھا اسماعیلیوں کے چند افراد آئے کہ دھوکہ سے بے خبری میں قتل کر دیں گے مگر ایک امیر لشکر نے دیکھ لیا اور پہچان لیا ان سے کہا: تم یہاں کیا لینے آئے ہو اور کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے اسی وقت اس پر حملہ کر دیا اور شدید زخمی کر دیا ان میں سے ایک نے صلاح الدین ایوبیؒ پر حملہ کردیا مگر وہ خود قتل کردیا گیا اور دوسرے اسماعیلی صلاح الدین ایوبیؒ کے ساتھیوں سے نبرد آزما ہوئے اور اس تک پہنچنے کی پوری کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوئے اور سب مارے گئے۔ دوسری کوشش اس پیکرِ خیر و فلاح پر اس وقت ہوئی جب یہ اپنی عادت کے مطابق قلعہ اعزاز کے محاصرہ کے دوران آلاتِ لڑائی کا مشاہدہ کر رہے تھے اور مردانِ مجاہدینِ حق کو ترغیب دلا رہے تھے یہ اپنے امراء لشکر کے خیمہ میں داخل ہوئے تو اسماعیلی فوجی وردی میں جو کہ مجاہدین کی وردی تھی ان کے سامنے آئے اور ایک نے اچانک جست لگائی اور صلاح الدین ایوبیؒ پر چھری سے وار کر دیا جس سے ان کا سر زخمی ہوا صلاح الدین ایوبیؒ نے اسماعیلی کو ہاتھ سے روکا مگر وہ مکمل طور پر نہ رک سکا وہ کمزور ضربیں لگاتا رہا مگر سر پر خود ہونے کی وجہ سے زیادہ نقصان نہ ہوا اتنی دیر میں ایک غلام اندر آیا اس نے اسماعیلی کے ہاتھ سے چھری قبضہ میں لے کر اس حملہ آور کو زخمی کردیا اس کے بعد دوسرا اسماعیلی صلاح الدین ایوبیؒ پر حملہ آور ہوا فوجیوں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے مار ڈالا اس کے بعد تیسرے اسماعیلی نے حملہ کیا تو انہوں نے اس کو بھی قتل کر دیا چوتھا شکست خوردہ ہو کر خیمہ سے باہر نکلا اسے بھی پکڑ کر انہوں نے قتل کر دیا الله اس سپہ سالار اعظم پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے۔

(10)۔ حجاج کرام:

صفحہ 2 از 3