تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت - ردِ رافضیت…

تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 6

اتفاقات ہیں زمانہ کے حزب اللہ کی دیگر شخصیات میں حسن خلیل، راغب حرب نعیم قاسم شامل ہیں۔

قناة المنار:

(4)۔ حزب اللہ مذہبی رسومات کا ترجمان چینل ہے یہ 1991ء میں پہلی مرتبہ منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوا۔ یہ قناة چینل خود کو اپنے پروگرام میں بتاتا ہے کہ یہ ہر موضوع پر گفتگو کا موقع دے گا اور تعاون کرے گا اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ گروہی تعصب سے بالاتر ہے۔ انھا تبتعد عن الاثارة کہ یہ انتشار پھیلانے سے پاک ہے حالانکہ یہ بالکل اس کے برعکس ہے کیونکہ یہ عاشورہ کی مجالس کو عام کرتا ہے جو کہ شیعوں کو بھڑکاتی ہیں اور سنی لوگوں کے خلاف اختلافات کو ہوا دیتی ہیں۔

مطلب نمبر 2:

حزب اللہ کے اہم مقاصد:

(1)۔ حزب اللہ کا اعلانیہ پیغام یہی ہے کہ یہ ایک اسلامی تحریک ہے جو لبنان پر اسرائیلی قبضہ کے مقابلہ میں وجود میں آئی ہے اور فلسطین میں مقدس مقامات کی آزادی کے لیے کوشاں ہے۔ یہ تو مسلمانوں کو فریب میں ڈالے ہوئے اور حزب اللہ کے خفیہ منصوبوں سے نظریں پھیرنے کے لیے کہتا ہے اور یہ اپنے دلی میلانات اور جذبات پر پردہ پوشی کے لیے کہتے ہیں۔ وگرنہ حکومت ایران کے تعاون سے یہ حزب اللہ انسانیت اور اجماعیت کی خدمت کے نام پر فرقہ واریت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

(2)۔ ان کا خفیہ ہدف یہ ہے کہ حقیقت میں حزب اللہ کا رازدارانہ منصوبہ جو ہے وہ یہ ہے کہ لبنان میں شیعیت کا پرچار ہو اور ہمیشہ کے لیے شیعی وجود لبنان میں باقی رہے۔ اور دولتِ لبنان کی قوت کے ذرائع پر ان کا غلبہ رہے اور دولت ایران کے لیے پورے علاقہ میں ایسا کام کرے کہ وہ جب چاہے اسے لتاڑ دے۔ یہ ایران کے قومی ، دینی مصلحتوں کے محافظ ہیں اور کچھ نہیں۔ یہ بھی اس کی خفیہ منصوبہ بندی ہے کہ دولت لبنان عمارت کی بنیاد کو ایسی ضرب لگائے اور ایسی جنگ میں اسے مبتلا کر دے جس کی وجہ سے حزب اللہ لبنان پر غالب آ سکے۔ عالمِ اسلام میں ایرانی تحریک پھیلانے کا یہ بھی ایک حصہ ہے اسی کو قائم رکھنے کے لیے ہلال شیعہ ایران میں اور لبنان میں اور خلیج کی دیگر ریاستوں میں اپنے معاونین کے ذریعہ اس منصوبہ کے مطابق کام کر رہا ہے۔

مطلب نمبر 3:

حزب اللہ کو سہارا کون دیتا ہے؟

حزب اللہ کی مالی تمام ضروریات ایران پوری کرتا ہے۔ 1990ء میں یہ تقریباً تیس ملین امریکی ڈالر تھی ۔ 1991ء میں پچاس ملین ڈالر اخراجات کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ 1992ء میں ایک سو بیس ملین ڈالر اندازہ لگایا گیا تھا 92ء میں ایک سو ساٹھ ملین ڈالر اخراجات تھے۔ 93ء میں یہ تمام مالی معاونت ایران حزب اللہ لبنانی کو دیتا ہے صرفہ صرف اس لیے کہ اس کے قدم عربی علاقہ میں جمے رہیں۔ ان اخراجات کا میزانیہ رفسنجانی کے عہد حکومت میں تقریباً 280 ملین ڈالر کی بلند سطح تک پہنچ گیا تھا ۔ یہ اتنے بھاری بھرکم اخراجات ، ایران حزب اللہ لبنانی کے لیے اس لیے برداشت کر رہا ہے یہ ایران کی ہدایت کو عملی جامہ پہنائے اور اس ملک کے اندرونی تنازعات میں دخل اندازی نہ کرتے ہوئے ایران کے ہر حکم کو واجب التعمیل سمجھے اور یہ ساری مالی معاونت ایران اپنی جارحانہ بنیاد کو مضبوط کرنے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لیے پوری کر رہا ہے اور اس نے ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بہت ساری جائیداد خرید رکھی ہے۔

دراصل ایران نے ان اخراجات سے حزب اللہ کا اخلاص خرید رکھا ہے وہ باقاعدہ ایران کا ہی ایک گروہ ہے۔ حزب اللہ کے جنگجو کی ماہانہ تنخواہ لبنانی کرنسی کے مطابق پانچ ہزار ہے یہ بھی 1986ء کی بات ہے۔ اس وقت یہ جنگجو کی سب سے اعلیٰ اجرت تھی اب تو کئی گنا بڑھ گئی ہوگی یہی وجہ تھی کہ حرکت امل کے جنگجو اس کی صفوں سے نکل کر حزب اللہ میں ملازمت اختیار کرنے لگ گئے تھے تا کہ مال زیادہ کمائیں۔ ان کی زیادہ تر تعداد حرکت امل سے نکل کر لبنانی حزب اللہ سے منسلک ہو گئی۔ یہ ایک یقینی بات ہے کہ ایران حزب اللہ کے لیے شریان کی حیثیت رکھتا ہے اور حزب اللہ کا یہ بنیادی مرکز ہے اس کی ہدایت کے مطابق یہ تنظیم سرگرمیاں کر رہی ہے اور لبنان میں حسن نصر اللہ کے درمیان اور حکومتِ ایران کے درمیان مسلسل رابطہ ہے۔ یہی حسن نصر اللہ جو کہ حزب اللہ کا سیکرٹری جنرل ہے اسکا بیان ہے:

اننا نرىٰ في ايران الدولة التی تحكم بالاسلام والدولة التی تناصر المسلمين والعرب وعلاقتنا بها علاقة تعاون ووثام ولنا صداقات مع أركانها كما ان المرجعية الدينية تشكل الغطاء الدينی والشرعی لكفاحنا المسلح۔

حکومتِ ایران جو کہ اسلام کی برتری کے لیے کام کر رہی ہے اور مسلمانوں اور عربوں کی نصرت و حمایت کرتی ہے اس کے اور ہمارے درمیان مضبوط تعاون اور ہمنوائی موجود ہے اس کے ارکانِ حکومت جو کہ دینی اور شرعی خطوط پر اسے استوار کرنے کا مرکز ہیں یہ ہماری مسلح جدوجہد کی باقاعدہ پشت پناہی کر رہی ہے۔

حزب اللہ کی عملی تاسیس کے وقت ایران نے اس کی معاونت حوصلہ افزائی کرنے اور انہیں ٹریننگ دینے کے لیے دو ہزار افراد اپنے ایرانی پاسداران بھیجے تھے یہ پاسداران اسی دوران لبنانی علاقوں میں جن پر حزب اللہ کا ہولڈ تھا کے ساتھ اپنا عقیدہ بھی عام کرتے رہے ہیں۔ اس کا طریقہ کاریہ تھا انہوں نے ہسپتال، مدارس اور خیراتی ادارے قائم کیے کہ لوگ ان سے متاثر ہوں، اس کے لیے طہران میں حزب اللہ کا با قاعدہ دفتر ہے جو کہ ایران کا دارالخلافہ ہے اور یہ رسائل اور دیگر منشورات کے ذریعے اپنے مذہب اور اپنی کار کردگی کا لوگوں کو تعارف کرواتے ہیں اور یہی دفتر اس کام بھی آتا ہے کہ حکومتِ ایران کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے جو بھی تجاویز اور احکام ملتے ہیں یہ لبنان کے دارالخلافہ حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری کے دفتر میں منتقل کرتا ہے۔

مطلب نمبر4

ایرانی تحریک کے پاسداران اور حزب اللہ کے درمیان تعلق:

صفحہ 2 از 6