کئی مکارمہ سنی عقائد میں لوٹ آئے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کئی مکارمہ سنی عقائد میں لوٹ آئے

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 2

 ہم بھی عرض کرتے ہیں: اے اسماعیلی مکارمہ کے گروہ! ڈرو اس اللہ سے یہ نہ کہیں ہم اپنے آباؤ اجداد کے دین پر ڈٹ جائیں گے، حق کی اتباع لائقِ ستائش ہے۔ اللہ کے ہاں یہ آباؤ اجداد اور مال و زر کام نہ آئیں گے۔ اس کا ارشاد ہے:

يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ ۞ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍؕ ۞(سورة الشعراء: آیت 88-89)

ترجمہ: جس دن نہ کوئی مال کام آئے گا، نہ اولاد ہاں جو شخص اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا (اس کو نجات ملے گی) 

نہ بیٹا، نہ باپ، نہ بھائی صرف عملوں نے کام آنا ہے

انبیاء کرام علیہ السلام کے مخالفین نے جو کہا تھا، اس ڈگر پہ نہ چلنا اس کا تصور بھی بہت بھیانک ہے۔

بَلۡ قَالُـوۡۤا اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰٓى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰٓى اٰثٰرِهِمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ۞ وَكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِىۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰٓى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰٓى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ۞ (سورة الزخرف: آیت 22 ۔23)

ترجمہ: نہیں، بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کے مطابق ٹھیک ٹھیک راستے پر جارہے ہیں۔ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) بھیجا تو وہاں کے دولت مند لوگوں نے یہی کہا کہ: ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے، اور ہم انہی کے نقش قدم کے پیچھے چل رہے ہیں۔ 

پیغمبر یہی کہتے رہے کہ تمہارے آباؤ اجداد سے ہم زیادہ بہتر ہدایت لائیں ہوں پھر بھی اس پر نہ چلو گے؟ اس کے جواب میں انہوں نے بھی یہی کہا:ہم تمہاری رسالت کو نہیں مانتے، بلکہ اے مکارمہ اسماعیلی خیالات والوں: سچے مومن بن کر ان آیات کی تعبیر بن جاؤ:

وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ تَرٰٓى اَعۡيُنَهُمۡ تَفِيۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَـقِّ‌ۚ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ‏ ۞ وَمَا لَـنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ الۡحَـقِّۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَـنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰلِحِيۡنَ ۞ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ۞ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِيۡمِ ۞(سورة المائدہ: آیت 83-86)

ترجمہ: اور جب یہ لوگ وہ کلام سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا ہے تو چونکہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہوتا ہے، اس لیے تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ وہ آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں۔ (اور) وہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں، لہٰذا گواہی دینے والوں کے ساتھ ہمارا نام بھی لکھ لیجیے۔ اور ہم اللہ پر اور جو حق ہمارے پاس آگیا ہے اس پر آخر کیوں ایمان نہ لائیں، اور پھر یہ توقع بھی رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں میں شمار کرے گا ؟ چنانچہ ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ ان کو وہ باغات دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی نیکی کرنے والوں کا صلہ ہے اور جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے وہ دوزخ والے لوگ ہیں۔

اے نجران کے اسماعیلیوں! میں یہ کہنے میں باک محسوس نہیں کرتا کہ تم دینِ اسلام پہ نہیں ہو، واللہ یہ دینِ اسلام نہیں جس پر تم رواں دواں ہو۔ صحیح مسلمان بن جاؤ، دینِ حق کے سامنے سر تسلیمِ خم کر دو۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمدﷺ کا جو دینِ توحید ہے اس کی چھاؤں میں آ جاؤ، ظاہر و باطن میں اللہ کی عبادت میں مگن ہو جاؤ، اگر سلامتی والے گھر جنت میں جانا چاہتے ہو، تو اِدھر آ جاؤ، قرآن و سنت والا دین اختیار کرو، یہ وہی ہے جسے جزیرۀ عرب کے علمائے سلف پھیلا رہے ہیں۔ ان کی اقتداء میں آ جاؤ، ہدایت اور نورِ اسلام کی رہنمائی ان علمائے حق پرستوں سے حاصل کرو، میری تو یہی التماس ہے کہ اللہ تمہیں راہِ راست پہ لے آئے اور دینِ قیم پہ چلائے یہ اسی معبودِ حقیقی کی بارگاہ میں التجاء ہے جو عظیم و حلیم ہے، رب عرشِ عظیم ہے، زمین و آسمان اور عرشِ کریم کا رب ہے، اسی پر میرا توکل ہے۔

صلی اللہ علی نبینا محمد بن عبداللہ وعلی اله وصحبه وسلم والحمدللہ رب العالمین۔


صفحہ 2 از 2