تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت - ردِ رافضیت…

تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 6

خصوصی نامه نگار حزب اللہ کی سرگرمیوں کے بارے میں یہی تبصرہ کرتے ہیں کہ اس کی عسکری قوت کوئی مستقل نہیں، یہ تو ایک ایرانی پاسداران کی شاخ ہے اور اس کا بنیادی مقصد لبنان کے شیعوں کی انسانیت کے نام پر بھلائی کرنا ہے۔ باقی ان کا ٹرینینگ لینا اور مسلح جدو جہد کرنا اور فوجی سامان اکٹھا کرنا اور ان ایرانی پاسداران کی صلاحیتوں سے عملی طور پر فوج میں فائدہ اٹھانا یہ صرف ایرانی تحریک کو مضبوط کرنے کے لیے ہے اس سے کسی ملک پر حملہ کی صلاحیت پیدا کرنا مقصد نہیں ۔ حالانکہ یہ خلاف واقع چیز ہے۔ ضرب اللہ سے ایران کا تعلق رکھنے کا اہم مقصد دیگر ممالک پر تسلط جمانا ہے۔ 1982ء میں اسرائیلی قبضہ کے مقابلہ میں جب کہ یہ خمینی کا ابتدائی دور تھا اس نے کئی تحریکی کارکنان لبنان بھیجے تھے۔ درپردہ یہ ظاہر کیا تھا کہ یہ اسرائیل کے مقابلہ میں مشترکہ معاونت کے لیے گئے ہیں۔ جب کہ ان کا اصل ہدف حزب اللہ کو لبنانی میدان میں اعلانیہ غالب کرنا تھا اور سالوں پر محیط حزب اللہ کی سرگرمیوں کی بنیاد استوار کرنا تھا جو اب تک جاری ہیں۔ جب سوریا کے رستے سے لبنان میں موجود ایرانی تحریک کے کارکن اندر گھس آئے تو حزب اللہ نے ان سے مکمل تعاون کیا، حالانکہ انہوں نے جنگ میں عملی حصہ نہ لینے کا عہد کیا ہوا تھا مگر ان تحریک ایران سے وابستہ کارکنوں کو حزب اللہ نے با قاعدہ تیاری کرنے میں عسکری قوت کو اضافہ دینے میں پورا تعاون کیا تھا اور ایرانی تحریک کے ہر کارکن کو بھرپور انداز میں خمینی انقلاب کے نظریات پھیلانے کا اختیار مل گیا۔ یہ خمینی انقلاب کے داعی جو طہران سے آئے تھے انہیں خمینی انقلاب کی زبانی اشاعت کرنے کی مسلح جدوجہد سے بھی زیادہ فکر تھی۔ کیونکہ اسلحہ کے زور پر وہ فائدہ نہ تھا جو خمینی انقلاب کے لیے مناسب فضا تیار کرنے کا فائدہ تھا اور یہ طہران کے کارکنوں سے سارا تعاون لبنانی حزب اللہ نے کیا تھا۔

مطلب نمبر 5:

حزب اللہ کی ٹریننگ کا معاملہ (حزب اللہ کی ٹرینگ چند مراحل سے گزرتی ہے):

مرحلہ (1): ایرانی تحریک کے پاسداران جن کی تعداد دو ہزار ہوتی ہے یہ عملی فوجی مشق حاصل کرتے ہیں، شہروں اور بستیوں کے میدانی علاقوں میں بکھر جاتے ہیں، ان کا بڑا ان کی نگرانی کرتا ہے، انہیں "عشاقِ شہادت کے نام سے پکارتے ہیں یہ ان رضا کاروں کا زبردست استقبال کرتے ہیں اور اسے مشق کا پہلا دورہ کہتے ہیں۔ یہ مشقیں لینے والے باقاعدہ جنگ کی صورت میں بعد میں لڑائی کی مہارت میں حصہ لیتے ہیں اور ان ایران کے تحریکی پاسداران کو حزب اللہ کے جنگجو مشقیں کراتے ہیں ان مشقوں میں جو کہ مرحلہ وار ہوتی ہیں آٹھویں مرحلہ پر جہاز اغواء کرنے اور ہیرے غرق کی مشقیں کرائی جاتی ہیں، بعض حکومتوں میں حزب اللہ نے یہ کیا بھی ہے خصوصاً حکومتِ کویت قابلِ ذکر ہے حزب اللہ نے اس کے جہازوں کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تھی۔

مرحلہ (2): لبنان سے ان پاسدارانِ ایران کی اکثریت کو نکالے جانے کے بعد بھی اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ ڈیڑھ سو سے لے کر ڈھائی سو تک افراد جو ترتیب یافتہ ہیں لبنان میں باقی رہیں گے بلکہ بعض نے لبنانی شیعوں کے خاندان میں شادی بھی کر رکھی ہے اور لبنانی اسماء والقاب بھی اختیار کر رکھے ہیں۔ لیکن 1990ء کے بعد طہران کی پاسداران کی قیادت نے لبنان میں تربیت یافتگان کی اکثریت کو تبدیل کر دیا ہے اور ہر چھ ماہ بعد تبدیلی کرتے ہیں کیونکہ یہ انکشاف ہوا تھا کہ پاسداران کے کچھ عناصر اسرائیل کو رپورٹ کرتے ہیں اور قرارداد میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً پاسداران اسی (80) افراد القدس لشکر میں موجود ہیں جو لبنان کے متعلق معلومات اکٹھی کر رہے تھے۔ یہ 2001ء کی بات ہے آخری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور ان پاسداران کے حزب اللہ لبنانی کے ساتھ اندرونی گہرے روابط ہیں اس وجہ سے انہیں نکال دیا، لبنان نے حزب اللہ سے ان عناصر کا صفایا کر کے انہیں خاص تربیت کے نام پر طہران، اصفہان، مشہد اور اہواز بھیجا گیا ہے اور تین ہزار حزب اللہ کے افراد بھی ان مشقوں میں شامل ہوتے ہیں۔ اس جنگی تربیت میں راکٹ لانچر پھینکنے، توپ کے متعلقہ اسلحہ کی ٹریننگ، جہاز فائر کرنے کے طریقے اور بغیر سارٹ کیے جہاز اڑانے کے طریقے بحری جنگ کے طور طریقے، الیکڑانک جنگ اور تیز رفتار آبدوزیں چلانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اور نئے جنگی طریقوں کی عملی تربیت دی جاتی ہے اور تقریباً سو افراد نے خود کش حملوں کی تربیت لی ہے جیسا کہ تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے عناصر فدائی حملے کرتے ہیں اسی طرح انہوں نے تربیت لے رکھی ہے۔

مطلب 6:

حزب اللہ کو اسلحہ کہ سپلائی

فوجی نامہ نگاروں کے بقول حزب اللہ کے پاس بہت اعلیٰ قسم کا اسلحہ ہے جو ایک منظّم چھوٹی سی فوج کے پاس ہوتا ہے میزائل حزب اللہ کا اہم ہتھیار ہے اس کے پاس بعض میزائل ایسے ہیں جو ساڑھے آٹھ کلو میٹر تک مار کرتے ہیں ایک آرش کے نام سے مشہور میزائل ہے یہ (29) کیلو میٹر تک مار کرتا ہے 2006ء میں فلسطین کے شمالی علاقہ میں اسرائیل کے خلاف زیادہ تر اسی کا استعمال ہوا تھا علاوہ ازیں حزب اللہ کے پاس (2) میزائل شاہین ہیں ان کا نشانہ (930) کلو میٹر تک ہے 

اوریم (220) میزائل بھی ہے جو تیس کلو میٹر تک مار کرتے ہیں اور ان کے پاس بھی فجر میزائل بھی ہیں ان کی تعداد (3) ہے اور ان کی مار (43) کلو میٹر تک ہے اور ان کے پاس (5) فجر ہیں اور ان کی مار (75) کلو میٹر تک ہے فجر میزائل ایران کو چائنہ اور شمالی کوریا کے تعاون سے ملے ہیں ان کے پاس رعد میزائل بھی ہے جو ایران نے خود تیار کیا ہے یہ روس کے فرد میزائل کے معیار کا ہے (70) کلو میٹر تک یہ مار کرتا ہے یہ 2004ء میں تیار ہوا تھا یہ (75) میٹر تک اپنا ہدف پر درست لگتا ہے یہ سو کلو گرام سے بھی بھاری ہے اسے داغنے کے لیے میگزین تک لانے کے لیے کسی چیز پر لاد کر لایا جاتا ہے قناۃ المنارہ جو کہ حزب اللہ کا ذاتی چینل ہے جو ان کی ترجمانی کرتا ہے کہتا ہے:

جوحیفا پر میزائل گراۓ گئے تھے یہ رعد(3) کی قسم سے تھے۔

صفحہ 3 از 6