اجتہادی تفسیر
علی محمد الصلابی5۔ اجتہادی تفسیر
1۔ تفسیر کرتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اجتہاد سے بھی کام لیتی تھیں جیساکہ آپ نے ’’الخمر‘‘ کی تفسیر ہر نشہ آور اشیاء سے کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞ ( سورۃ المائدة آیت 90)
ترجمہ: اے ایمان والو! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیرے یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔
آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے‘‘ (مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 7 صفحہ 473 حدیث: 18836)
اور ہر وہ مشروب جس کا انجام شراب کی طرح ہو وہ شراب کی مثل حرام اور آپ اس کی یہ علت بیان کرتی ہیں:
’’کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ’’الخمر‘‘ کے نام کی وجہ سے اسے حرام نہیں کیا بلکہ اسے اس کے انجام کی وجہ سے حرام کیا ہے۔‘‘
(سنن دارقطنی: جلد 4 صفحہ 256 و ’’السیدۃ عائشۃ و توثیقہا للسنۃ‘‘ لجیہان رفعت فوزی: صفحہ 51 تفسیر ام المومنین عائشۃ: صفحہ 115 لعبداللّٰہ ابو سعود بدر۔)
2۔ اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان:
مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُ مَالُهٗ وَمَا كَسَبَ ۞(سورۃ المسد آیت 2)
ترجمہ: اس کی دولت اور اس نے جو کمائی کی تھی وہ اس کے کچھ کام نہیں آئی۔
اس آیت میں ’’وَمَا کَسَبَ‘‘ کی تفسیر ’’اولاد‘‘ سے کرتی ہیں۔ چونکہ مصنف عبدالرزاق: جلد 9 صفحہ 130 میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان:
مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُ مَالُهٗ وَمَا كَسَبَ ۞ (سورۃ المسد آیت 2) کی تفسیر میں فرمایا: ’’اس کی اولاد اس کی کمائی ہی ہے۔‘‘
3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:
وَاٰ تُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحۡلَةً ۞(سورۃ النساء آیت 4)
ترجمہ: اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے د یا کرو۔
اس فرمان کی تفسیر میں فرمایا: ’’نحلۃ‘‘کا معنی ’’واجبۃ‘‘ ہے، یعنی عورتوں کے مہر کی ادائیگی تم پر واجب ہے۔