تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت - ردِ رافضیت…

تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 5 از 6

(2)۔ لبنان میں سنی لوگوں کی رہائشوں پر حزب اللہ قبضہ کر لیتا ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو جہاں سنی لوگوں کے مکان ہیں یا مساجد ہیں وہاں اسلحہ اور خوراک کے ذخائر اور ان کی چھتوں سے میزائل داغنے کے بہانے شیعوں کو انتظامی کاروائی سے بچانے کے لیے ان پر قبضہ کر لیتے ہیں سنیوں کی بستی مرد چین میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔ بلکہ یہ حزب اللہ والے قصداً سنیوں کے قافلوں کے قریب سے اسرائیل پر گولے برساتے ہیں تا کہ اسرائیل رد عمل کے طور پر جب حملہ کرے تو یہ سنی قافلے اس کی زد میں آئیں اور حزب اللہ کے جنگجو محفوظ رہیں اسرائیلی حملہ کے دوران ایک ٹرک داخل ہوتا ہے جو کہ حزب اللہ کے زیر اثر تھا۔ اس میں سینکڑوں گولے لدے ہوئے تھے یہ سنیوں کے علاقہ کی طرف آرہا تھا، اچانک داؤ دے کر ایک قریبی عیسائی علاقہ میں چھپ جاتا ہے اس کا مقصد تھا حملہ سنیوں پر جو یہ اوجھل رہیں اور جوان کے تہ خانوں کا انکشاف ہوا ہے ان سے اسرائیل کی توجہ ہٹ جائے ان کی اس چکر بازی سے بے شمار معصوم لوگ مارے گئے اسرائیل کے طیاروں نے پر امن آبادی کو ہلاکت سے دوچار کر دیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کا اہم نقطہ جس پر ان کی نظر مرکوز رہتی ہے وہ یہ ہے کہ میزائلوں پر مقررہ دستوں کی نگرانی کریں تقریباً دو سو آدمی جو ماہر فن اور ٹیکنیکل آدمی ہیں اور ایران سے خصوصی تربیت یافتہ ہیں وہ نگرانی کرتے ہیں حزب اللہ کے پاس میزائلوں کے شعبہ کے متعلقہ تین دستے ہیں، ان کے اوپر بیس افراد ہیں جوان کی ٹیکنیک پر نگران ہیں اور چار پاسداران انقلابِ ایران کے مدیر ان کے کام کی جگہ اور مرکز کی نگرانی کرتے ہیں۔ ساتھ حزب اللہ کے چار افراد ہوتے ہیں ہر علاقہ میں ان کا قائدہ ہوتا ہے۔ 2006ء میں جنگی دفتر میں مصر اور اردن کی مشارکت سے پاسداران انقلاب نے اپنے مراکز کو بہت مضبوط رکھا تھا اور حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جو رابطہ تھا وہ اور پختہ ہوا اور فوجی معلومات حاصل کرنے پر پاسداران انقلاب کے چار آدمی مقرر تھے۔ اور یہی پاسدارانِ انقلاب اس پر بھی مقرر ہوتے ہیں کہ جب انہیں اطلاع ملے یا خطرہ محسوس کریں کہ اسلحہ سپلائی کرنے اور ذخیرہ کیے ہوئے اسلحہ کے بارے میں اسرائیلی طیاروں کی بمباری ہوگی تو ان کے ذمہ ہے کہ اس کو حملہ سے بچانے کے لیے انہیں محفوظ مقامات تک جو ان سے بھی زیادہ خفیہ ہیں اسے وہاں منتقل کر دیں۔ 

مطلب نمبر 8:

حزب اللہ کا نظامِ جاسوسی:

سوری فوجیں جب لبنان سے نکلنے پر مجبور ہوئیں، جمیل اسد اور سورمی نمائندوں کے درمیان مذاکرات طے پاگئے۔ علاوہ ازیں پاسداران انقلاب ایران اور حزب اللہ کے رفقاء آپس میں مل گئے ہوریوں کے غلبہ کے سامنے ہر چیز سرنگوں ہوگئی تھی اس وقفہ میں بھی حزب اللہ نے بڑی ہولناک معلومات حاصل کیں یہ لبنان کی ایک ایک حرکت کی معلومات تھیں۔ حزب اللہ ان نمائندوں سے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ ان مذاکرات میں شامل تھے لبنان میں سوریوں کے بعد تمام اداروں کی معلومات ان کے ہاتھ آئیں۔ حکومتِ بیروت کے رفیق حریری ایئر پورٹ پر آنے جانے والوں مسافروں کے متعلق خصوصی معلومات رکھتے تھے۔ حزب اللہ اپنے کارندوں کے ذریعے جب چاہے اور جو چاہے ایئر پورٹ کے متعلق اور بیرون کے منافع اندوزی کے اہم مراکز کے متعلق اندرونی سرگرمیاں آمد و رفت مال لوڈ کرانے اور مسافروں کے متعلقہ، جہازوں اور کشتیوں پر سامان لوڈ ہونے کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس میں حزب اللہ کے جاسوس اور حرکت امل کے جاسوس تعاون کرتے ہیں اور جو مقام حملہ کے لیے موزوں تر ہیں ان کے متعلق ان کا اہتمام زیادہ کرتے ہیں۔ فوج، ایئر پورٹ، امن عام اندرونی امن کے متعلقہ چیزوں کی معلومات کا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ لبنان میں سودی دور سے لے کر اب تک یہ ساری معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے یہ کارندے معلومات حاصل کرتے ہیں اس کے بعد یہ یومیہ دس صفحات پر مشتمل معلومات ساری کی ساری حسن نصر اللہ تک پہنچاتے ہیں وہ کچھ وقت لگا کر ان پر غور کرتا ہے تا کہ وہ سیاسی صورتِ حال اور امن و امان کا جائزہ لے سکے۔ پندرہ برس سے حزب اللہ کا یہ صدر آ رہا ہے اس میں اس کا کوئی مدِ مقابل سامنے نہیں آ رہا۔ 

مطلب نمبر 9:

حزب اللہ کا تنظیمی نیٹ ورک:

حزب اللہ کا جنرل سیکرٹری مجلسِ جہاد کا پابند ہوتا ہے۔ یہ شعبہ، فوج، شعبہ امن کے ارکان پر مشتمل کمیٹی ہوتی ہے اس کا پھر نائب سیکرٹری ہوتا ہے، اس کے بعد شعبہ امانت عامہ کا ہوتا ہے اس کے بعد اس کی تابع شاخیں بنتی ہیں سیکرٹری جنرل کی مجلس کے ارکان کے تحت مجلس تنفیذی ہے مجلس سیاسی ہے، مجلس قضائی ہے اور مجلس تخطیط یعنی وہ مجلس جو منصوبہ بندی کرتی ہے۔

(1)۔ مجلسِ سیاسی:

اس مجلس کا سر براہ ابراہیم امین السید ہے یہ اسلامی فرقوں، وطنی جماعتوں ہیجی گروہوں فلسطینی تنظیموں سے رابطے رکھتی ہے۔ میڈیا، یعنی اخبارات، ریڈیو، ٹیلیویژن سے رابطہ رکھنا اور نمائندوں اور کارندوں اور آزادی کی جدو جہد اور خارجی تعلقات کے متعلقہ رابطہ بھی اس مجلس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ 

(2)۔ مجلسِ جہادی:

یہ کمیٹی سیاسی معاملات سیکرٹری تک محدود رکھتی ہے۔ یہ دوسری سرگرمیاں جاری رکھتی ہے یہ فوجیوں پر مشتمل ہے۔ کچھ ارکانِ مجلس مفیدی سے بھی اس میں ہوتے ہیں۔ فوجی اور ارکانِ امن کمیٹی اور مجلس شوریٰ سے بھی ارکان اس میں ہوتے ہیں اور پارلیمانی معاملات بھی اس مجلس کے ذمہ ہیں۔ مجلس شوریٰ حزب اللہ میں نظام کو محکم کرتی ہے اس کے ساتھ ارکان ہوتے ہیں باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ اس میں دو ارکان ایران سے ہیں۔ عماد مغنیہ مجلسِ جہاد کا ریئس ہے یہ نائب سیکرٹری کے عہدہ کے برابر مرتبہ رکھتا ہے اگرچہ اس کا اصل میدان فوجی معاملات کا بھرپور خیال رکھنا ہے۔ اس آدمی کی ایران کی خبررساں ایجنسی کے ہاں اکثر آمد ورفت ہے اس کی وجہ سے لبنان سے ایران کا مسلسل رابطہ رہتا ہے اور ہر ایک بات لبنان کی ایران پہنچ جاتی ہے۔ اصحابِ شوریٰ کے ضمن میں ہی مجلسِ اجتماعی اور مجلسِ عسکری اور مجلسِ سیاسی ہے۔

صفحہ 5 از 6