Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کے مطابق روایت کی تصحیح کرنا

  علی محمد الصلابی

اس کی مثال سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی وہ روایت ہے جو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مہینا انتیس دنوں کا ہوتا ہے۔‘‘

یہ بات لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انھوں نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمٰن پر رحم کرے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک ماہ تک چھوڑے رکھا۔ پس آپ انتیس دنوں کے بعد لوٹ آئے؟ یہ بات آپ سے کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک مہینے میں انتیس دن بھی ہوتے ہیں۔‘‘

(مسند احمد: حدیث نمبر: 5182۔ تحقیق المسند: جلد 7 صفحہ 142 پر احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح کہا اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 7 صفحہ 1456 میں اسے صحیح کہا ہے۔

اس کی مثال یہ بھی ہے کہ میت کو اس کے ورثا کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ چونکہ عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے:

جب مکہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی فوت ہوئی تو ہم جنازہ میں شامل ہونے کے لیے آئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے اور میں ان دونوں کے درمیان یا کسی ایک کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر دوسرا آیا اور میرے پہلو میں بیٹھ گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے عمرو بن عثمان! تو رونے سے روکتا کیوں نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک میت کو اس پر اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔‘‘

سیدنا ابن عباس رضی  اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کہا کرتے تھے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ان کو دیکھ کر رونے لگے اور کہنے لگے ہائے میرا بھائی! ہائے میرا ساتھی! تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مخاطب کیا: اے صہیب! تو مجھ پر روتا ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے میت کو اس کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔‘‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو میں نے یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی۔ وہ کہنے لگیں: اللہ عمر پر رحم کرے، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہر گز نہیں فرمایا کہ مومن کو اس کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ کافر کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے اس کافر کے عذاب میں اضافہ کر دیتا ہے۔‘‘ پھر آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تمھیں یہ قرآن کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ ۞ (سورۃ الإسراء آیت 15)

ترجمہ: اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ 

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے۔

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں۔ اللہ کی قسم! ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر کچھ نہیں کہا۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 88، 1287، صحیح مسلم: حدیث نمبر: 29، 927۔)