اسماعیلی شیعوں کی خونریزیاں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسماعیلی شیعوں کی خونریزیاں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 3

498ھ میں پرامن حجاجِ کرام بھی ان کی پکڑ سے نہ بچ سکے حجاج کے قافلے ماوراء النہر سے خراسان سے ہندوستان کے علاقوں سے بیت الله میں جمع ہو رہے ہیں کہ سحری کے وقت اسماعیلیوں نے بغاوت کردی اللہ کے گھر میں اس کے مہمانوں کے اندر قتل و غارت برپا کر دی ایک بھی نہ چھوڑا اور ان کے اموال مالِ غنیمت کے طور پر لوٹ لئے جانور بھی قبضہ میں لے لئے 522ھ کی بات ہے کہ حجاج کرام جو کہ خراسان کے تھے وہ اپنے راستہ کے ذریعہ بیتُ اللہ کی طرف رواں دواں تھے اسماعیلی ان پر اچانک حملہ آور ہوتے ہیں حجاج کرام نے لڑائی میں سخت مقابلہ کیا اور عظیم صبر کا مظاہرہ کیا ان کا امیر حج شہید ہوگیا تو وہ پس پا ہوگئے اور امان طلب کی اور حجاج کرام نے اپنا اسلحہ پھینک دیا کہ امن مل جائے ان اسماعیلیوں نے انہیں پکڑ کر قتل کرنا شروع کردیا تھوڑی تعداد باقی رہ گئی دوسرے سب قتل ہوگے ان میں امام بھی تھے علماء بھی تھے زاہد و صالح بھی تھے جو سب مارے گئے الله کا فرمان ہے:

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡفُرُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ بِغَيۡرِ حَقٍّ۬ وَيَقۡتُلُونَ ٱلَّذِينَ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡقِسۡطِ مِنَ ٱلنَّاسِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ۝ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ ٱلَّذِينَ حَبِطَتۡ أَعۡمَـٰلُهُمۡ فِى ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ۝(سورۃ آلِ عمران آیت 22۔21)

بے شک وہ لوگ جو الله کی آیات کا کفر کرتے ہیں اور ناحق انبیاء کو قتل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جو انصاف کا حکم دیتے ہیں پس انہیں درد ناک عذاب کی بشارت دے دو یہی لوگ ہیں جن کے دنیا اور آخرت کے اعمال ضائع ہوگئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں صبح ہوئی تو ان مقتولوں اور خیموں کے پاس کھڑا ہو کر ایک خبیث اسماعیلی شیخ آواز دیتا ہے:

یا مسلمین ذهبت الملاحدة ومن أرادا الماء سقيته۔

اے مسلمانوں ملحد چلے گئے جو پانی چاہتا ہے مجھے بتائے میں اسے پانی پلاؤں گا۔ 

جس نے بھی سر اٹھایا یا بات کی اس خبیث اسماعیلی نے تیزی سے اسے ختم کردیا۔

(11)۔ خلافت اسلامیہ کی فوجوں کا سامنا کرنے کے باوجود یہ اسماعیلی اکثر مواقع پر قتل و غارت لوٹ مار چھینا جھپٹی سے مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے رہے اور خصوصاً حج کے ایام میں بھی انہیں شرم نہیں آئی یہ حاجیوں کے قافلوں پر حملے کرتے رہے ہیں اور انہیں قتل کرتے رہے ہیں 317ھ میں ان کی یہ شرمناک سرگرمیاں انتہا کو پہنچ گئی تھیں یہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تھے ابوطاہر سلیمان بن ابی سعید جنابی لعنتی ان کا امیر تھا انہوں نے حجاج کرام کا قتل عام کیا اور ان کی لاشیں آبِ زم زم کے کنوئیں میں پھینک دیں مکہ کی کھلی آبادی اور گھاٹیوں میں حرم میں اور کعبہ کے اندر ہر جگہ پر انہوں نے حجاج کرام کے قتلِ عام میں کسر نہ اٹھا رکھی تھی ان کا امیر ابوطاہر (الله اس پر بے شمار لعنتیں کرے) کعبہ کے دروازے پر بیٹھ گیا حجاج کرام اس کے گرد قتل کیے جا رہے ہیں اور ان کی لاشیں گر رہی ہیں اور یہ مسجد حرام میں ماہِ محرم میں اور ذوالحج کی آٹھویں تاریخ جسے ترویہ کا دن کہتے ہیں اس مبارک دن میں یہ خبیث بد بودار یہ دعویٰ کرتا ہے:

انا الله وبالله انا أخلق الخلق وأفنيهم انا۔

میں ہی الله ہوں اور میں خود الله اپنے قسم اٹھا کر کہتا ہوں میں ہی مخلوق کو پیدا کرتا ہوں اور میں ہی اسے فنا کے گھاٹ اتارتا ہوں۔

حجاج کرام اس اسماعیلی شیعہ سے جانیں بچانے کے لیے بھاگتے ہیں غلاف کعبہ پکڑتے ہیں مگر یہ سب بےسود تھا یہ ظالم مقتل کی اندھیر نگری برپا کیے ہوئے ہے دورانِ طواف بھی خون ریزی کر رہے ہیں اس کے بعد یہ ظالم اور لعنتی امیر چاہے زم زم میں لاشوں کو دفن کرنے کا حکم دیتا ہے اور کئی مقتولین مسجدِ حرام کی مختلف جگہوں میں دفن کردیے جاتے ہیں نہ انہیں غسل دیا گیا نہ ہی انہیں کفن نصیب ہوا اور نہ ہی ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اس قدر فضا خوف زدہ تھی کہ اس قدر اس مصیبت نے ہولناکی میں ڈال رکھا تھا۔ انا للہ۔ 

(12)۔ یہ اسماعیلی شیعہ زم زم کی عمارت کو گرا دیتے ہیں اور بابِ کعبہ اکھاڑ دیتے ہیں اور ایک تو میزابِ کعبہ (پر نالہ) اکھاڑنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ لعنتی سر کے بل گرتا ہے اور آتش دوزخ کا ایندھن بنتا ہے دوسرا کھڑا ہوا اس نے حجر اسود پر ایک بھاری آلہ سے ضرب لگائی اور ساتھ ہی ازراہ مذاق اور ٹھٹھا کہتا ہے: کہاں ہے ابابیل؟ کہاں ہیں برسنے والے پتھر؟ (نعوذ باللہ) مگر یہ ظالم الله کے اس فرمان کی حکمت نہیں سمجھ سکا:

وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱللَّهَ غَـٰفِلاً عَمَّا يَعۡمَلُ ٱلظَّـٰلِمُونَ‌ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ۬ تَشۡخَصُ فِيهِ ٱلۡأَبۡصَـٰرُ۝ مُهۡطِعِينَ مُقۡنِعِى رُءُوسِہِمۡ لَا يَرۡتَدُّ إِلَيۡہِمۡ طَرۡفُهُمۡ‌ۖ وَأَفۡـِٔدَتُہُمۡ هَوَآءٌ۬۝(سورۃ ابراهيم آیت 43۔42)۔

جو یہ ظالم کردار ادا کر رہے ہیں یہ ہرگز تصور نہ کرو کہ الله تعالیٰ اس سے بے خبر ہے وہ تو صرف انہیں اس دن تک مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں اٹھی رہ جائیں گی یہ اپنے سر اٹھائے بھاگ رہے ہوں گے ان کی آنکھیں مارے خوف کے حرکت نہ کرے گی اور ان کے دل صبر سے خالی ہوں گے۔

اس ظالم اسماعیلی نے حجر اسود کو اکھاڑ لیا اور ساتھ لے گیا تقریباً بیسں برس حجر اسود ان کے پاس رہا۔


صفحہ 3 از 3