تیسرا نکتہ سنن نبویہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا…

تیسرا نکتہ سنن نبویہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی مرد و زن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو اتنی کثرت سے روایت نہیں کیا جس قدر انھوں (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے روایت کیا۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 11 صفحہ 338)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تمام صحابہ سے زیادہ احادیث یاد تھیں اس حقیقت کا اعتراف روافض نے بھی کیا۔ چنانچہ ازدی (اللہ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرے جس کا وہ مستحق ہے) نے کہا:

حَفِظَتْ اَرْبَعِیْنَ اَلْفَ حَدِیْثٍ وَ مِنَ الذِّکْرِ آیَۃً تَنْسَاہَا

’’ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کو چالیس ہزار احادیث یاد تھیں۔ اگرچہ قرآن کریم کی وہ ایک آیت بھول گئی۔‘‘

یہ ایک قبیح استعارہ ہے (اللہ تعالیٰ اسے ذلیل و رسوا کرے) وہ کہنا یہ چاہتا ہے کہ ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے جنگ جمل میں شرکت کے وقت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھلا دیا:

 وَقَرْنَ فِی بُيُوتِكُنَّ (سورة الاحزاب آیت 33)

ترجمہ:’’اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو۔‘‘

حسن آفندی بزاز موصلی (یہ ملا حسن آفندی بزاز موصلی رحمہ اللہ ہیں۔ ادیب اور صوفی تھے۔ موصل (عراق) میں 1261 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اشعار کہنے میں مشغول رہتے تھے۔ ماہ ربیع الاول 1305 ہجری میں فوت ہوئے۔ (حلیۃ البشر للبیطار: جلد 1 صفحہ 501) رحمہ اللہ نے اللہ کی توفیق سے کتنا خوبصورت جواب دیا ہے اور اس شعر کا کتنے حسین انداز میں رد کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

خَرَجَتْ نَصْرَۃً لِحَقٍّ حَثِیْثٍ

بِاِجْتِہَادٍ لِلْمُؤْمِنِیْنَ مُغِیْثٍ

فَبِذَا اَرُدُّ قَوْلَ جَنْبٍ خَبِیْثٍ

حَفِظَتْ اَرْبَعِیْنَ اَلْفَ حَدِیْثٍ

’’وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) اپنے اجتہاد کے بل بوتے پر فریاد کناں حقیقی مومنوں کی نصرت کے لیے چل پڑیں۔ اسی وجہ سے میں اس خبیث کی بات کا جواب دے رہا ہوں جس نے کہا کہ انھیں (سیدہ رضی اللہ عنہا کو) چالیس ہزار احادیث یاد تھیں۔‘‘

روایت کرنے کے انداز میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیگر صحابہؓ پر کئی طریقوں سے فضیلت و خصوصیت اور فوقیت حاصل ہے جیسا کہ آئندہ سطور سے واضح ہوتا ہے۔

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیشتر احادیث وہ روایت کی ہیں جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ سنی ہیں جبکہ ان کے علاوہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم عموماً ایک دوسرے سے سن کر احادیث روایت کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والی کہا جائے تو یہ کوئی بعید از حقیقت نہیں۔ اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت ایسی احادیث روایت کی ہیں جو ان کے علاوہ کسی اور صحابیؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نہیں کیں۔ البتہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیشتر مشترکہ مرویات میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مسند ایسی احادیث سے بھری ہوئی ہے جو اور کسی صحابی کے پاس سے نہیں ملتیں اور جب ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس خصوصیت پر غور کریں تو ہمیں سنت نبویہ کی روایت میں ان کی انفرادیت اور اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ دیگر لوگوں تک احادیث پہنچانے میں بھی ان کی یہ خصوصیت برقرار رہتی ہے۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نہ ہوتیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیشتر سنتیں ضائع ہونے کا اندیشہ تھا۔ خصوصاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ فعلی سنتیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے اندر جاری فرماتے تھے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مسند میں فعلی سنت کی روایات، قولی سنت کی روایات سے زیادہ ہیں ۔

(السیدۃ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء الاسلام لعبد الحمید طہماز: صفحہ 187)

اس کی مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے۔

ایک مرتبہ سعد بن ہشام بن عامر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر کے متعلق پوچھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر کے متعلق روئے زمین پر سب سے بڑی عالمہ کے متعلق نہ بتاؤں؟ انھوں نے کہا: وہ کون ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو، پھر وہ تمھیں جو کچھ بتائیں تم میرے پاس آ کر مجھے بتاؤ۔ سائل ان کے پاس گیا اور کہا: اے ام المؤمنینؓ! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر کے متعلق بتائیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

صفحہ 2 از 5