تفسیر قرآن کی معرفت کے لیے اسباب نزول سے استفادہ
علی محمد الصلابی3۔ قرآن مجید کی تفسیر سمجھنے میں اسباب نزول کی معرفت کا بہت اہم کردار ہے۔ اس سے مشکل مفاہیم و معانی جلد سمجھ آ جاتے ہیں اور بعض آیات میں جو اشکالات درپیش آتے ہیں انھیں حل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اسباب نزول کی وسیع معرفت حاصل تھی اور کیوں نہ ہوتی وہ تو نزول وحی کی شاہد تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اسباب نزول کی معرفت کے لیے سوال کرتی رہتیں بلکہ متعدد آیات اسی سبب سے نازل ہوئیں۔
میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق پوچھا:
اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللّٰهِ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَيۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِ اَنۡ يَّطَّوَّفَ بِهِمَاوَمَنۡ تَطَوَّعَ خَيۡرًا فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيۡمٌ ۞ (سورۃ البقرة آیت 158)
ترجمہ: بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، لہٰذا جو شخص بھی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس کے لیے اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ ان کے درمیان چکر لگائے اور جو شخص خوشی سے کوئی بھلائی کا کام کرے تو اللہ یقیناً قدر دان (اور) جاننے والا ہے۔
میں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر کوئی شخص ان دونوں کے درمیان طواف نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔اس پر آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:’’اے میرے بھانجے! تم نے نامعقول بات کی ہے۔ کیونکہ یہ آیت انصار کی شان میں نازل ہوئی۔ اسلام لانے سے پہلے وہ ’’مناۃ‘‘ (بت) سے احرام باندھتے اور وہاں سے ہی تلبیہ شروع کرتے اور مقام ’’مشلل‘‘(مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بستی تھی۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 334) پر اس کی پوجا کرتے اور جو وہاں سے احرام باندھتا تو وہ صفا و مروہ کے درمیان طواف کرنے کو گناہ سمجھتا تھا لیکن جب وہ اسلام لے آئے تو انھوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1643 ۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1277)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:
وَاِنِ امۡرَاَةٌ خَافَتۡ مِنۡ بَعۡلِهَا نُشُوۡزًا۞ (سورۃ النساء آیت 128)
ترجمہ: اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بیزوری کا اندیشہ ہو۔
یہ اس عورت کے بارے میں ہے جو کسی مرد کے پاس ہو تو اس کا خاوند اس سے بے رغبت ہو اور وہ اسے طلاق دینا چاہتا ہو تاکہ کسی دوسری عورت سے شادی کر لے۔ چنانچہ وہ عورت کہے: تو مجھے اپنے پاس رکھ لے اور مجھے طلاق نہ دے، پھر کسی اور سے شادی کر لے تو تیرے لیے جائز ہے کہ مجھے نان و نفقہ نہ دے اور میرے لیے باری بھی مقرر نہ کر۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل کیا:
فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَاۤ اَنۡ يُّصۡلِحَا بَيۡنَهُمَا صُلۡحًا وَالصُّلۡحُ خَيۡرٌ ۞ (سورۃ النساء آیت 128)
(حجۃ القراءات لابن زنجلۃ: صفحہ 214۔ ایک قرأت میں ’’یُصَالِحَا‘‘ بھی پڑھا گیا ہے۔
ترجمہ: تو ان میاں بیوی کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ آپس کے اتفاق سے کسی قسم کی صلح کرلیں۔ اور صلح کرلینا بہتر ہے۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5206 ۔ متن بخاری کا ہے۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 3021۔
اس واقعہ کی تفصیل دوسری روایت میں موجود ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ رحمہ اللہ سے فرمایا:
’’اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باری میں ہمیں ایک دوسرے پر ترجیح نہ دیتے اور تقریباً ہر روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس ضرور آتے اور ہر بیوی کے پاس رہتے(البتہ) ہمبستری نہ کرتے حتیٰ کہ اس کی باری آ جاتی تو وہ اس کے پاس رات گزارتے اور جب سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں اور انھیں اندیشہ ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں جدا کر دیں گے تو انھوں نے کہا: اے رسول اللہ! میری باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ پیشکش قبول کر لی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم کہتے تھے یہ آیت سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا اور ان جیسے معاملے والی عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ بقول راوی شاید عروہ نے یہ کہا۔
وَاِنِ امۡرَاَةٌ خَافَتۡ مِنۡ بَعۡلِهَا نُشُوۡزًا۞ (سورۃ النساء آیت 128)
ترجمہ: اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی قسم کی بے رخی سے ڈرے۔‘‘
(سنن ابی داؤد: حدیث نمبر: 2135۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 107، حدیث نمبر: 24809۔ اختصار کے ساتھ۔ امام طبرانی رحمہ اللہ نے اسے جلد 24 صفحہ 31 میں روایت کیا ہے اور مستدرک حاکم: جلد 2 صفحہ 203 اور بیہقی: جلد 7 صفحہ 74 حدیث نمبر 13816۔ محمد بن عبدالہادی نے المحرر: حدیث نمبر: 368 میں اس کی سند کو جید کہا اور محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے ’’الحدیث: جلد 4 صفحہ 150‘‘ میں اسے روایت کیا۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ارشاد الفقیہ: جلد 2 صفحہ 187 میں لکھا اس کی سند صحیح حسن ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: جلد 9 صفحہ 223 میں لکھا اور اس کے موصول ہونے میں ابن سعد نے ان کی متابعت کی ہے۔ سعید بن منصور نے اسے مرسل روایت کیا اور انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ نہیں کیا۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داؤد: حدیث نمبر: 2135 میں اسے حسن صحیح لکھا اور امام وادعی رحمہ اللہ نے الصحیح المسند: حدیث نمبر 1629 میں اسے حسن کہا ہے ۔