تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت - ردِ رافضیت…

تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 4 از 6

مرحلہ3: حزب اللہ کے پاس زلزال کے نام سے بھی میزائل ہے "جاٹورز" اخبار نے بیان کیا ہے یہ خاص فوجی اخبار ہے کہ حزب اللہ زلزال قسم کے ایرانی ساخت کے سو میزائلوں کی مالک ہے تقریباً (200) کیلومیٹر تک ہے اور یہ میزائل 2006ء میں جنگ (تموز) میں ان کے استعمال پر پابندی تھی اور فجر اور زلزال میزائل کا نام بھی خفیہ رکھ کر استعمال کرتے ہیں اور یہ میزائل عام مشینوں سے بھی نہیں اٹھائے جاتے بلکہ بھاری مشینری سے اٹھانے پڑتے ہیں اور انہیں وہاں رکھتے ہیں جہاں دشمن کا خطرہ کم ہوتا ہے حزب اللہ لبنانی کے پاس چار سو چھوٹی توپیں ہیں اور درمیانی سائز کے ٹرک بھی ہیں جن پر لاد کر لاتے ہیں۔آرش، نور، اور جدید قسم کے میزائل بھی ان کے پاس ہیں۔ عقاب العملاقہ جو (333) ایم ایم کا ہے یہ بھی حزب اللہ کے پاس ہے 1985ء میں ایران نے حزب اللہ کو میزائل دینے شروع کیے ہیں اور اب تک جاری ہیں حزب اللہ لبنانی کے پاس روی ساخت کے میزائلوں کے توڑ میں صفر (GT4) (AT3) (SPG2) حاصل کر لیے ہیں (TOW2) جو کہ امریکی ساخت کے ہیں یہ میزائل بھی حاصل کر لیے ہیں اب فوجی نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو (میرکافا FQR) اسرائیلی ٹینکوں کو تباہ کرنے والے میزائل جو کہ اس دنیا کا جدید ترین میزائل ہے یہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو کہ اسرائیلی ٹینک کو آگ سے بھسم کر دیتا ہے یہ حزب اللہ خفیہ طور پر حاصل کرتا ہے اسرائیل سے امریکہ لیتا ہے اور امریکہ سے آہستہ آہستہ خفیہ انداز میں ایران تک پہنچتا ہے سوریا بھی حزب اللہ کو اسلحہ دیتا ہے، زیادہ تر اس میں ٹینک شکن اسلحہ ہوتا ہے یہ بھی بالواسطہ لیتا ہے یہ روس کی جانب سے سوریا پہنچتا ہے سوریا آگے حزب اللہ کو دیتا ہے اور مرحلہ وار یہ اسلحہ پہنچتا ہے یہ اسلحہ جو حزب اللہ کو ملتا ہے یہ آٹو میٹک ہوتا ہے۔ یا آر بی جی (IT10) اور آر، بی، جی (29) وغیرہ یہ تمام اسلحہ جو حزب اللہ کو مل رہا ہے یہ ٹینک شکن ہے اور بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کرنے والا ہے سوریا نے حزب اللہ کو مزید (کورینٹ میزائل دیا ہے) جو کہ روسی ساختہ ہے یہ لیزر کی مدد سے نکلتا ہے اور اس کی ریج تین میل تک ہے یہ تو حزب اللہ لبنانی نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے کچھ سام میزائل ہمیں موصول ہوئے ہیں جو روسی ساختہ ہیں اور یہ چھوٹے ہیں جو کندھے پر رکھ کر چلائے جاسکتے ہیں لیکن یہ خاص انداز میں بنتے ہیں علاوہ ازیں وہ میزائل جو چینی ڈیزائن میں ہیں، یہ بحری بیڑہ سے دانے جاتے ہیں (802,801) ان کے نام ہیں۔ ان میں سے ایک (40) کلومیٹر تک مار کرتا ہے اور تقریباً سو کلو گرام کا گولہ پھینکتا ہے اور دوسرا میزائل (120) کلو میٹر اس کی رینج ہے جو گولہ اس سے نکلتا ہے اس کا وزن تقریباً (180) کلو گرام ہے اور پھیلنے والا مواد اس میں ڈالا ہوتا ہے جو میچ پر گرنے کے بعد نشانہ کی جگہ سے آگے پھیل جاتا ہے اور مزید تباہی مچاتا ہے لبنان میں آخری جنگ کے موقع پر 2006ء میں یہ میزائل داغا گیا تھا تا کہ اسرائیلی بیڑے کو تباہ کیا جائے۔ حزب اللہ کے پاس ایک دستہ ہے جو (غواص غوطہ خور) کے نام سے مشہور ہے ایک دستہ بحری کمانڈوز کا ہے ۔ جن کے پاس چائنہ کے بنے ہوئے بیڑے ہیں یہ سمندر میں کسی کو بھی ہدف بنا سکتا ہے۔ ایران نے حزب اللہ کو بغیر پائلٹ اڑنے والے طیارے بھی بڑی تعداد میں دیے ہیں۔ ان کی گنتی کا کسی کو علم نہیں یہ مہاجر (4) کی طرز پر ہیں حزب اللہ لبنانی نے ان کا نام بدل دیا ہے مرصاد 1 رکھا ہے یہ راڈار الیکٹرانکس نظام سے لیس ہے یہ طیارے (2000) فٹ بلندی تک اڑتے ہیں اورا یک گھنٹہ میں (120) کلومیٹر طے کر جاتے ہیں حال ہی میں ایران نے مہاجر (4) طیارے تیار کیے ہیں جو کہ (1000) فٹ بلندی تک پرواز کر سکتے ہیں اور اتنی تیز رفتاری ہے کہ (160) کلومیٹر ایک گھنٹہ میں طے کرتے ہیں تموز کی جنگ میں 2006ء میں ہوئی تھی اس میں ان کا آزادانہ استعمال کیا گیا تھا ایک تو اسرائیلی دارالخلافہ تل ابیب کی جانب روانہ ہوا تھا۔ تاہم اسرائیلی ایف سولہ طیاروں نے انہیں مار گرایا۔ اس مہاجر (4) پر دس مشین گنیں فٹ ہو جاتی ہیں یہ ہے داستان جس طرح حزب اللہ اسلحہ حاصل کرتا ہے۔

مطلب نمبر 7:

حزب اللہ کی خفیہ سرگرمیوں کا جائزہ:

(1)۔ حزب اللہ سرنگسازی اور فوجی علاقوں میں فیٹکونج ویتنام کی تنظیم کے مشابہہ انداز پر کام کرتی ہے۔ یہ علاقوں کی تعداد یا فوجی نقطہ نظر سے اس کا اندازہ لگاتی ہے۔ تقریباً 75 فوجی نقاط تیار کرتے ہیں جو جنوب لبنان سے لے کر جنوبی بیروت کے علاقے تک پھیلے ہوتے ہیں۔ انہیں مستقل دستوں کی شکلوں میں منظم کرتے ہیں ان کے ذریعے ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے ممکن ہوتا ہے۔ کہ وہ سینکڑوں انجینئروں ٹیکنیکل آدمیوں کو آگے بھیج سکیں اور شمالی کوریا کے ذریعے ایرانی ڈپلومیسی ہے اور دفتروں میں کام کرنے والوں اور لبنان میں ایران کے ہمنواؤں اور ملازموں کے روپ میں انہیں دوسرے ملکوں میں داخل کرتے ہیں۔ انہوں نے تقریباً 25 کلومیٹر پر زیرِ زمین محفوظ باڑ لگا رکھی ہے ہر خانہ ایک دوسرے سے مربوط ہے جہاں سے آسانی کے ساتھ حزب اللہ کا ہر جنگجو دوسری سرحد تک پہنچ جاتا ہے۔ ان پاسدارانِ انقلاب نے زمین میں تہہ خانے بھی تیار کر رکھے ہیں جہاں انہوں نے میزائل اور خوراک کے ذخائر جمع کیے ہوتے ہیں یہ آٹھ میٹر تک گہرے ہوتے ہیں انہوں نے تقریباً (20) میزائل زمین میں نصب کر رکھے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ ملنے والی سرحدوں کے قریب میں جتنے خانے تھے وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ختم ہو گئے تھے۔ 

صفحہ 4 از 6