گروہ بہایہ اور بابیہ کا تعارف اور عقائد - ردِ رافضیت | دفاع…

گروہ بہایہ اور بابیہ کا تعارف اور عقائد

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 3

بابیہ کے دین نے حضرت محمدﷺ کی شریعت کو منسوخ کر دیا ہے اور یہی روزِ قیامت ہے کہ بہاؤ الدین کا ظہور ہو گیا ہے۔

نمبر 2: ان کا قبلہ اور نماز:

فلسطین میں عکا شہر کی بہجہ جگہ ان کا قبلہ ہے مکہ مکرمہ میں موجود مسجدِ حرام کو یہ قبلہ تسلیم نہیں کرتے، یہ وہ جگہ ہے جہاں ان کا امام بہاؤ الدین حسین بن علی موجود ہے۔ اور جہاں وہ جگہ بدلتا ہے وہیں ان کا قبلہ بن جاتا ہے۔ یہ زندگی میں ہے جب وہ مر جاتا ہے تو اس کی قبر ان کا قبلہ بن جاتی ہے۔ جو عکا میں میں ہی بناتے ہیں۔ ان کی نماز دن میں تین مرتبہ ہے اور نو رکعات پڑھتے ہیں۔ یہ گلاب کے عرق سے وضو کرتے ہیں۔ اگر یہ میسر نہ آئے تو یہ پڑھنا ہی ان کا وضو ہے (بسم الله الاطھر والمطھر) اسے پانچ مرتبہ دہراتے ہیں۔ یہ سوائے نمازِ جنازہ کے اور کوئی نماز باجماعت نہیں پڑھتے اور ان کی نمازِ جنازہ میں چھ تکبیرات ہیں اور ہر تکبیر میں اللہ ابھی کہتے ہیں۔ بہاء میرا اللہ ہے اور نمازِ جنازہ میں میت پر (19) مرتبہ یہ درج ذیل کلمات پڑھتے ہیں۔

انا کل لله عابدون۔ انا کل لله ساجدون۔ انا کل لله قانتون۔ان کل لله ذاکرون۔ انا کل لله شاکرون انا کل لله صابرون۔

ہم سب اللہ کے لیے عبادت گزار، سجدہ کرنے والے فرمانبردار ذکر کرنے والے شکر کرنے والے اور صبر کرنے والے ہیں۔

ان کی نماز کے اوقات یہ ہے کہ بہائی فرقہ والا جب اپنی فرصت پائے نماز ادا کرے۔ اور جو نمازِ کبریٰ ادا کرے اسے نمازِ صغریٰ یا وسطیٰ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کی نمازوں کے تین اوقات ہیں، صبح ظہر اور شام یہ زوال کے وقت جو نماز ادا کر لے تو کبریٰ اور وسطیٰ نماز ان سے ساقط ہو جاتی ہے۔ ان کی کتابِ اقدس میں لکھا ہے: 

قد کتب علیکم فی الصلاۃ تسع رکعات و أوقاتھا ثلاثة الله منزل الآیات حین الزوال وفی البکور والاصال۔ 

تم پر نماز کی نو رکعت فرض ہے اور ان کے تین اوقات اتارنے والے رب نے مقرر کیے ہیں۔ زوال کا وقت صبح کا وقت اور شام کا وقت۔

ان کے نزدیک نماز باجماعت پڑھنا حرام ہے۔ تاکہ مسلمانوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو جائے۔ ان کی کتابِ اقدس میں ہے: 

کتب علیکم الصلاۃ فرادی قد رفع حکم الجماعة الآتی صلاۃ المیت۔ 

تم پر اکیلے اکیلے نماز پڑھنا فرض ہے جماعت کا حکم نمازِ جنازہ میں ہے.

مسافر، مریض، بوڑھا یا کمزور ان سے نماز معاف ہے سفر میں بہائی فرقہ سے متعلق انسان سجدہ میں یہ کہہ دے سبحان اللہ تو اس کے نماز پوری ہو گئی اور ان کی یہ بات ان کے امام حسین بہاء نے پوری زندگی میں ایک بھی نماز نہیں پڑھی، وجہ یہ ہے کہ ان کا عقیدہ ہے یہ قبلہ ہے جس کی طرف وہ نماز میں توجہ کرتے ہیں۔ اس لیے قبلے کو نماز کی ضرورت نہیں۔

نمبر 3: بہاںٔیوں کا روزہ:

ان کا روزہ (19) ایام کا ہوتا ہے۔ یہ مہینہ علا کے نام سے مشہور ہے۔ ان دنوں میں طلوعِ آفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک یہ کھانے سے رک جاتے ہیں۔ اس کے آخر میں نو روز کی عید مناتے ہیں۔ یہ بھی (11) سے لے کر (42) تک ہوتا ہے اس کے بعد روزہ کی پابندی بھی ختم ہو جاتی ہے۔

نمبر 4: بہائیوں کا جہاد:

انکے نزدیک جہاد کرنا حرام ہے اور دشمنوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا بھی حرام ہےـ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ استعماری طاقتوں کی خدمت کے لیے کہتے ہیں ـ

نمبر 5: ختمِ نبوت کا انکار:

یہ محمدﷺ کی ختمِ نبوت کو نہیں مانتے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وحی جاری ہے انہوں نے قرآن پاک کے مقابلہ میں کئی کتابیں تیار کی ہیں۔ خطاؤں کا پندہ اور لغوی اغلاط سے پراگندہ اور اسلوبِ بیان میں سراگندہ ہیں۔

نمبر 6: بہاںٔیوں کا حج:

یہ مکہ میں حج کرنے کو باطل قرار دیتے ہیں۔ ان کا حج فلسطین کے مقام عکا کے اندر بہجہ جگہ میں ہے علاوہ ازیں شریعت کی عبادات حدود اور قصاص وغیرہ جو بھی قرآن و حدیث میں ہے یہ ان کو نہیں مانتے نہ ہی عربی زبان بولتے ہیں۔ اس کے تو اتنے شدید مخالف ہیں اسے دوسری بولی پہ بدل دیتے ہیں جیسے یہ نورانی لغت کہتے ہیں، اور ان کا اس لغت کے بارے میں عقیدہ ہے یہی نورانی لغت کائنات کی سیادت عطا کرے گی۔ وغیرہ ذلک من الخرافات۔


صفحہ 3 از 3