تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت - ردِ رافضیت…

تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 6

تنظیم حزب اللہ کی حقیقت

پیش لفظ

 تنظیم حزب اللہ عقائد کے لحاظ سے ایک سخت خطرناک قسم کی تنظیم ہے اس کے اہداف و مقاصد بالکل واضح ہیں یہ مسلح فوجی انقلاب برپا کر کے مختلف حکومتوں پر غلبہ کی آرزو لیے میدانِ عمل میں اتری ہے کہ شیعہ مذہب کو غلبہ دے ایک گروہی تنظیم ہے یہ ولایت الفقیہ کے نقطہ نظر پر قائم ہے اس نے رضا شاہ پہلوی کو معزول کر کے ایران میں خمینی حکومت کی راہ ہموار کی ان دنوں میں ہی خمینی نے حزب اللہ تنظیم کے سربراہ حسن نصر اللہ کی تعریف کی تھی اور اس کی سرگرمیوں کو سراہا تھا ہمیں وہ دن اب بھی یاد ہیں جب بقول ان کے اسلامی جمہوریہ ایران کے یوم تاسیس کا خمینی نے اعلان کیا تھا تو بہت سارے سنی لوگ بھی اس کے دھوکہ میں آ گئے بلکہ بعض تو اتنے دیوانے ہو گئے کہ دور دراز سے سفر کر کے خمینی کو اس حکومت کے قیام پر تہنیتی پیغام دینے پہنچ گئے ان کا خیال تھا کہ اب بس اس ایران میں صحیح اسلامی حکومت آنا ہی چاہتی ہے مگر یہ ان کے خواب ادھورے رہ گئے اور ان کی امنگوں کا خون ہو گیا جب انہیں یہ پتہ چلا کہ خمینی کا ہدف و منزل یہ ہے کہ عالمِ اسلام میں شیعیت کی نشر و اشاعت کرے اور اس شیعی گروہ کو وجود میں لانے کا اس حکومت ایرانی کا یہی مقصد وحید ہے کہ شیعہ غالب آئیں لبنان میں 1982ء میں اس شیعی تنظیم حزب اللہ کی بنیاد رکھی گئی یہ لبنانی شیعوں کی تنظیم امل کی مرہون منت ہے جو کہ حکومتِ ایران کے سہارے چل رہی تھی وجہ یہ ہوئی کہ حزب اللہ اور امل دونوں کے درمیان یہ دوڑ پیدا ہوئی کہ ایک دوسرے سے زیادہ اثر و نفوذ پیدا کریں اور لبنان کی شیعہ آبادی میں اپنی برتری قائم کریں اسی کشمکش میں یہ دونوں دھڑے بدترین لڑائی کا شکار ہو گئے تاہم اسی کشمکش میں حزب اللہ نے لبنان کے جنوبی علاقوں پر اپنا اثر و رسوخ زیادہ پھیلا دیا اور یہ چھا گئی یہ بات ہم بلا مبالغہ کہتے ہیں کہ لبنان میں حزب اللہ دراصل ایرانی حزب اللہ ہے اس تنظیم کے تاسیسی بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے اور ان الفاظ میں ان کے سربراہ نے اپنا تعارف کروایا ہے ہم کون ہیں اور ہمارا مقصد کیا ہے؟ کہتا ہے: 

اننا ابناء أمة حزب الله التی نصر الله طليعتها فی ایران۔

ہم حزب اللہ عظیم کے فرزند ہیں ایران میں نصر اللہ اس تنظیم کا روح رواں ہے ہم نے دنیا میں اسلامی حکومت کی نئے سرے سے بنیاد رکھی ہے ہم ایک ہی حکیمانہ اور عادلانہ قیادت کو مانتے ہیں جو خمینی کی صورت میں میسر آئی ہے یہ مسلمانوں کی تحریک کا منبع ہیں اور عمدہ سرگرمیوں کا مرکز ہیں ابراہیم امین جو لبنان کے علاقہ کی حزب اللہ کا قائد رہنما ہے اس نے 1987ء میں کہا تھا: 

نحن لا نقول: اننا جزء من ایران نحن ايران فی لبنان ولبنان فی ایران۔

ہم صرف یہی نہیں کہتے کہ ہم ایران کی حکومت کا ایک حصہ ہیں بلکہ ہمارا تو اعلان ہے کے لبنان میں ہمارا ایران ہے اور ہمارا لبنان ایران میں ہے۔

یعنی ہم ایران میں ہوں یا لبنان میں ہم ایران ہی تصور کرتے ہیں۔

یعنی کس نہ گوید بعد ازیں تو دیگرم من دیگری۔

حزب اللہ کی حقیقت:

مطلب نمبر 1

حزب اللہ کے بانی سربراہ:

(1)۔ بانی صجی طفیلی ہے۔ یہ 1947ء میں پیدا ہوا یہ عرب علاقوں میں سے ایران کے حلیف و وفادار ہونے میں نمایاں ترین ہے۔ لیکن آخر میں اس سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ اس نے عراق میں فقہ حاصل کی پھر صدام حسین کی سطوت وقوت سے مرعوب ہو کر ایران کے شہر قم کے مضافات میں چلا گیا اس کے بعد تہران چلا گیا۔ 1979ء میں پھر لبنان لوٹ آیا یہ اپنے علاقہ میں بھوکوں کا باپ کے نام سے مشہور تھا۔ صجی طفیلی نے 1982ء میں حزب اللہ کی بنیاد رکھی اور سب سے پہلا حزب اللہ کا جنرل سیکرٹری منتخب ہوا۔ 1998ء میں جو فساد ہوئے ہیں یہ ان میں ملوث تھا اس پر الزام ہے کہ اس نے بہت زیادتی کی ہے، زیادہ تر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے:

ان دعمه للفلسطينين خطابی و شکلی فقط۔

کہ فلسطین کی یہ زبانی اور رسمی حمایت کرتا ہے اصل میں حمایتی نہیں۔

یہ لبنان کے وزیر اعظم حریریؒ کے مخالفوں میں تھا۔ یہ الزام لگاتا تھا کہ حریری حزب اللہ کو لبنان میں غیر مسلح کر رہے ہیں۔

(2)۔ بانی محمد حسین فضل اللہ ہے۔ یہ نجف میں پیدا ہوا تھا یہ 1966ء میں لبنان آیا بعض کا خیال ہے یہ معتدل مزاج تھا، دوسرا تبصرہ ہے یہ معتدل نہ تھا یہ بہت شاطر اور چالاک تھا یہ انگلیوں پر نچانے کا ماہر تھا۔

(3)۔ بانی حسن نصر اللہ ہے اس کا پورا نام حسن نصر اللہ بن عبد الکریم نصر اللہ ہے، اسے عرب کے خمینی کے نام سے لقب دیا جاتا ہے، یہ بیروت کے فقیرہ محلہ میں 1960ء میں پیدا ہوا، یہ سخت تنگدستی کی حالت میں پروان چڑھا۔ اس نے ابتدائی تعلیم لبنان میں ہی حاصل کی، 1976ء میں نجف گیا، وہاں اس نے دو سال پڑھا اور یہ عباس موسوی بقاعی سے بہت متاثر ہوا۔ اس کے بعد بعلبک چلا گیا اور عباس موسوی کے مدرسہ میں پڑھتا رہا۔ یہ مدرسہ نجف کے مدرسہ کے معیار پر شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ حرکت امل تنظیم میں مسؤول مقرر ہوا۔ اور 1986 میں حزب اللہ میں شرکت اختیار کر لی۔ 1988ء میں آخر یہ قم گیا اس نے ایران اور سوریا کے ساتھ مضبوط روابط استوار کر لیے حسن نصر اللہ کا خیال ہے کہ ایران اور سوریا کے درمیان تعلقات کی مضبوطی لبنانی حزب اللہ کی کوششوں سے ہوئی ہے۔ اور اس کا خیال ہے کہ ایران ہی ایک واحد ملک ہے جو صحیح اسلام کے مطابق چل رہا ہے۔ 1992ء میں عباس موسوی کے قتل کے بعد جو کہ اسرائیل کے ہاتھ سے مارا گیا تھا مجلس شوریٰ نے مکمل رائے دہی سے حسن نصر اللہ کوحزب اللہ کا سر براہ بنا دیا اور یہ انٹرنیٹ پر لبنان میں خود کو امام خمینی کا نمائندہ گردانتا ہے ۔ 1993ء سے لے کر 1995 تک دوبارہ اسے سر براہ حزب اللہ منتخب کر لیا گیا ہے اور موسیٰ صدر کو اس کا جانشین بنایا گیا ہے۔ دیکھیں یہ عجیب اتفاقات اور اختلافات ہیں کہ حسن نصر اللہ ایران کے حالیہ صدر محمود احمد نژادی کا گہرا دوست تھا۔ یہ ایشیا کے کسی ملک میں محکمہ خبر رساں ایجنسیوں میں شمولیت کے لیے تربیت لینے گئے تھے وہاں ان کی دوستی ہوئی اب اس کے دس برس بعد لبنان میں ملے تھے۔

صفحہ 1 از 6