تیسرا نکتہ سنن نبویہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا…

تیسرا نکتہ سنن نبویہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سنت نبویہ کی روایت میں نہایت اہم کردار ہے۔ بلکہ وہ اکثر طور پر صحیح سنت کی توثیق بھی کرتی ہیں اور سیدہ عائشہؓ اس میدان میں راہبر و قائدانہ صلاحیتوں سے متصف تھیں۔ چونکہ سیدہ عائشہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی قریب تھیں، اپنے شرف زوجیت کے سبب سیدہ عائشہؓ کا بہت زیادہ وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزرتا۔ جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کچھ سن لیتیں جو دوسرے نہیں سن سکتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال و کیفیات سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جس طرح باخبر تھیں کوئی دوسرا نہ تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت استفسار کرتیں اور آپﷺ سے مسائل و معاملات کا فہم حاصل کرتیں۔ جو بات انھیں سمجھ نہ آتی وہ ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھ کر اپنی معلومات مکمل کرتی تھیں۔ اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے متعلق وہ روایات جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں دیگر صحابہؓ کی مرویات سے علیحدہ امتیاز اور پہچان رکھتی ہیں۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت قریب رہ کر سنتی تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تربیت پائی اور اپنا قیمتی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر نگرانی گزارا۔

(السیدۃ عائشۃ و توثیقہا للسنۃ لجیہان رفعت فوزی: صفحہ 3، 4۔ مفہوم ادا کیا گیا۔)

چنانچہ محمود بن لبید رحمہ اللہ سے روایت ہے ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ احادیث بکثرت یاد کر لیتیں اور سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما اس میدان میں بے مثال ہیں۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احادیث روایت کیں ان کی تعداد 2210 ہے، جن میں 174 روایات پر شیخین (بخاری و مسلم رحمہما اللہ) متفق ہیں۔ 54 روایات میں امام بخاری رحمہ اللہ منفرد ہیں اور بقیہ مرویات صحاح ستہ، سنن، معاجم اور مسانید وغیرہ میں موجود ہیں۔

امام ابن حزم (ابن حزم: علی بن احمد بن سعید ابو محمد اندلسی رحمہ اللہ ہیں۔ اپنے وقت کے بحر ذخار، متعدد علوم و فنون کے ماہر و حاذق، فقہ ظاہریہ کے علمبردار، حافظ حدیث ہیں۔ 384 ہجری میں پیدا ہوئے۔ ان کی مشہور تصنیفات میں سے ’’المحلی‘‘ اور ’’مراتب الاجماع‘‘ ہیں۔ 456 میں فوت ہوئے۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 18 صفحہ 184۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 3 صفحہ 299۔) رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بکثرت روایت کرنے والوں کے چوتھے مرتبہ میں شمار کیا ہے۔

(مرویات ام المومنین عائشۃ فی التفسیر: صفحہ 9، 10۔ لسعود بن عبداللّٰہ فنیسان: سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 139)

امام سیوطی (یہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن محمد ابو الفضل السیوطی الشافعی رحمہ اللہ ہیں۔ 849 ہجری میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ شیخونیہ میں تعلیم حاصل کی، جب چالیس سال کی عمر کو پہنچے تو اپنے آپ کو انھوں نے عبادت اور تصنیف و تالیف کے لیے وقف کر دیا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے پیچھے کم و بیش 600 تصنیفات چھوڑیں۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’الاشباہ و النظائر‘‘ اور ’’تدریب الراوی‘‘ ہیں۔ 911 ہجری میں فوت ہوئے۔ (شذرات الذہب لابن العماد: جلد 8 صفحہ 50۔ الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 301۔) رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بکثرت روایت کرنے والے سات صحابہ میں شمار کیا۔

امام سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی یہ رائے ان اشعار میں واضح کی:

وَ الْمُکْثِرُوْنَ فِیْ رِوَایَۃِ الْاَثَرِ اَبُوْ ہُرَیَرَۃَ یَلِیْہِ ابْنُ عُمَرَ

وَ اَنَسٌ وَ الْبَحْرُ کَالْخُدْرِیِّ وَ جَابِرٌ وَ زَوْجَۃُ النَّبِیِّ رضی اللّٰه عنہم

’’حدیث کو کثرت سے روایت کرنے والوں میں سیدنا ابوہریرہ، ابن عمر اور انس ہیں جب کہ ابو سعید خدری، جابر اور زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سمندر ہیں۔‘‘

(الفیۃ السیوطی فی علم الحدیث: صفحہ 108)

حافظ ابو حفص میانشی (یہ عمر بن عبدالمجید بن عمر ابو حفص میانشی رحمہ اللہ ہیں۔ مکہ کے قاضی اور وہاں کے بڑے شیخ اور خطیب تھے۔ عالم، زاہد اور ثقہ تھے۔ بے شمار لوگوں نے ان سے علم حاصل کیا۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’ما لا یسع المحدث جہلہ‘‘ اور ’’الاختیار فی الملح و الاخبار‘‘ ہیں۔ یہ 581ھ میں فوت ہوئے۔ (التحفۃ اللطیفۃ للسخاوی: جلد 2 صفحہ 348۔ الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 53) رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ایضاح ما لا یسع المحدث جہلہ‘‘ میں لکھا ہے:

’’صحیحین میں احکام پر مشتمل بارہ سو احادیث مروی ہیں جن میں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی دونوں کتابوں کی مرویات تقریباً تین سو ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا احکام میں بہت کم روایت کرتی ہیں۔‘‘

(الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 59)

علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ:

’’ہم نے اپنی سند کے ذریعے بقی بن مخلد (یہ بقی بن مخلد بن یزید ابو عبدالرحمٰن اندلسی قرطبی رحمہ اللہ ہیں۔ اپنے وقت کے حدیث کے حافظ و امام اور شیخ الاسلام تھے۔ سب سے پہلے انھوں نے ہی اندلس میں کثرت سے احادیث کی نشر و اشاعت کی بنیاد رکھی۔ یہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے عظیم مجاہد تھے۔ ان کی دو بے مثال مشہور تصنیفات ’’التفسیر‘‘ اور ’’المسند‘‘ ہیں۔ یہ 276 ہجری میں فوت ہوئے۔ (طبقات الحنابلۃ لابن ابی یعلیٰ: جلد 1 صفحہ 118۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 25 صفحہ 285) رحمہ اللہ سے روایت کی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دو ہزار دو سو دس(2210) احادیث روایت کیں اور جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہزاروں احادیث روایت کی ہیں وہ چار ہیں: سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا۔

(الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 59)

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں لکھا ہے:

صفحہ 1 از 5