Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حدیث کو قرآن پر پیش کرنا

  علی محمد الصلابی

الف: حدیث کو قرآن پر پیش کرنا

چنانچہ مسئلہ رویت الہٰی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات تسلیم نہ کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے اور اپنے اس انکار قرآن کی اس آیت سے تقویت دی جو بعض صحابہؓ کی مرویات میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

لَا تُدۡرِكُهُ الۡاَبۡصَارُ وَهُوَ يُدۡرِكُ الۡاَبۡصَارَ‌ ۞ (سورۃ الأنعام آیت 103)

ترجمہ: نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں، اور وہ تمام نگاہوں کو پالیتا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پیش کیا:

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحۡيًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآىٴِ حِجَابٍ اَوۡ يُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَيُوۡحِىَ بِاِذۡنِهٖ مَا يَشَآءُ‌۞ (سورۃ الشورى آیت 51)

ترجمہ: اور کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ اس سے (روبرو) بات کرے۔ سوائے اس کے کہ وہ وحی کے ذریعے ہو، یا کسی پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام لانے والا (فرشتہ) بھیج دے، اور وہ اس کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کا پیغام پہنچا دے۔ 

ب: اسی طرح وہ حدیث جس میں ہے کہ ’’بے شک میت کو اس کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر یہ شبہ ظاہر کیا کہ اس طرح گویا میت کو دوسروں کے گناہ سے عذاب ہوتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛

وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ ۞ (سورۃ الإسراء آیت 15)

ترجمہ: اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

تو انھوں نے حدیث کو یوں صحیح کہا کہ کافر میت کے اہل خانہ اس پر روتے ہیں اور اسے عذاب ہو رہا ہوتا ہے۔

(اس حدیث کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔ )

ب: حدیث کو سنت پر پیش کرنا

اس کی مثال اَلْمَائُ مِنَ الْمَائ منی سے غسل واجب ہوتا ہے۔ والی روایت پر ان کا اعتراض ہے کہ ان کے علم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

اِذَا الْتَقَی الْخَتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ 

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

’’جب ختنے والے مقامات آپس میں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔‘‘

ج: حدیث کو قیاس پر پیش کرنا

اس کی مثال جنازہ اٹھانے سے وضو کرنے والی حدیث ہے، اگرچہ انھوں نے اس روایت کے انکار کے لیے اس حدیث پر اعتماد کیا کہ مومن ناپاک نہیں ہوتا زندہ ہو یا میت۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بقول مسلمان طاہر ہوتا ہے اور وہ موت سے ناپاک نہیں ہوتا۔ اسی لیے اس کی نعش بھی پاک ہوتی ہے۔ تو اس کے اٹھانے سے وضو کیسے لازم آئے گا۔

(السیدۃ عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا و توثیقہا للسنۃ لجیہان رفعت فوزی: صفحہ 116)

پھر انھوں نے تفکر و تدبر کیا اور کہا: کیا مسلمان میت نجس ہوتی ہے؟ اور اگر کوئی آدمی لکڑی (چارپائی) اٹھائے تو اس پر وضو کیسے واجب ہو گا؟

(اسے بیہقی نے روایت کیا۔ جلد 1 صفحہ 307 حدیث نمبر: 1527۔)

گویا اس نے مسلمان کے جنازہ کے اٹھانے کو چارپائی کو کندھا دینے پر قیاس کیا اور نتیجہ یہ نکالا کہ چارپائی اٹھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسی قیاس سے استدلال کیا۔

(السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا و توثیقہا للسنۃ لجیہان فوزی: صفحہ 80)

د: حدیث کو صحابہ کے اقوال پر پیش کرنا

چونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی وہی کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو۔ بالفاظ دیگر جو قول یا فعل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر نہ ہو یا وہ منسوخ ہو چکا ہو تو شاید کوئی صحابی لاعلمی میں کسی صحیح حدیث کے برخلاف کچھ کہہ دے۔ ایسے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حدیث کو اسی صحابی یا صحابیہ کی روایت پر پیش کرتیں جس کے متعلق غالب ظن یہ ہوتا کہ اس سے حقیقت مخفی نہیں ہو گی۔ اگر واقعی کوئی فعل یا قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوا ہو جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ خاص معاملات جو امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ خاص تھے یا وہ امور جو خاوند اور بیوی کے درمیان خاص ہوتے ہیں۔

(السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا و توثیقہا للسنۃ لجیہان فوزی: صفحہ 81)