گروہ بہایہ اور بابیہ کا تعارف اور عقائد - ردِ رافضیت | دفاع…

گروہ بہایہ اور بابیہ کا تعارف اور عقائد

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

(3)۔ اس باب یا بہائی فرقہ کا بانی مرزا یحییٰ علی ہے۔ یہ بہاء کا بھائی تھا اسے صبح ازل کا لقب ملا تھا۔ باب نے خلافت کی اسے ہی وصیت کی تھی۔ اس نے اپنے ساتھیوں کا نام ازلیین رکھا تھا۔ اس کے بھائی مرزا حسن بہاء نے اس سے تنازع کیا خلافت میں بھی اختلاف کیا اور الوہیت کے دعویٰ میں بھی اختلاف کیا اور دونوں بھائیوں نے اسی کشاکش میں ایک دوسرے کو زہر دینے کی کوشش کی۔ ان کے درمیان اور شیعوں کے درمیان اختلاف کی شدت نے یہ رخ اختیار کیا کہ انہیں ادرما ترکی میں جلاوطن کر دیا گیا۔ یہ 1863ء کی بات ہے، وہاں یہودی رہتے تھے۔ صبح ازل کے ماننے والوں اور بہاء کے ماننے والوں کے درمیان اختلافات مسلسل جاری رہنے کی وجہ سے عثمانی بادشاہ نے بہاء اور اس کے پیروکاروں کو (عکا) کی طرف جلا وطن کر دیا۔ اور صبح ازل اور اس کے پیروکاروں کو قبرص میں جلا وطن کر دیا یہ وہیں مر گیا۔ یہ 1921ء ماہِ اپریل کی (29) تاریخ تھی اس کی عمر تقریباً (82) برس تھی۔ بہت ساری کتابیں پیچھے چھوڑ کر مرا ہے۔ اس کی ایک کتاب الالواح ہے یہ البیان کی تکمیل ہی ہے۔ اس نے اپنے بیٹے کی خلافت کے لیے وصیت کی تھی جو بعد میں عیسائی ہوا تو اس کے پیروکار اسے چھوڑ گئے۔

(4)۔ مرزا حسین علی تھا اسے بہاءاللہ کے لقب سے پکارتے تھے۔ یہ 1877ء میں پیدا ہوا تھا اس باب کی خلافت پر اپنے بھائی سے اختلاف کیا تھا اس نے بغداد میں اپنے پیروکاروں اور مریدوں کے سامنے اعلان کیا تھا۔ میں ہی وہ ہوں جو کامل ظہور لے کر آیا ہوں۔ باب نے میری ہی بشارت دی تھی۔ میں ہی اللہ کا رسول ہوں۔ جس میں الوہیت کی روح اتر آئی ہے، اس کی دعوت عقائدِ بہائیہ کے بارے میں دوسرے مرحلہ میں داخل ہوئی ہے۔ حسین علی نے اپنے بھائی صبح ازل کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اس کے اور ادرما ترکی یہودیوں کے ساتھ تعلقات تھے اب بہائی اس سرزمین ترکی کو ارضِ اسرراز کی سرزمین کہتے ہیں۔ یہاں اس نے اپنے بھائی کے بہت سارے پیروکاروں کو قتل کیا تھا۔ 1892ء میں ازیسین میں سے کسی نے اسے مار ڈالا اور عکا شہر کے بہجہ مقام پر دفن کیا گیا۔

اس کی ایک کتاب اقدس ہے جس کا نام البیان و الایقان ہے۔ اس کی کتابوں میں یہودیوں کو سرزمین فلسطین میں جمع ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

(5)۔ سربراہ عباس افندی ہے اسے عبد البہاء کے لقب سے پکارتے تھے۔ 23 مئی 1844 میں پیدا ہوا۔ اس کے والد بہاء نے خلافت کی اس کے نام وصیت کی تھی۔ یہ بڑی شخصیت کا مالک تھا زیادہ تر مؤرخین کا خیال ہے اگر یہ عباس نہ ہوتا تو بہائیہ اور بابیہ فرقہ برقرار ہی نہ رہتا۔ بہاںٔیوں کا عقیدہ ہے انہ معصوم غیر مشرع یہ معصوم ہے اور کسی شریعت کا پابند نہیں۔ اس نے اپنے باپ کی ربوبیت میں یہ اضافہ کیا تھا کہ القادر علی الخلق وہ مخلوق پر قادر ہے اس کے بعد عباس افندی نے سویسرا کا سفر کیا۔ صیہونی کانفرنس میں شرکت کی خصوصاً پال کانفرنس جو کہ 1911ء میں منعقد ہوئی۔ اس میں صیہونیت کی تائید کی۔ جنرل لمپی نے اس کا استقبال کیا جب یہ فلسطین آیا تو اسے خوش آمدید کہا۔ برطانیہ نے اسے سر کا خطاب دیا۔ دیگر بلند و بالا تمغے اس کے علاوہ ہیں۔ یہ لندن امریکہ، المانیا، مچر، اسکندریہ، بھی گیا اسلامی بلاک سے ہٹ کر یہ دعوت دینے گیا تھا۔ اس نے شکاکو میں بہائیوں کے ایک بڑے اجلاس کی بنیاد رکھی اور حیفا کوچ کیا۔ 1913ء میں اس کے بعد قاہرہ گیا۔ وہاں یہ1921ء میں مر گیا۔ اس نے اپنے باپ کی تعلیمات لکھی اور یہودیوں کی کتاب تورات کے عہدِ قدیم سے اپنے نظریات کی تائید اقتباسات کا اضافہ کیا۔

(6)۔ شوقی افندی ان کا سربراہ ہوا ہے اس کے دادا عبدالبہاء نے اسے اپنا نائب بنایا تھا۔ ابھی 24 برس کا تھا اسی کے طریقہ کو اپنایا۔ جمیعتیں اور دنیا میں جتنی بھی بہائی تنظیمیں تھی انہیں یکجا کیا، اور اس نے بہائی عدالت کا انتخاب کیا۔ یہ لندن میں حرکتِ قلب بند ہونے سے مر گیا۔ اسی زمین میں دفن ہوا جو حکومتِ برطانیہ نے بہائی فرقہ کو ہدیہ میں دے رکھی تھی۔ 1963 میں نو بہائی افراد بہاںٔیہ فرقہ کے سربراہ منتخب ہوئے۔ بیت العدالت کی بنیاد انہوں نے رکھی تھی۔ چار امریکی ہیں، دو انگریز ہیں، تین ایرانی ہے۔ یہ فرنانڈوسانٹ کی ریاست میں بنیاد رکھی تھی۔ اس کے بعد اس ریاست کا سربراہ امریکی شہریت رکھنے والا یہودی میثون ہے۔

بابیہ بہاںٔیوں کے عقائد:

(عقیدہ نمبر1):

بہائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا علی محمد رضا شیرازی، ہر چیز کا خالق ہے۔ اپنے کُن کے کلمہ سے اس نے ہر چیز پیدا کی ہے۔ تمام اشیاء کو ظہور بخشا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز میں حلول کیے ہوئے ہیں۔ یہ وحدت الوجود کے قائل ہیں۔ تناسخ یعنی جون بدل کر روح آتی ہے اس کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور کائنات ہمیشہ رہے گی اور ثواب عذاب صرف روح کو ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک خیال ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں اور یہ (19) کے عدد کو بڑا مقدس مانتے ہیں۔ یہ مہینوں کی تعداد بھی (19) ہی قرار دیتے ہیں. مہینے کے دن بھی (19) شمار کرتے ہیں۔ اس بارے میں محمد رشاد خلیفہ بھی ان کے پیچھے چل پڑا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے قدوسیت صرف (19) کے عدد میں ہے۔ اور یہ کہتا ہے کہ قرآن کریم بھی اپنے نظم میں (19) قیادت کے مطابق کلمات اور حروف رکھتا ہے۔ لیکن اس کا یہ دعویٰ بے حد غیر معتبر اور علمی معیار سے گرا ہوا ہے۔ بہائی یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ بوذا ہندوؤں کا نبی تھا۔ کنفیوشیش چین کا حکیم جو ہے یہ بھی نبی تھا برہمن کا اور فارسیوں کا حکیم زرتشت یہ بھی نبی تھے جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا نظریہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی چڑھ گئے ہیں۔ یہی عقیدہ بہائیوں کا ہے اور یہ قرآن پاک کی باطنی تاویلات کرتے ہیں۔ جو کہ بالکل غلط ہے انبیاء کرام علیہم السلام کے معجزات کے منکر ہیں، فرشتوں اور جنوں کی حقیقت ماننے سے انکاری ہیں۔ جنت اور دوزخ کا وجود تسلیم نہیں کرتے اور عورتوں کے لیے پردہ کرنا حرام تصور کرتے ہیں۔ متعہ کو جائز قرار دیتے ہیں مال اور عورت کو کسی ایک کی ملکیت نہیں جانتے بلکہ جو چاہے ان سے فائدہ اٹھائے اور کہتے ہیں: 

دین الباب ناسخ لشریعة محمدﷺ ویؤولون یوم القیامة بظھور البھاء ۔

صفحہ 2 از 3