تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت - ردِ رافضیت…

تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 6 از 6

(3)۔ نظرِ ثانی اور توثیق کا مرکز مشاورت ہے یہ حزب اللہ کا مخصوص تدریسی مرکز ہے۔ اس کا سربراہ ڈاکٹر علی فیاض ہے، بعض تو اسے حزب اللہ کا نگران اعلیٰ قرار دیتے ہیں۔ الشراع اخبار کے بیان کے مطابق یہ حزب اللہ کی خفیہ قیادت ہے۔ یہ حرکتِ امل کے انداز کی تحریک ہے۔ عماد مغنیہ اور اس کا سسر مصطفیٰ بدرالدین اس کے روح رواں ہیں، حکومت کویت میں اس کا ٹھکانہ ہے۔ یہ امیر کویت کے قتل کی سازش بھی کرتے رہے ہیں۔ بیروت میں ایرانی وزراء جتنے بھی ٹھکانے بنا رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر پاسدارانِ انقلابِ ایران ہیں ان میں اتفاق کی بدولت لوگوں کی نظروں سے یہ پاسداران چھپے رہتے ہیں۔ حزب اللہ کو پتہ ہے کہ عیسیٰ طباطبائی یہ لبنان میں ایران کے اداروں کا بانی ہے اداراہ الامداد الشہید، جہاد، البناء وغیرہ کا یہی موجد ہے۔ یہی طباطبائی حزب اللہ کے خفیہ منصوبے ان کی تربیت اور ان کی ترقی کے لیے سارے کام اپنی نگرانی میں سرانجام دیتا تھا۔ یہ 1974 ء سے لبنان میں موجود ہے۔

 (4)۔ حزب اللہ والے اپنی تنظیمی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بند کمرے میں کانفرنس بلاتے ہیں اس میں اندرونی حالات و حادثات تغیر پذیر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے قائد ان میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔ ایک ان کی میٹنگ ہر تین سال کے بعد منعقد ہوتی ہے جس میں مرکزی مجلس کے اہم اور اساسی ارکان اکٹھے ہوتے ہیں۔ یہ (300) ارکان پر مشتمل ہے اس اجلاس میں مجلس شوریٰ کا انتخاب ہوتا ہے اور اس اجلاس میں سیکرٹری جنرل اور نائب سیکرٹری اور بنیادی مسئولین کا انتخاب ہوتا ہے یا پھر پہلے ہی کو برقرار رکھنا ہو تو اس کی تجدید کی جاتی ہے جیسا کہ بار ہا دفعہ (حسن نصر اللہ ہی کا انتخاب ہو رہا ہے)۔


صفحہ 6 از 6