تیسرا نکتہ سنن نبویہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا…

تیسرا نکتہ سنن نبویہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ان سے ملا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انھوں نے جو روایات کی تھیں ان کے متعلق پوچھا۔ انھوں نے جو کچھ بیان کیا ان میں یہ بات بھی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یکبارگی لوگوں سے علم نہیں اچکے گا بلکہ وہ علماء کو فوت کر دے گا، تو ان کے ساتھ علم بھی اٹھ جائے گا اور لوگوں میں جاہل سردار رہ جائیں گے۔ وہ علم کے بغیر ان کو فتوے دیں گے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ عروہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث بیان کی تو ان پر یہ بہت گراں گزری اور انھوں نے اس کے حدیث ہونے کو تسلیم نہیں کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا واقعی انھوں نے تجھ سے یہ بیان کیا کہ انھوں نے اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟

جب اگلے سال حج کا موسم آیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا بے شک ابن عمرو رضی اللہ عنہ آ چکے ہیں تم جاؤ اور ان سے ملو اور دوبارہ پھر اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھو۔ جو انھوں نے علم کے ضمن میں روایت کی۔

عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ان سے ملا اور پوچھا تو انھوں نے ویسے ہی مجھے حدیث سنائی جیسے گزشتہ سال سنائی تھی۔

عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ واقعہ سنایا تو وہ پکار اٹھیں میں اسے سچا سمجھتی ہوں، میں انھیں دیکھ رہی ہوں کہ انھوں نے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2673)

9۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس بات کو بخوبی جانتے تھے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو کس قدر اہتمام کے ساتھ احادیث یاد ہیں اور ان کی صحیح و سالم روایت احادیث کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی روایت کردہ احادیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے پیش کرتے تاکہ انھیں صحیح و غیر صحیح کا امتیاز ہو جائے۔

چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے کے پاس آتے اور پکارتے: ’’اے کمرے کی مالکن! ذرا غور سے سنیں۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2493)

علامہ نووی رحمہ اللہ ان کے ان الفاظ یَا رَبَّۃَ الْحُجْرَة) کی تشریح میں لکھتے ہیں: 

’’ ان کی مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں اور وہ چاہتے کہ اگر وہ اثبات میں جواب دیں تو ان کی احادیث کو مزید تقویت مل جائے گی، خصوصاً جب وہ ان کی بات سن کر خاموش ہو جائیں اور ان کا انکار نہ کریں۔ البتہ ایک مجلس میں کثرت کے خوف سے وہ ایسا نہ کر پاتے کہ کہیں اس کی وجہ سے وہ سہو و نسیان کا شکار نہ ہو جائیں۔

(شرح مسلم للنووی: جلد 18 صفحہ 129)

اسی طرح جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آپس میں کسی مسئلہ میں اختلاف ہو جاتا تو وہ سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے اس کی تصدیق کراتے۔ جیسا کہ صحیحین میں روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا بے شک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً فَلَہٗ قِیْرَاطٌ (قیراط: اکثر علماء نے کہا کہ اس سے مراد اللہ کے ہاں خاص اجر ہے البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریب افہام کے لیے حدیث میں قیراط کو کوہ احد کے برابر بتایا ہے۔ (فتح الباری لابن حجر رحمه اللہ: جلد 3 صفحہ 195) مِنَ الْاَجْرِ

ترجمہ: ’’جو جنازہ کے پیچھے جائے اسے اجر میں سے ایک قیراط ملے گا۔ ‘‘

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں بہت زیادہ احادیث سناتے ہیں۔ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیج کر ان سے پوچھا تو انھوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے، بلاشبہ ہم نے بے شمار قیراط ضائع کر دئیے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1323، 1324۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 945۔ السیدۃ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء العالمین لعبد الحمید طہماز: صفحہ 191۔)

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو درایت نصوص (چھان پھٹک) کا بھی خصوصی ملکہ تھا۔ بلاشک و شبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی افضلیت صرف کثرت روایت ہی میں نہیں بلکہ وہ خصوصیت جو انھیں دوسرے صحابہ سے ممتاز کرتی ہے وہ مطالعہ کی گہرائی، باریک بینی اور دقیق فہم ہے نیز فقہ المسائل اور استنباط میں ان کی قوت اجتہاد اور ان کا عمیق ادراک ہے۔

درج بالا خصوصیات کے ساتھ ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی ایک اور منفرد خصوصیت بھی ہے کہ وہ نصوص سے مستنبط حکم ہی بیان نہیں کرتیں بلکہ وہ اس حکم کی علتیں، اس کی حکمتیں بھی بیان کرتی ہیں اور اس کی مصلحتوں کی تشریح بھی کرتی ہیں۔ ان سے کوئی بھی شرعی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ اس طرح جواب دیتیں کہ سائل مطمئن ہو جاتا اور اس کے ذہن میں وہ حکم شرعی راسخ ہوتا اور وہ اس حکم کی مشروعیت پر مطمئن ہو جاتا۔ اسے سمجھنے کے لیے سب سے واضح دلیل غسل جمعہ کا مسئلہ ہے۔

صحیح بخاری کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا ابو سعید خدری (سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ: یہ سعد بن مالک بن سنان ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں بیعت رضوان (صلح حدیبیہ) کے موقع پر موجود تھے۔ بہت بڑے فقیہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بارہ غزوات میں شرکت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت احادیث یاد کی تھیں۔ 63 ہجری کے قریب وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر رحمه اللہ، جلد 1 صفحہ 181۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 3 صفحہ 78) رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی متواتر درج ذیل تین روایات درج کی جاتی ہیں تاکہ ان کے درمیان فرق واضح ہو سکے۔

1۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

مَنْ جَائَ مِنْکُمُ الْجُمُعَۃَ فَلْیَغْتَسِلْ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 894۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 844)

ترجمہ: ’’تم میں سے جو جمعہ کے لیے آئے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔‘‘

2۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صفحہ 4 از 5