Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پانچواں نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو علم التاریخ میں بھی رسوخ حاصل تھا

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عہد نبوت، عہد خلفائے راشدینؓ اور سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیشتر عہد دیکھا۔ نیز زمانہ جاہلیت میں عربوں کی باہمی جنگ و جدل، سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے خلفائے اربعہ اور سیرت معاویہ کے عہود مبارکہ میں لوگوں کے حالات میں تغیر و تبدل کی شاہد عدل تھیں چنانچہ ہشام بن عروہ (یہ ہشام بن عروہ بن زبیر ابو منذر قریشی اسدی ہیں۔ اپنے وقت کے امام، ثقہ اور شیخ الاسلام کہلاتے تھے۔ 61 ہجری میں پیدا ہوئے۔ حافظ حدیث، ثبت اور متقن تھے۔ 145 ہجری کے قریب وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 6 صفحہ 34۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 6 صفحہ 34۔ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر عربوں کی ثقافت اور انساب کا عالم نہیں دیکھا۔‘‘

(اسے ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء جلد 2 صفحہ 49 پر روایت کیا ہے۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی روایات مروی ہیں جن میں اہل جاہلیت کی عادات، ان کی اجتماعی زندگی کی معلومات، ان کے رسم و رواج، طلاق کے طریقے، ان کے شادی بیاہ کی رسوم و رواج، ان کی پوجا پاٹ اور ان کی باہمی جنگ و جدل وغیرہ کی خاطر خواہ معلومات حاصل ہوتی ہیں۔