تیسرا نکتہ سنن نبویہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم
علی محمد الصلابیام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سنت نبویہ کی روایت میں نہایت اہم کردار ہے۔ بلکہ وہ اکثر طور پر صحیح سنت کی توثیق بھی کرتی ہیں اور سیدہ عائشہؓ اس میدان میں راہبر و قائدانہ صلاحیتوں سے متصف تھیں۔ چونکہ سیدہ عائشہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی قریب تھیں، اپنے شرف زوجیت کے سبب سیدہ عائشہؓ کا بہت زیادہ وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزرتا۔ جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کچھ سن لیتیں جو دوسرے نہیں سن سکتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال و کیفیات سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جس طرح باخبر تھیں کوئی دوسرا نہ تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت استفسار کرتیں اور آپﷺ سے مسائل و معاملات کا فہم حاصل کرتیں۔ جو بات انھیں سمجھ نہ آتی وہ ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھ کر اپنی معلومات مکمل کرتی تھیں۔ اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے متعلق وہ روایات جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں دیگر صحابہؓ کی مرویات سے علیحدہ امتیاز اور پہچان رکھتی ہیں۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت قریب رہ کر سنتی تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تربیت پائی اور اپنا قیمتی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر نگرانی گزارا۔
(السیدۃ عائشۃ و توثیقہا للسنۃ لجیہان رفعت فوزی: صفحہ 3، 4۔ مفہوم ادا کیا گیا۔)
چنانچہ محمود بن لبید رحمہ اللہ سے روایت ہے ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ احادیث بکثرت یاد کر لیتیں اور سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما اس میدان میں بے مثال ہیں۔‘‘
(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احادیث روایت کیں ان کی تعداد 2210 ہے، جن میں 174 روایات پر شیخین (بخاری و مسلم رحمہما اللہ) متفق ہیں۔ 54 روایات میں امام بخاری رحمہ اللہ منفرد ہیں اور بقیہ مرویات صحاح ستہ، سنن، معاجم اور مسانید وغیرہ میں موجود ہیں۔
امام ابن حزم (ابن حزم: علی بن احمد بن سعید ابو محمد اندلسی رحمہ اللہ ہیں۔ اپنے وقت کے بحر ذخار، متعدد علوم و فنون کے ماہر و حاذق، فقہ ظاہریہ کے علمبردار، حافظ حدیث ہیں۔ 384 ہجری میں پیدا ہوئے۔ ان کی مشہور تصنیفات میں سے ’’المحلی‘‘ اور ’’مراتب الاجماع‘‘ ہیں۔ 456 میں فوت ہوئے۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 18 صفحہ 184۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 3 صفحہ 299۔) رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بکثرت روایت کرنے والوں کے چوتھے مرتبہ میں شمار کیا ہے۔
(مرویات ام المومنین عائشۃ فی التفسیر: صفحہ 9، 10۔ لسعود بن عبداللّٰہ فنیسان: سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 139)
امام سیوطی (یہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن محمد ابو الفضل السیوطی الشافعی رحمہ اللہ ہیں۔ 849 ہجری میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ شیخونیہ میں تعلیم حاصل کی، جب چالیس سال کی عمر کو پہنچے تو اپنے آپ کو انھوں نے عبادت اور تصنیف و تالیف کے لیے وقف کر دیا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے پیچھے کم و بیش 600 تصنیفات چھوڑیں۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’الاشباہ و النظائر‘‘ اور ’’تدریب الراوی‘‘ ہیں۔ 911 ہجری میں فوت ہوئے۔ (شذرات الذہب لابن العماد: جلد 8 صفحہ 50۔ الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 301۔) رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بکثرت روایت کرنے والے سات صحابہ میں شمار کیا۔
امام سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی یہ رائے ان اشعار میں واضح کی:
وَ الْمُکْثِرُوْنَ فِیْ رِوَایَۃِ الْاَثَرِ اَبُوْ ہُرَیَرَۃَ یَلِیْہِ ابْنُ عُمَرَ
وَ اَنَسٌ وَ الْبَحْرُ کَالْخُدْرِیِّ وَ جَابِرٌ وَ زَوْجَۃُ النَّبِیِّ رضی اللّٰه عنہم
’’حدیث کو کثرت سے روایت کرنے والوں میں سیدنا ابوہریرہ، ابن عمر اور انس ہیں جب کہ ابو سعید خدری، جابر اور زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سمندر ہیں۔‘‘
(الفیۃ السیوطی فی علم الحدیث: صفحہ 108)
حافظ ابو حفص میانشی (یہ عمر بن عبدالمجید بن عمر ابو حفص میانشی رحمہ اللہ ہیں۔ مکہ کے قاضی اور وہاں کے بڑے شیخ اور خطیب تھے۔ عالم، زاہد اور ثقہ تھے۔ بے شمار لوگوں نے ان سے علم حاصل کیا۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’ما لا یسع المحدث جہلہ‘‘ اور ’’الاختیار فی الملح و الاخبار‘‘ ہیں۔ یہ 581ھ میں فوت ہوئے۔ (التحفۃ اللطیفۃ للسخاوی: جلد 2 صفحہ 348۔ الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 53) رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ایضاح ما لا یسع المحدث جہلہ‘‘ میں لکھا ہے:
’’صحیحین میں احکام پر مشتمل بارہ سو احادیث مروی ہیں جن میں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی دونوں کتابوں کی مرویات تقریباً تین سو ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا احکام میں بہت کم روایت کرتی ہیں۔‘‘
(الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 59)
علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ:
’’ہم نے اپنی سند کے ذریعے بقی بن مخلد (یہ بقی بن مخلد بن یزید ابو عبدالرحمٰن اندلسی قرطبی رحمہ اللہ ہیں۔ اپنے وقت کے حدیث کے حافظ و امام اور شیخ الاسلام تھے۔ سب سے پہلے انھوں نے ہی اندلس میں کثرت سے احادیث کی نشر و اشاعت کی بنیاد رکھی۔ یہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے عظیم مجاہد تھے۔ ان کی دو بے مثال مشہور تصنیفات ’’التفسیر‘‘ اور ’’المسند‘‘ ہیں۔ یہ 276 ہجری میں فوت ہوئے۔ (طبقات الحنابلۃ لابن ابی یعلیٰ: جلد 1 صفحہ 118۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 25 صفحہ 285) رحمہ اللہ سے روایت کی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دو ہزار دو سو دس(2210) احادیث روایت کیں اور جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہزاروں احادیث روایت کی ہیں وہ چار ہیں: سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا۔
(الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 59)
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں لکھا ہے:
’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی مرد و زن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو اتنی کثرت سے روایت نہیں کیا جس قدر انھوں (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے روایت کیا۔‘‘
(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 11 صفحہ 338)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تمام صحابہ سے زیادہ احادیث یاد تھیں اس حقیقت کا اعتراف روافض نے بھی کیا۔ چنانچہ ازدی (اللہ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرے جس کا وہ مستحق ہے) نے کہا:
حَفِظَتْ اَرْبَعِیْنَ اَلْفَ حَدِیْثٍ وَ مِنَ الذِّکْرِ آیَۃً تَنْسَاہَا
’’ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کو چالیس ہزار احادیث یاد تھیں۔ اگرچہ قرآن کریم کی وہ ایک آیت بھول گئی۔‘‘
یہ ایک قبیح استعارہ ہے (اللہ تعالیٰ اسے ذلیل و رسوا کرے) وہ کہنا یہ چاہتا ہے کہ ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے جنگ جمل میں شرکت کے وقت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھلا دیا:
وَقَرْنَ فِی بُيُوتِكُنَّ (سورة الاحزاب آیت 33)
ترجمہ:’’اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو۔‘‘
حسن آفندی بزاز موصلی (یہ ملا حسن آفندی بزاز موصلی رحمہ اللہ ہیں۔ ادیب اور صوفی تھے۔ موصل (عراق) میں 1261 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اشعار کہنے میں مشغول رہتے تھے۔ ماہ ربیع الاول 1305 ہجری میں فوت ہوئے۔ (حلیۃ البشر للبیطار: جلد 1 صفحہ 501) رحمہ اللہ نے اللہ کی توفیق سے کتنا خوبصورت جواب دیا ہے اور اس شعر کا کتنے حسین انداز میں رد کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:
خَرَجَتْ نَصْرَۃً لِحَقٍّ حَثِیْثٍ
بِاِجْتِہَادٍ لِلْمُؤْمِنِیْنَ مُغِیْثٍ
فَبِذَا اَرُدُّ قَوْلَ جَنْبٍ خَبِیْثٍ
حَفِظَتْ اَرْبَعِیْنَ اَلْفَ حَدِیْثٍ
’’وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) اپنے اجتہاد کے بل بوتے پر فریاد کناں حقیقی مومنوں کی نصرت کے لیے چل پڑیں۔ اسی وجہ سے میں اس خبیث کی بات کا جواب دے رہا ہوں جس نے کہا کہ انھیں (سیدہ رضی اللہ عنہا کو) چالیس ہزار احادیث یاد تھیں۔‘‘
روایت کرنے کے انداز میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیگر صحابہؓ پر کئی طریقوں سے فضیلت و خصوصیت اور فوقیت حاصل ہے جیسا کہ آئندہ سطور سے واضح ہوتا ہے۔
1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیشتر احادیث وہ روایت کی ہیں جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ سنی ہیں جبکہ ان کے علاوہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم عموماً ایک دوسرے سے سن کر احادیث روایت کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والی کہا جائے تو یہ کوئی بعید از حقیقت نہیں۔ اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت ایسی احادیث روایت کی ہیں جو ان کے علاوہ کسی اور صحابیؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نہیں کیں۔ البتہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیشتر مشترکہ مرویات میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مسند ایسی احادیث سے بھری ہوئی ہے جو اور کسی صحابی کے پاس سے نہیں ملتیں اور جب ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس خصوصیت پر غور کریں تو ہمیں سنت نبویہ کی روایت میں ان کی انفرادیت اور اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ دیگر لوگوں تک احادیث پہنچانے میں بھی ان کی یہ خصوصیت برقرار رہتی ہے۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نہ ہوتیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیشتر سنتیں ضائع ہونے کا اندیشہ تھا۔ خصوصاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ فعلی سنتیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے اندر جاری فرماتے تھے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مسند میں فعلی سنت کی روایات، قولی سنت کی روایات سے زیادہ ہیں ۔
(السیدۃ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء الاسلام لعبد الحمید طہماز: صفحہ 187)
اس کی مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے۔
ایک مرتبہ سعد بن ہشام بن عامر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر کے متعلق پوچھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر کے متعلق روئے زمین پر سب سے بڑی عالمہ کے متعلق نہ بتاؤں؟ انھوں نے کہا: وہ کون ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو، پھر وہ تمھیں جو کچھ بتائیں تم میرے پاس آ کر مجھے بتاؤ۔ سائل ان کے پاس گیا اور کہا: اے ام المؤمنینؓ! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر کے متعلق بتائیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی مسواک اور آپ کے وضو کے لیے پانی رکھ دیتے تھے۔ رات کو جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگانا چاہتا جگا دیتا۔ تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، پھر وضو کرتے اور پھر نو رکعات نماز پڑھتے۔ ان میں سے صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا ذکر اور حمد کرتے اور اللہ سے دعا کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرے بغیر اٹھ جاتے اور نویں رکعت پڑھتے۔ پھر آپﷺ بیٹھ جاتے، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی حمد اور اس سے دعا کرتے۔ پھر آپﷺ اتنی آواز میں سلام پھیرتے کہ ہمیں آپﷺ کی آواز سنائی دیتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت نماز پڑھتے۔ تو اے میرے بیٹے! یہ گیارہ رکعات ہوئیں۔ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبر سنی کو پہنچ گئے اور آپﷺ کے بدن پر گوشت کی مقدار بڑھ گئی تو آپﷺ سات رکعت وتر پڑھتے اور ان کے بعد آپﷺ پہلے کی طرح دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔ تو اے میرے بیٹے! یہ نو رکعات ہوئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز شروع کرتے تو آپﷺ اس پر مداومت کو پسند کرتے اور جب رات کو آپﷺ پر نیند یا مرض غالب ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اٹھ سکتے تو دن میں بارہ رکعات نماز ادا کرتے۔ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک رات میں مکمل قرآن پڑھا اور نہ ہی کسی رات صبح ہونے تک آپﷺ نے نماز پڑھی اور نہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مکمل مہینے کے روزے رکھے۔ ‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 746)
2۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے خاص احوال کی مکمل تفصیل سے بھی واقف تھیں اور اس باب میں انھوں نے امت مسلمہ کو عظیم فائدہ پہنچایا۔ اس کی مثال ابو قیسؓ کی روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں:
’’مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پوچھنے بھیجا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے اور اگر وہ نفی میں جواب دیں تو تم ان سے کہنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں کو بتلا رہی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے میں بوسے لیتے تھے۔‘‘
ابو قیسؓ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے نفی میں جواب دیا۔ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بابت انھیں بتایا تو انھوں نے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ یہ معاملہ فرماتے ہوں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ خصوصی محبت تھی۔ جس کی وجہ سے آپﷺ ان کے ساتھ یہ معاملہ فرما لیتے۔ تاہم جہاں تک میرا معاملہ ہے ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘‘
(اس کی تخریج گزر چکی ہے)
3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں کیا کرتے، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے غسل فرماتے تھے یا غسل کیے بغیر سو جاتے؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کچھ کرتے، کبھی کبھار تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد سوتے اور بعض اوقات آپ وضو کرتے، اور سو جاتے۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 307)
4۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث بھی مروی ہے، کہ آپ فرماتی ہیں:
’’میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر جنابت کی حالت میں صبح کرتے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے۔‘‘
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی ایسی ہی حدیث مروی ہے۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1931۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1109)
5۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کا طریقہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 248، 272۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 316)
بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سنت کو اتنی تفصیل سے بیان کرنے کا اہتمام کیا کہ ان برتنوں کے نام اور پانی کی مقدار تک بتا دی جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتی ہیں:
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل جنابت کرتے جسے ’’فرق‘‘ کہتے ہیں۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 319۔)
راوی حدیث سفیان کے بقول فرق میں تین صاع پانی آ جاتا ہے۔
6۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں وہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے، جس میں تقریباً تین صاع پانی ہوتا۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 321۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت حدیث میں تحقیق و تدقیق نظر مشہور ہے۔ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے الفاظ بخوبی یاد ہوتے۔ تاکہ ان کے معانی تبدیل نہ ہو جائیں۔
7۔ عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ جب انھیں اطلاع ملی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بے شک میت پر زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ابو عبدالرحمٰن کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے، اس نے جھوٹ نہیں بولا لیکن بھول گیا یا اس سے خطا ہو گئی ہے ۔ بات یہ ہے کہ ایک یہودی عورت پر لوگ رو رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّہُمْ لَیَبْکُوْنَ عَلَیْہَا، وَ اِنَّہَا لَتُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِہَا
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 1289۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 932۔)
ترجمہ: ’’وہ تو اس پر رو رہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔‘‘
8۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب حدیث کی سمجھ نہ آتی تو وہ اس کے روایت کرنے والے کا امتحان لیتیں۔ اگر وہ پورے وثوق سے بیان کر دیتا تو آپؓ اسے لے لیتیں اور ان کے اسی اسلوب نے بعد میں آنے والے محدثین کے لیے راویان حدیث پر نقد و جرح کے اصول وضع کرنے میں آسانی مہیا کی۔
چنانچہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے بھانجے! مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ حج کے لیے ہمارے پاس آنے والے ہیں، تم جانا اور ان سے سوالات کرنا، کیونکہ ان کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بے شمار علم ہے۔‘‘
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ان سے ملا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انھوں نے جو روایات کی تھیں ان کے متعلق پوچھا۔ انھوں نے جو کچھ بیان کیا ان میں یہ بات بھی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یکبارگی لوگوں سے علم نہیں اچکے گا بلکہ وہ علماء کو فوت کر دے گا، تو ان کے ساتھ علم بھی اٹھ جائے گا اور لوگوں میں جاہل سردار رہ جائیں گے۔ وہ علم کے بغیر ان کو فتوے دیں گے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ عروہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث بیان کی تو ان پر یہ بہت گراں گزری اور انھوں نے اس کے حدیث ہونے کو تسلیم نہیں کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا واقعی انھوں نے تجھ سے یہ بیان کیا کہ انھوں نے اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟
جب اگلے سال حج کا موسم آیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا بے شک ابن عمرو رضی اللہ عنہ آ چکے ہیں تم جاؤ اور ان سے ملو اور دوبارہ پھر اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھو۔ جو انھوں نے علم کے ضمن میں روایت کی۔
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ان سے ملا اور پوچھا تو انھوں نے ویسے ہی مجھے حدیث سنائی جیسے گزشتہ سال سنائی تھی۔
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ واقعہ سنایا تو وہ پکار اٹھیں میں اسے سچا سمجھتی ہوں، میں انھیں دیکھ رہی ہوں کہ انھوں نے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2673)
9۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس بات کو بخوبی جانتے تھے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو کس قدر اہتمام کے ساتھ احادیث یاد ہیں اور ان کی صحیح و سالم روایت احادیث کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی روایت کردہ احادیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے پیش کرتے تاکہ انھیں صحیح و غیر صحیح کا امتیاز ہو جائے۔
چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے کے پاس آتے اور پکارتے: ’’اے کمرے کی مالکن! ذرا غور سے سنیں۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2493)
علامہ نووی رحمہ اللہ ان کے ان الفاظ یَا رَبَّۃَ الْحُجْرَة) کی تشریح میں لکھتے ہیں:
’’ ان کی مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں اور وہ چاہتے کہ اگر وہ اثبات میں جواب دیں تو ان کی احادیث کو مزید تقویت مل جائے گی، خصوصاً جب وہ ان کی بات سن کر خاموش ہو جائیں اور ان کا انکار نہ کریں۔ البتہ ایک مجلس میں کثرت کے خوف سے وہ ایسا نہ کر پاتے کہ کہیں اس کی وجہ سے وہ سہو و نسیان کا شکار نہ ہو جائیں۔
(شرح مسلم للنووی: جلد 18 صفحہ 129)
اسی طرح جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آپس میں کسی مسئلہ میں اختلاف ہو جاتا تو وہ سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے اس کی تصدیق کراتے۔ جیسا کہ صحیحین میں روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا بے شک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً فَلَہٗ قِیْرَاطٌ (قیراط: اکثر علماء نے کہا کہ اس سے مراد اللہ کے ہاں خاص اجر ہے البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریب افہام کے لیے حدیث میں قیراط کو کوہ احد کے برابر بتایا ہے۔ (فتح الباری لابن حجر رحمه اللہ: جلد 3 صفحہ 195) مِنَ الْاَجْرِ
ترجمہ: ’’جو جنازہ کے پیچھے جائے اسے اجر میں سے ایک قیراط ملے گا۔ ‘‘
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں بہت زیادہ احادیث سناتے ہیں۔ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیج کر ان سے پوچھا تو انھوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے، بلاشبہ ہم نے بے شمار قیراط ضائع کر دئیے۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1323، 1324۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 945۔ السیدۃ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء العالمین لعبد الحمید طہماز: صفحہ 191۔)
اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو درایت نصوص (چھان پھٹک) کا بھی خصوصی ملکہ تھا۔ بلاشک و شبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی افضلیت صرف کثرت روایت ہی میں نہیں بلکہ وہ خصوصیت جو انھیں دوسرے صحابہ سے ممتاز کرتی ہے وہ مطالعہ کی گہرائی، باریک بینی اور دقیق فہم ہے نیز فقہ المسائل اور استنباط میں ان کی قوت اجتہاد اور ان کا عمیق ادراک ہے۔
درج بالا خصوصیات کے ساتھ ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی ایک اور منفرد خصوصیت بھی ہے کہ وہ نصوص سے مستنبط حکم ہی بیان نہیں کرتیں بلکہ وہ اس حکم کی علتیں، اس کی حکمتیں بھی بیان کرتی ہیں اور اس کی مصلحتوں کی تشریح بھی کرتی ہیں۔ ان سے کوئی بھی شرعی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ اس طرح جواب دیتیں کہ سائل مطمئن ہو جاتا اور اس کے ذہن میں وہ حکم شرعی راسخ ہوتا اور وہ اس حکم کی مشروعیت پر مطمئن ہو جاتا۔ اسے سمجھنے کے لیے سب سے واضح دلیل غسل جمعہ کا مسئلہ ہے۔
صحیح بخاری کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا ابو سعید خدری (سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ: یہ سعد بن مالک بن سنان ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں بیعت رضوان (صلح حدیبیہ) کے موقع پر موجود تھے۔ بہت بڑے فقیہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بارہ غزوات میں شرکت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت احادیث یاد کی تھیں۔ 63 ہجری کے قریب وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر رحمه اللہ، جلد 1 صفحہ 181۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 3 صفحہ 78) رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی متواتر درج ذیل تین روایات درج کی جاتی ہیں تاکہ ان کے درمیان فرق واضح ہو سکے۔
1۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ جَائَ مِنْکُمُ الْجُمُعَۃَ فَلْیَغْتَسِلْ
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 894۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 844)
ترجمہ: ’’تم میں سے جو جمعہ کے لیے آئے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔‘‘
2۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
غُسْلُ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 895۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 846)
ترجمہ: ’’ہر بالغ پر جمعہ کے دن کا غسل واجب ہے۔‘‘
3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے لوگ اپنے اپنے گھروں اور مدینہ کی بالائی جانب سے جمعہ کے دن باری باری آتے تھے وہ گرد و غبار میں چل کر آتے تھے۔ ان کے بدن سے گرد و غبار اور پسینے کی وجہ سے بدبو آنے لگتی، ان میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَوْ اَنَّکُمْ تَطَہَّرْتُمْ لِیَوْمِکُمْ ہٰذَا
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 902۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 847)
ترجمہ:’’کاش تم اپنے اس دن کے لیے طہارت (غسل) کر لو۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دوسری روایت میں ہے: ’’لوگ اپنے کام کاج خود (مِہْنَۃً: جمع ماہن یعنی اپنے خادم خود تھے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 376۔) کرتے تھے اور جب وہ جمعہ کے لیے آتے تو وہ اپنی اسی حالت میں چلے آتے چنانچہ انھیں کہا گیا کاش تم غسل کر لیتے۔‘‘
(صحیح بخاری حدیث نمبر 903۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 847۔ سیرۃ السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا للنووی: صفحہ 245 مفہومًا۔)
اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے تصحیح کے لیے جو متون احادیث لائے جاتے انھوں نے ان کی تصحیح کے لیے کچھ وسائل بھی اختیار کر لیے تھے۔