لغوی تفسیر
علی محمد الصلابی4۔ قرآن کریم بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا اور اس کی تفسیر کے اسالیب میں عربوں کے کلام کی معرفت کا اسلوب بھی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تفسیر کے میدان میں بھی عبور حاصل تھا۔ چونکہ وہ لغت اور ادب عربی کے شعر و نثر میں رسوخ رکھتی تھیں۔ نیز ان کی بلاغت و فصاحت بھی معروف ہے۔ جیسا کہ اس واقعہ سے عیاں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان:
وَالۡمُطَلَّقٰتُ يَتَرَ بَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ۞ ( سورۃ البقرة آیت 228)
ترجمہ: اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہو وہ تین مرتبہ حیض آنے تک اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں۔
میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ’’قروء‘‘ کی تفسیر ’’طہر‘‘ سے کی اور قروء کا معنی حیض نہیں کیا، (موطا مالک: جلد 4 صفحہ 830۔ شرح معانی الآثار: جلد 3 صفحہ 41۔ سنن دار قطنی: جلد 1 صفحہ 214۔ سنن کبری بیہقی: جلد 7 صفحہ 415، حدیث: 15779۔ ابن عبدالبر نے (التمھید: جلد 15 صفحہ 95) پر اس کی سند کو صحیح کہا اور ابن حجر نے (بلوغ المرام: حدیث: 334) میں اسے صحیح کہا ہے ۔
’’قروء‘‘ اضداد میں سے ہے اور اس سے طہر اور حیض دونوں مراد لیے جاتے ہیں۔
(مرویات ام المومنین عائشۃ فی تفسیر لسعود بن عبداللّٰہ الفنسیان: صفحہ 99، 101۔ اور تفسیر ام المومنین عائشۃ لعبداللّٰہ ابی السعود بدر: صفحہ 107)