تیسرا نکتہ سنن نبویہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا…

تیسرا نکتہ سنن نبویہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

غُسْلُ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 895۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 846)

ترجمہ: ’’ہر بالغ پر جمعہ کے دن کا غسل واجب ہے۔‘‘

3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے لوگ اپنے اپنے گھروں اور مدینہ کی بالائی جانب سے جمعہ کے دن باری باری آتے تھے وہ گرد و غبار میں چل کر آتے تھے۔ ان کے بدن سے گرد و غبار اور پسینے کی وجہ سے بدبو آنے لگتی، ان میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَوْ اَنَّکُمْ تَطَہَّرْتُمْ لِیَوْمِکُمْ ہٰذَا

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 902۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 847)

ترجمہ:’’کاش تم اپنے اس دن کے لیے طہارت (غسل) کر لو۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دوسری روایت میں ہے: ’’لوگ اپنے کام کاج خود (مِہْنَۃً: جمع ماہن یعنی اپنے خادم خود تھے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 376۔) کرتے تھے اور جب وہ جمعہ کے لیے آتے تو وہ اپنی اسی حالت میں چلے آتے چنانچہ انھیں کہا گیا کاش تم غسل کر لیتے۔‘‘

(صحیح بخاری حدیث نمبر 903۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 847۔ سیرۃ السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا للنووی: صفحہ 245 مفہومًا۔)

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے تصحیح کے لیے جو متون احادیث لائے جاتے انھوں نے ان کی تصحیح کے لیے کچھ وسائل بھی اختیار کر لیے تھے۔


صفحہ 5 از 5