تیسرا نکتہ سنن نبویہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا…

تیسرا نکتہ سنن نبویہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی مسواک اور آپ کے وضو کے لیے پانی رکھ دیتے تھے۔ رات کو جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگانا چاہتا جگا دیتا۔ تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، پھر وضو کرتے اور پھر نو رکعات نماز پڑھتے۔ ان میں سے صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا ذکر اور حمد کرتے اور اللہ سے دعا کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرے بغیر اٹھ جاتے اور نویں رکعت پڑھتے۔ پھر آپﷺ بیٹھ جاتے، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی حمد اور اس سے دعا کرتے۔ پھر آپﷺ اتنی آواز میں سلام پھیرتے کہ ہمیں آپﷺ کی آواز سنائی دیتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت نماز پڑھتے۔ تو اے میرے بیٹے! یہ گیارہ رکعات ہوئیں۔ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبر سنی کو پہنچ گئے اور آپﷺ کے بدن پر گوشت کی مقدار بڑھ گئی تو آپﷺ سات رکعت وتر پڑھتے اور ان کے بعد آپﷺ پہلے کی طرح دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔ تو اے میرے بیٹے! یہ نو رکعات ہوئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز شروع کرتے تو آپﷺ اس پر مداومت کو پسند کرتے اور جب رات کو آپﷺ پر نیند یا مرض غالب ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اٹھ سکتے تو دن میں بارہ رکعات نماز ادا کرتے۔ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک رات میں مکمل قرآن پڑھا اور نہ ہی کسی رات صبح ہونے تک آپﷺ نے نماز پڑھی اور نہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مکمل مہینے کے روزے رکھے۔ ‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 746)

2۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے خاص احوال کی مکمل تفصیل سے بھی واقف تھیں اور اس باب میں انھوں نے امت مسلمہ کو عظیم فائدہ پہنچایا۔ اس کی مثال ابو قیسؓ کی روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں:

’’مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پوچھنے بھیجا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے اور اگر وہ نفی میں جواب دیں تو تم ان سے کہنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں کو بتلا رہی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے میں بوسے لیتے تھے۔‘‘

ابو قیسؓ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے نفی میں جواب دیا۔ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بابت انھیں بتایا تو انھوں نے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ یہ معاملہ فرماتے ہوں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ خصوصی محبت تھی۔ جس کی وجہ سے آپﷺ ان کے ساتھ یہ معاملہ فرما لیتے۔ تاہم جہاں تک میرا معاملہ ہے ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے)

3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں کیا کرتے، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے غسل فرماتے تھے یا غسل کیے بغیر سو جاتے؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کچھ کرتے، کبھی کبھار تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد سوتے اور بعض اوقات آپ وضو کرتے، اور سو جاتے۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 307)

4۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث بھی مروی ہے، کہ آپ فرماتی ہیں:

’’میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر جنابت کی حالت میں صبح کرتے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے۔‘‘

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی ایسی ہی حدیث مروی ہے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1931۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1109)

5۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کا طریقہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 248، 272۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 316)

بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سنت کو اتنی تفصیل سے بیان کرنے کا اہتمام کیا کہ ان برتنوں کے نام اور پانی کی مقدار تک بتا دی جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتی ہیں:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل جنابت کرتے جسے ’’فرق‘‘ کہتے ہیں۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 319۔)

راوی حدیث سفیان کے بقول فرق میں تین صاع پانی آ جاتا ہے۔

6۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں وہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے، جس میں تقریباً تین صاع پانی ہوتا۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 321۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت حدیث میں تحقیق و تدقیق نظر مشہور ہے۔ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے الفاظ بخوبی یاد ہوتے۔ تاکہ ان کے معانی تبدیل نہ ہو جائیں۔

7۔ عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ جب انھیں اطلاع ملی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بے شک میت پر زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ابو عبدالرحمٰن کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے، اس نے جھوٹ نہیں بولا لیکن بھول گیا یا اس سے خطا ہو گئی ہے ۔ بات یہ ہے کہ ایک یہودی عورت پر لوگ رو رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِنَّہُمْ لَیَبْکُوْنَ عَلَیْہَا، وَ اِنَّہَا لَتُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِہَا 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 1289۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 932۔)

ترجمہ: ’’وہ تو اس پر رو رہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔‘‘

8۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب حدیث کی سمجھ نہ آتی تو وہ اس کے روایت کرنے والے کا امتحان لیتیں۔ اگر وہ پورے وثوق سے بیان کر دیتا تو آپؓ اسے لے لیتیں اور ان کے اسی اسلوب نے بعد میں آنے والے محدثین کے لیے راویان حدیث پر نقد و جرح کے اصول وضع کرنے میں آسانی مہیا کی۔

چنانچہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے بھانجے! مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ حج کے لیے ہمارے پاس آنے والے ہیں، تم جانا اور ان سے سوالات کرنا، کیونکہ ان کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بے شمار علم ہے۔‘‘

صفحہ 3 از 5