Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چوتھا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فقہ و فتاویٰ کے ساتھ گہرا شغف

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اگر تمام مسلمان خواتین میں سے سب بڑی فقیہہ اور عالمہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ بلکہ تمام صحابہ کرامؓ میں بڑی فقیہہ تھیں۔ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام لوگوں سے زیادہ فقیہہ، زیادہ عالمہ اور اکثر مسائل میں زیادہ احسن رائے والی خاتون تھیں۔

(اسے لالکائی نے شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ: جلد 8 صفحہ 1521، حدیث نمبر: 2762 میں روایت کیا۔ مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 15، حدیث نمبر: 6748 اور ذہبی نے التلخیص میں اس روایت پر سکوت اختیار کیا۔

شیخ ابو اسحق شیرازی ( یہ ابراہیم بن علی بن یوسف ابو اسحاق شیرازی شافعی ہیں۔ 393 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علم و عمل اور زہد و ورع میں شیخ الاسلام کہلائے۔ بطور حازق مناظر مشہور ہوئے۔ ان کے وزیر نظام الملک طوسی نے مدرسہ نظامیہ بنایا۔ ان کی تصنیفات میں ’’التنبیہ‘‘ اور ’’اللمع‘‘ مشہور ہیں۔ 476 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 18 صفحہ 452۔ طبقات الشافعیۃ للسبکی: جلد 4 صفحہ 215۔) نے یہ روایت اپنی کتاب طبقات الفقہاء میں صحابہ فقہاء کے ضمن میں نقل کی۔

(طبقات الفقہاء لابی اسحق شیرازی: صفحہ 47۔ الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 59)

ابن حزم رحمہ اللہ نے جب ان صحابہؓ کا ذکر کیا جن سے فتاویٰ منقول ہیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سب سے پہلے تذکرہ کیا۔

(جوامع السیرۃ لابن حزم: صفحہ 319۔ الاجابۃ لا یراد: صفحہ 59)

علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے کہا:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطلق طور پر امت کی تمام خواتین میں سے زیادہ فقیہہ ہیں۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 135)

فتویٰ دینے کی نوبت آتی یا کوئی فقہی اشکال ہوتا اکابر صحابہ اسے حل کروانے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کرتے۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

’’ہم اصحاب رسول اللہ پر جب بھی کسی حدیث میں کوئی مشکل پیش آتی تو ہم اس کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھتے تو وہ ہمیں ضرور آگاہ کرتیں۔‘‘

(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3883۔ اس نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ الکامل فی الضعفاء لابن عدی: جلد 4 صفحہ 144۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 179 میں ذہبیؒ نے لکھا یہ حسن غریب ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں اسے صحیح کہا ہے۔ حدیث نمبر: 3833۔ 

عبدالرحمٰن بن قاسم رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خلافت سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے لے کر تا حیات افتاء کو جاری رکھا نیز وہ مجھ پر خصوصی شفقت بھی کرتی تھیں۔‘‘

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: جلد 2 صفحہ 375۔ اور ابن عساکر نے تاریخ دمشق: جلد 49 صفحہ 165 پر اسے نقل کیا۔)

محمود بن لبید نے لکھا:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کے عہود خلافت سے لے کر تاحیات افتاء سے وابستہ رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکابر صحابہ کرامؓ جیسے عمر و عثمان اور دیگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اپنے اشکالات بھیجتے اور سنن نبویہ کے متعلق ان سے پوچھتے رہتے۔‘‘

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 2 صفحہ 375)

مسروق رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکابر صحابہ کرام کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرائض (میراث و احکام) کے متعلق سوال کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘

(سنن سعید بن منصور: حدیث 287۔ مصنف ابن ابی شیبۃ: حدیث نمبر 31037۔ سنن دارمی: جلد 2 صفحہ 442، حدیث نمبر: 2859۔ معجم الطبرانی: جلد 23 صفحہ 181، حدیث نمبر: 19245، مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 12۔)

علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جن اصحاب کرام رضی اللہ عنہم سے فتاویٰ جات نقل کیے گئے ہیں ان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہیں ان میں مرد و زن سب حضرات شامل ہیں جن میں سے سات بکثرت فتاویٰ دیتے تھے:

(1) سیدنا عمر بن خطاب

(2) سیدنا علی بن ابی طالب

(3) سیدنا عبداللہ بن مسعود

(4) سیدہ عائشہ ام المومنین

(5) سیدنا زید بن ثابت

(6) سیدنا عبداللہ بن عباس اور

(7) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم۔

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے لکھا درج بالا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہر ایک کے فتاویٰ سے ایک ضخیم مجلد تیار ہو سکتی ہے۔

(اعلام الموقعین عن رب العٰلمین لابن قیم الجوزیۃ: جلد 1 صفحہ 15۔)

علامہ سخاوی ( یہ محمد بن عبدالرحمٰن بن محمد ابو الخیر سخاوی شافعی المذہب ہیں۔ 831 ہجری میں پیدا ہوۓ۔ فقہ، علوم لغت اور قرأت قرآنیہ میں رسوخ حاصل کیا پھر علوم حدیث کی طرف توجہ کی تو خداداد صلاحیتوں کے ساتھ جیسے قرأۃ اور قوت حافظہ کے ذریعے ڈھیر ساری مرویات جمع کر لیں۔ ان کی مشہور تصنیف ’’فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث‘‘ ہے۔ 90 ہجری میں وفات پائیرحمہ اللہ نے لکھا:

’’صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے سات صحابہ بکثرت افتاء کے ساتھ مشہور ہوئے:

(1) عمر، (2) علی، (3) ابن مسعود، (4) ابن عمر، (5) ابن عباس، (6) زید بن ثابت، (7) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم۔

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے لکھا ممکن ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے فتاویٰ سے ایک ضخیم مجلد تیار کر لی جائے۔

(فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث للسخاوی: جلد 3 صفحہ 117)

علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے لکھا:

’’وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ادوارِ خلافت سے لے کر تاحیات فتاویٰ جاری کرتی رہیں۔‘‘

(اسعاف المبطأ برجال المؤطأ للسیوطی: صفحہ 35)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسائل دینیہ کے متعلق کسی بھی استفتاء سے پریشان نہ ہوتیں اور نہ کسی قسم کی تنگی محسوس کرتی تھیں اور اگر کوئی خاص مسائل ہوتے تو وہ سوال کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتیں اور جو خاص مسائل پوچھنے سے شرماتے تو ان کی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے تربیت کرتیں:

وَاللّٰهُ لَا يَسۡتَحۡىٖ مِنَ الۡحَـقِّ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 53)

ترجمہ: اور اللہ حق بات کہنے سے شرماتا نہیں۔‘‘

وہ سائل کو اطمینان دلاتیں اور کہتی تھیں میں تیری ماں ہوں تو مجھ سے وہ مسئلہ پوچھنے سے مت شرم کر جو مسئلہ تو اپنی ماں سے پوچھ سکتا ہے۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 349۔ سیرۃ السیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا للندوی: صفحہ 330)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صرف فقہ الحدیث و السنۃ اور اس کے مطابق فتویٰ پر ہی اکتفا نہ کرتی تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کتاب و سنت سے مسائل مستنبط کرنے کا بھی خصوصی ملکہ عطا کیا تھا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سعد بن ہشام رحمہ اللہ ان کے پاس آئے اور کہا میں آپؓ سے تبتل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس کے بارے میں آپؓ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے فرمایا:

’’تم ایسا ہر گز نہ کرو ، کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں سنا:

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِكَ وَ جَعَلۡنَا لَهُمۡ اَزۡوَاجًا وَّذُرِّيَّةً ۞ (سورۃ الرعد آیت 38)

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں اور انہیں بیوی بچے بھی عطا فرمائے ہیں۔

لہٰذا تو تبتل نہ کر۔‘‘

(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 1082 کے بعد۔ سنن نسائی: جلد 6 صفحہ 60۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 97 حدیث نمبر: 24704۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن نسائی میں کہا اگر سعد سے حسن کا سماع ثابت ہو جائے تو پھر یہ روایت صحیح ہے اور شعیب ارناؤط نے مسند احمد کی تحقیق میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔)

سیدہ صفیہ بنت حیی ام المؤمنین رضی اللہ عنہا جب حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ سے واپسی کے دن حائضہ ہو گئیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا اس نے ہمیں روک لیا ہے۔‘‘ کہا گیا وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں۔ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’پھر (رکنے کی) ضرورت نہیں۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1757۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1211)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ استنباط کیا کہ طواف وداع معذور افراد پر واجب نہیں، تو وہ تمام خواتین جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حج پر جاتیں وہ اسی حکم پر عمل کرتیں۔ عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتی ہیں:

’’ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب حج پر جاتیں اور ان کے ساتھ والی عورتوں کو حیض آنے کا اندیشہ ہوتا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کو نحر والے دن (دس ذوالحجہ) کو طواف افاضہ کے لیے بیت اللہ بھیج دیتیں۔ وہ طواف افاضہ کر لیتیں اور اگر ان کو اس کے بعد حیض آ بھی جاتا تو وہ ان کا انتظار نہ کرتیں بلکہ ان کو ساتھ لے کر مکہ سے نکل جاتیں۔ حالانکہ چند عورتوں کو حیض شروع ہو جاتا، لیکن وہ طواف افاضہ کر چکی ہوتی تھیں۔‘‘

(مؤطا امام مالک: جلد 3 صفحہ 605۔ معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: جلد 7 صفحہ 353، حدیث نمبر: 3191۔ سیرۃ السیدۃ عائشۃ ام المؤمنین للندوی: صفحہ 271۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مشہور فقہی آراء درج ذیل ہیں: 

(السیدۃ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء العالمین لعبد الحمید طہماز: صفحہ 197۔ سیرۃ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا و جہودہا فی الدعوۃ و الاحتساب للجوہرۃ بنت صالح الطریفی: صفحہ 222، 178۔ و موسوعۃ فقہ عائشۃ ام المؤمنین لسعید فائز دخیل۔)

1۔ ان کے نزدیک بلی کا جوٹھا پاک ہے۔

2۔ فحش کلامی کے بعد وضو مستحب ہے۔

3۔ اپنی بیوی کو چھونے یا بوسہ لینے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

4۔ ختنے کے مقامات ملنے سے مرد و عورت دونوں پر غسل واجب ہو جاتا ہے اگرچہ انزال نہ ہو۔

5۔ حیض کے آخر میں زرد رنگ حیض میں شامل ہے۔

6۔ مستحاضہ عورت اپنے معمول کے مطابق حیض کے دنوں تک عبادت سے رکی رہے گی پھر ایک بار غسل کر کے ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔

7۔ حیض کا خون کپڑے سے کھرچنے اور دھونے کے بعد اس کا رنگ اگر کپڑے پر باقی رہ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔

8۔ خاوند اپنی حائضہ بیوی سے سے تلذذ و فائدہ اٹھا سکتا ہے جب اس نے ازار بند باندھا ہوا ہو۔

9۔ جنبی کو جس کپڑے میں پسینہ آئے وہ پاک ہے۔

10۔ نماز عشاء سے پہلے نیند اور اس کے بعد گپ شپ لگانا مکروہ ہے۔

11۔ نمازی نماز کے دوران اپنے پہلو پر ہاتھ نہ رکھے۔

12۔ غلام نماز کی امامت کرا سکتا ہے۔

13۔ دوران سفر پوری نماز پڑھی جا سکتی ہے۔

14۔ فجر کی دو سنتوں میں تخفیف مستحب ہے۔

15۔ عورت جب اکیلے نماز پڑھنا چاہے تو وہ اپنے آپ کے لیے اذان و اقامت کہہ سکتی ہے۔

16۔ بالغ عورت کی نماز بغیر سر ڈھانپے درست نہیں۔

17۔ جمعہ کے دن غسل واجب نہیں۔

18۔ سجدۂ تلاوت واجب نہیں۔

19۔ میت کو اس کے مرنے کی جگہ سے کسی اور جگہ لے جا کر دفن کے لیے منتقل کرنا مکروہ ہے۔

20۔ حاملہ کو حیض نہیں آتا۔

21۔ سویا ہوا بیدار ہو کر اپنے کپڑوں میں تری دیکھے اگرچہ اسے احتلام ہونے کا سبب یاد نہ ہو تو اس پر غسل واجب ہے۔

22۔ مسجد میں میت پر نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے۔

23۔ زیر کفالت یتیموں کے اموال میں سے ان کی زکوٰۃ دینا اور ان کے اموال کے ساتھ تجارت کرنا جائز ہے۔

24۔ عورت کے زیورات کی زکوٰۃ واجب نہیں۔

25۔ قرض میں زکوٰۃ نہیں۔

26۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دورانِ سفر روزہ رکھتی تھیں۔

2ح۔ اگر روزے کی حالت میں روزہ دار اپنی بیوی کا بوسہ لے تو اس سے روزہ ناقص نہیں ہوتا۔ بشرطیکہ بیوی کے لعاب وغیرہ سے خاوند کے پیٹ میں کچھ چلا نہ جائے۔

28۔ روزے دار کو اپنے آپ پر قابو رکھنے کا یقین ہو تو وہ اپنی بیوی سے لذت حاصل کر سکتا ہے۔

29۔ معتکف مریض کی عیادت نہ کرے۔

30۔ ان کے نزدیک حرم مکہ کی طرف قربانی کے لیے جانور بھیجنے سے فقراء پر صدقہ کرنا افضل ہے۔

31۔ احرام کی حالت میں عورت اپنا چہرہ نہ کھولے اور نقاب پہن کر طواف کرے۔

32۔ عورت طواف کے سات چکر مسلسل پورے کرے اور ان کے بعد وہ دو رکعات نفل پڑھے۔

33۔ عورت طواف کرتے وقت غیر محرم مردوں میں نہ گھسے۔

34۔ شادی وغیرہ جیسے معاملات کی ذمہ داری مرد اٹھائیں۔

35۔ ان کے نزدیک ’’قرؤ‘‘ سے مراد طہر ہے۔

36۔ جس عورت سے اس کا خاوند ایلاء کرے تو چار ماہ گزرنے سے اسے طلاق نہیں ہوتی۔

37۔ اگر خاوند اپنی بیوی کو اختیار دے دے کہ وہ اس کے ساتھ رہنا چاہے تو رہے وگرنہ اسے جانے کی اجازت ہے تو یہ طلاق شمار نہیں ہوتی۔

38۔ مطلقہ (رجعی) نان و نفقہ اور مسکن کی حق دار ہے۔

39۔ مطلقہ (رجعی) عدت مکمل ہونے سے پہلے اپنے گھر سے نہ نکلے۔

40۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک جس عورت کا خاوند فوت ہو گیا ہو وہ دورانِ عدت گھر سے باہر جا سکتی ہے کہ شاید کہ یہ فتویٰ اضطراری حالت پر موقوف ہے۔

41۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک نکاح متعہ حرام ہے۔

42۔ مشروط خرید و فروخت مکروہ ہے۔

43۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فروخت کنندہ کو خریدار سے خریدا ہوا سامان قیمت فروخت سے کم قیمت پر خریدنے سے منع کرتی تھیں جب تک خریدار نے سامان کو اپنے قبضے میں نہ لیا ہو۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بعض آراء فقہیہ میں دیگر صحابہ سے منفرد تھیں۔ جیسے:

1۔ محرم چھوٹا پاجامہ پہن سکتا ہے۔

2۔ ولد الزنا کے لیے نماز کی امامت جائز ہے۔

3۔ حالت امن میں عورت بلامحرم سفر کر سکتی ہے۔

4۔ رمضان میں سفر مکروہ ہے۔

5۔ رضاعت باعث تحریم ہے۔ چاہے وہ ایام رضاعت میں ہو یا کبر سنی میں ہو۔

(موسوعۃ فقہ عائشۃ ام المومنین لسعید فائز دخیل: صفحہ 534)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شریعت کے ان اسرار، حکمتوں اور مصلحتوں کو سمجھتی تھیں جن پر احکام شریعت کی بنیاد تھی اور وہ ظاہری نصوص پر ہی تکیہ نہ کر لیتی تھیں۔ جیسے:

1۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں مردوں کے ساتھ نماز میں آ جاتی تھیں، انھیں کسی قسم کا تردّد و اندیشہ نہ ہوتا۔ البتہ ان کی صفیں بچوں کی صفوں کے پیچھے ہوا کرتی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے مت روکو۔ جب نبوت کا مبارک عہد گزر گیا اور کثرت سے غنیمتیں اور اموال آ گئے اور غیر مسلموں کے ساتھ میل جول بڑھ گیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جدید حالات کا مشاہدہ کیا تو کہا:

’’جو کچھ عورتوں نے نئے نئے طور طریقے اپنا لیے ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیتے تو انھیں ضرور منع کرتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 869۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 445)

اگرچہ یہ ایک جزوی واقعہ ہے لیکن یہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ روشن و محکم شریعت کے اکثر احکام ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نظر میں تھے اور انھیں بخوبی علم تھا کہ احکام شریعت حکمتوں اور اسباب پر مبنی ہوتے ہیں۔ لہٰذا جب وہ اسباب اور حکمتیں تبدیل ہو جائیں تو شرعی احکام بھی تبدیل ہو جانے چاہئیں۔

2۔ مکہ مکرمہ کی ایک وادی کا نام محصب ہے۔ حج کے ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پڑاؤ کیا تھا۔ پھر آپﷺ کے خلفائے راشدینؓ نے بھی آپﷺ کی اتباع میں وہاں پڑاؤ کیا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے میں وادیٔ محصب میں پڑاؤ حج کی سنت ہے لیکن سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اسے سنت نہیں مانتیں اور نہ ہی وہ حج کے دنوں میں وہاں پڑاؤ کرتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو وہاں صرف اس لیے پڑاؤ کیا کہ وہ ایک ایسا مقام ہے جہاں سے آپﷺ کے لیے روانگی آسان تھی۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1765۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1311) 

3۔ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا کہ بیت اللہ کا طواف سوار ہو کر کرنا سنت ہے اور کچھ ائمہ مجتہدین کا بھی یہی مذہب ہے۔ لیکن بات اس طرح نہیں جیسے وہ کہتے ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سوار ہو کر طواف کرنا مصلحت، حکمت اور سبب کی وجہ سے تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا آپﷺ رکن (حجر اسود و رکن یمانی) کا استلام کرتے تھے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرتے تو لوگوں کو اس سے ہٹا دئیے جانے کا خوف تھا۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1274۔ سیرۃ السیدۃ عائشۃ ام المومنین للندوی: صفحہ 287 مفہوما۔)

اس کے علاوہ بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فقاہت کی مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔