Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عربوں کے ہاں نکاح کی اقسام

  علی محمد الصلابی

مثلاً جاہلیت میں عربوں کے ہاں نکاح کے کون سے طریقے رائج تھے۔

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں بتایا کہ زمانہ ٔجاہلیت میں نکاح کی چار اقسام تھیں:

1۔ ایک طریقہ نکاح تو وہی تھا جو آج کل لوگوں میں رائج ہے۔ ایک مرد دوسرے مرد کے پاس جا کر اس کی زیر کفالت لڑکی یا اس کی بیٹی، بہن کے لیے منگنی کا پیغام دیتا ہے وہ اسے مہر دے کر اس لڑکی سے نکاح کر لیتا ہے۔

2۔ نکاح کا دوسرا طریقہ زمانۂ جاہلیت میں یہ رائج تھا کہ کوئی مرد اپنی بیوی سے کہتا جب تو حیض سے پاک ہو جائے تو فلاں شخص کو اپنی شرم گاہ ادھار دے دینا۔ چنانچہ اس عورت کا خاوند اس سے علیحدہ ہو جاتا اور اس سے بالکل جماع نہ کرتا۔ یہاں تک کہ جس مرد کو اس کی بیوی نے اپنی شرم گاہ ادھار دی تھی اس کے نطفے سے اس کا حمل واضح ہو جاتا اور جب حمل واضح ہو جاتا اور اس کا خاوند اس سے جماع کرنا چاہتا تو کر لیتا اور ایسا وہ اس لیے کرتے تھے تاکہ ہونے والی اولاد ذہین، فطین اور جنگجو و نڈر پیدا ہو۔ اس نکاح کو نکاح استبضاع (الاستبضاع: کوئی عورت کسی مرد کو کہے کہ تو مجھ سے ہم بستر ہو، تاکہ میں بچہ جن دوں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 133)کہتے تھے۔

3۔ نکاح کا ایک اور طریقہ یہ رائج تھا کہ کم و بیش دس آدمی ایک عورت کے پاس اکٹھے ہوتے وہ تمام باری باری اس سے جماع کرتے۔ جب حمل ہو جاتا پھر وہ عورت بچہ جنتی تو کچھ ایام کے بعد وہ ان سب مردوں کو بلا بھیجتی جب وہ آ جاتے تو ان میں سے کسی ایک کو وہ کہتی کہ یہ تیرا بیٹا ہے اور عورت اپنے بیٹے کو اس مرد کے حوالے کرتی جسے وہ ان سب سے زیادہ پسند کرتی۔ وہ مرد اس سے انکار نہ کر سکتا۔

4۔ نکاح کا چوتھا طریقہ یہ تھا کہ بہت سے مرد کسی عورت کے پاس جاتے وہ کسی کو اپنے پاس آنے اور زنا کرنے سے نہ روکتی۔ یہ کسبی اور زانیہ عورتیں ہوتیں وہ دعوت عام کے لیے اپنے گھروں کے دروازوں پر جھنڈے لٹکا دیتیں تاکہ جو بھی آنا چاہے وہ بلا رکاوٹ آ جائے۔ پھر جب ان عورتوں میں سے کسی کو حمل ٹھہر جاتا اور وہ بچے کو جنم دیتی تو وہ سب مرد اس کے ہاں جمع ہو جاتے وہ قیافہ شناس (القافۃ: جمع قائف، جو شخص آثار و قرائن سے بتائے کہ اس بچے کا باپ، بھائی یا قبیلہ فلاں ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 121)  کو بلاتے پھر وہ قیافہ شناس جس مرد کے بارے میں کہتا کہ یہ بچہ اس کا ہے تو عورت اس بچے کو اس مرد کی طرف منسوب کر دیتی۔

(فلتأط: لاط یلیط یعنی تلصق و تلحق، منسوب ہونا۔ (فتح الباری لابن حجر: جلد 1 صفحہ 184)

فَلَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌ صلي اللّٰه عليه وسلم بِالْحَقِّ ہَدَمَ نِکَاحَ الْجَاہِلِیَّۃِ کُلَّہٗ، اِلَّا نِکَاحَ النَّاسِ الْیَوْمَ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5127)

’’جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپﷺ نے جاہلیت کے تمام نکاح ختم کر دیے سوائے اس نکاح کے جو لوگوں میں معروف و مروّج ہے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جاہلیت کے حج کے متعلق مروی ہے:

’’قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ حج کرتے وقت مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے اور اپنے آپ کو ’’احمس‘‘ کہلواتے یعنی نڈر، بے خوف۔ جبکہ دیگر تمام عرب عرفات تک جاتے۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ عرفات جائیں، پھر وہاں وقوف کریں، پھر وہاں سے لوٹیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ثُمَّ اَفِيۡضُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ ۞(سورۃ نمبر 2 البقرة آیت 199)

ترجمہ: اس کے علاوہ (یہ بات بھی یاد رکھو کہ) تم اسی جگہ سے روانہ ہو جہاں سے عام لوگ روانہ ہوتے ہیں اور اللہ سے مغفرت مانگو، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4520۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1219)

اسی طرح زمانۂ جاہلیت میں انصار مدینہ کے درمیان ہونے والی جنگ بعاث ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس کے بارے میں فرماتی ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے جنگ بعاث کو ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کا ذریعہ بنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انصار کی اجتماعیت بکھر چکی تھی اور ان کے معززین (سرواتہم: الشر افہم: ان کے سرداران و معززین (النہایۃ لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 363) قتل ہو چکے تھے اور باقی بچ جانے والے زخموں سے چور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کو ان (انصار) کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے اور اسلام قبول کرنے کا ذریعہ بنایا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3846)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا علم حاصل کرنے میں خصوصی دلچسپی رکھتی تھیں۔ جس چیز کے بارے میں ان کو پتا نہ ہوتا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے میں کبھی تامل نہ کرتیں اس کی مثال تعمیر کعبہ کے متعلق ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کا انداز ہے۔ فرماتی ہیں:

’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیوار (الجدر: الحجر بیت اللہ کا وہ حصہ جو اس کے پرنالے کی طرف اس کی عمارت سے باہر ہے۔ (شرح مسلم للنووی: جلد 9 صفحہ 96۔) (حطیم) کے بارے میں پوچھا: کیا وہ بیت اللہ کا حصہ ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: انھوں نے اسے بیت اللہ میں شامل کیوں نہ کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تیری قوم کے پاس تعمیر کے اخراجات کم تھے۔‘‘ میں نے پوچھاکہ اس کا دروازہ سطح زمین سے کافی بلند ہونے کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تیری قوم نے ایسا اس لیے کیا کہ جسے چاہیں کعبہ کے اندر داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں روک دیں اور اگر تیری قوم نئی نئی عہد جاہلیت سے نکل کر نہ آئی ہوتی اور مجھے ان کے دلوں کے ناگواری کے اثرات کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور دیوار حطیم کو بیت اللہ کی عمارت میں شامل کرتا اور اس کا دروازہ سطح زمین پر بناتا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1584۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر:1333۔)

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بے شمار اہم واقعات و غزوات اور شرعی احکامات کی تفصیل نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنن جیسے ہجرت، واقعہ افک، آپﷺ کے مشہور غزوات مثلاً بدر، احد، خندق اور بنی قریظہ۔ اسی طرح نماز خوف کی تفصیل غزوہ ذات الرقاع، فتح مکہ کے موقع پر عورتوں کی بیعت، حجۃ الوداع کے اہم واقعات، خلفائے اربعہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اہم واقعات و تغیرات کو نہایت تفصیل اور باریک بینی سے بیان کیا۔

ہم یہاں بطور مثال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی کی بابت نقل کرتے ہیں۔ وہ فرماتی ہیں:

’’ابتدائے نبوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند میں سچے خواب نظر آتے تھے۔ آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ صبح کی پو پھوٹنے کی مانند ظاہر ہوتا۔ پھر آپﷺ خلوت پسند ہو گئے۔ آپﷺ غارِ حراء میں چلے جاتے اور اس میں عبادت کرتے اور مسلسل چند راتوں تک عبادت کرتے رہتے۔ پھر آپﷺ اپنے اہل خانہ کے پاس لوٹتے اور وہاں سے اپنی خور و نوش کی چیزیں لے کر واپس غار میں چلے جاتے۔ پھر جب وہ ختم ہو جاتیں تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے اور چند دنوں کے لیے زادِ سفر لے جاتے۔ بالآخر اچانک آپﷺ تک حق پہنچ گیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غار حراء میں تھے، ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا: آپ پڑھیے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’اس نے مجھے پکڑا اور مجھے اپنے ساتھ لپٹا لیا اور خوب بھینچا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: آپﷺ پڑھئے۔ میں نے کہا: ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘

اس نے دوسری بار مجھے پکڑا اور اپنے ساتھ لپٹا لیا اور خوب بھینچا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: آپ پڑھیے۔ میں نے کہا: ’’میں پڑھا ہوا نہیں۔‘‘ اس نے تیسری بار مجھے پکڑا اور اپنے ساتھ لپٹا لیا، اور خوب بھینچا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا:

اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِىۡ خَلَقَ‌۞ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ‌ ۞اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ ۞عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ۞ (سورۃ العلق آیت 5)

ترجمہ: پڑھو اپنے پروردگار کا نام لے کر جس نے سب کچھ پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔پڑھو، اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ انسان کو اس بات کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا۔

تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کانپتے جسم کے ساتھ واپس آئے اور سیدہ خدیجہؓ کے پاس چلے گئے اور فرمانے لگے: ’’مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ مجھے کپڑا اوڑھا دو۔‘‘ آپﷺ کو گھر والوں نے کپڑا اوڑھا دیا، حتیٰ کہ آپﷺ سے خوف دور ہو گیا۔ جب آپﷺ پرسکون ہوگئے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو پکارا: اے خدیجہ! میرا کیا قصور ہے؟ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے اور آپﷺ نے انھیں پورا واقعہ سنایا۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہرگز نہیں، آپ خوش ہو جائیں! پس اللہ کی قسم! اللہ آپﷺ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ پس اللہ کی قسم! بے شک آپﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، محنت کشوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں، محتاج کی مدد کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے راستے میں مصائب و مشکلات کو برداشت کرنے کے لیے مدد کرتے ہیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس پہنچیں جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا چچا زاد تھا اور وہ جاہلیت میں نصرانی مذہب پر تھا اور عربی میں کتابت کرتا اور اللہ جو چاہتا اس سے انجیل کو عربی میں لکھواتا۔ وہ بڑھاپے کو پہنچ چکا تھا اور اس کی آنکھیں ضائع ہو چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: اے میرے چچا زاد! آپ اپنے بھتیجے کی روئیداد سنیں۔ ورقہ نے کہا: اے بھتیجے تو کیا دیکھتا ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی آپ بیتی سنائی۔ سن کر ورقہ نے کہا: یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر اترا تھا کاش میں اس وقت نوجوان (الجذع: تنومند دنبہ، مفہوم یہ ہے کہ جب آپﷺ کو نکالیں گے کاش میں اس وقت زندہ طاقت ور ہوتا تاکہ آپﷺ کی مدد کرتا۔ (کشف المشکل لابن الجوزی: جلد 4 صفحہ 276۔)  ہوتا کاش میں زندہ رہتا۔ ورقہ نے کچھ کہا (کہ جب آپکو آپ کی قوم نکال دے گی)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟‘‘ ورقہ نے کہا: ہاں۔ جس آدمی نے بھی یہ بات کی جو آپﷺ کر رہے ہیں تو اسے ضرور تکلیف دی گئی اور اگر میں اس دن زندہ ہوا جس دن آپﷺ کو ان حالات کا سامنا کرنا پڑے گا تو میں آپﷺ کی ضرور بالضرور مدد کروں گا۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ ورقہ فوت ہو گیا اور کچھ عرصہ کے لیے وحی رک گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہو گئے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4953 ۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 160)

جو زمانہ جاہلیت کے واقعات تھے ان میں سے بیشتر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد محترم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سنے ہیں جو سب لوگوں سے زیادہ عربوں کی مہمات، خانہ جنگیوں اور ان کے انساب کے عالم تھے۔ اسی لیے عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے فقیہ ہونے پر کوئی تعجب نہیں اور نہ ہی ان کے عربوں کی جنگی مہمات اور ان کے اشعار کی عالمہ ہونے پر تعجب ہے۔ کیونکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہونے کی وجہ سے ان سے یہ معلومات جمع کر لیتی تھیں، جو سب لوگوں سے زیادہ ان چیزوں کے عالم تھے۔ لیکن مجھے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس علم طب کے بارے معلومات ہونے پر تعجب ہوتا ہے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 183)