بہاںٔیوں کے ٹھکانے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

بہاںٔیوں کے ٹھکانے

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

ملک اردن میں جو بہائی پائے جاتے ہیں یہ فلسطین ہی سے آئے تھے شروع میں سے یہ عدسیہ کے علاقے میں آئے لواء لااغوار کے شمالی علاقوں میں اترے انہیں آلِ واکد زرعی زمینیں عطاء کیں، تاکہ یہ گزران کر سکیں، بہاںٔیوں نے وہاں قصرِ واکد تعمیر کیا۔ بہاںٔیوں نے اس محل میں اپنی عبادت گاہ کا مرکز اور مدرسہ بنایا یہ اردن میں اب تک ان کے آثارِ قدیمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آلِ واکد کے ساتھ ان کے تعلقات بہت دیر سے لے کر اب تک مضبوط ہیں۔ اردن میں تقریباً بہائیوں کی تعداد آٹھ سو ہے امریکی اخبار کی سالانہ رپورٹ کے مطابق بہائی دینی آزادی کے نام پر اردن کے شریعت کے متعلقہ محکموں پر تنقید کرتے ہیں، اور شخصی معاملات اپنے زیرِ اثر لانے کے لیے احتجاج کرتے ہیں بعض اخبارات کے مطابق بہائیوں نے جو اردن کے شرعی محکموں کے خلاف معاملہ اچھالا تھا اس کا ذکر کیا ہے مثلاً اخبار الرایۃ الاسلامیہ نے تو اس کا خصوصی ذکر کیا تھا۔ مال میں سونا مارکیٹ میں بہائیوں کا اثر و رسوخ کافی زیادہ ہے اور ان کی کتابیں اور بعض نشریات بھی ہے عمان میں ان کا علاقہ طبرپور میں ایک قبرستان بھی ہے۔ اور عمان میں ہی جبلِ تاج میں ان کا مدرسہ رحمت کے نام پر ادارہ ہے۔ مصر میں بہائیت نے علی محمد کے تعاون سے پاؤں جمائے ہیں۔ یہ 1912ء میں ولی عہد تھا۔ یہ محمد علی امریکہ میں عبدالبہاء سے ملا اور اخبارات میں اس کی تعریف کی، محمد علی جب واپس آیا تو یہ بہائیوں کا معاون بن کر آیا۔ محمد علی کا سیکرٹری احمد فاںٔق تھا۔ یہ بہاںٔیوں کا بہت بڑا لیڈر تھا۔ اس کی منشی ایک خاتوں تھی۔ جو بہت ہی خوبصورت تھی یہ بہاںٔیت سے وابستہ تھی اور اس کی داعیہ تھی۔ اس کی وجہ سے بھی بہائیوں کو مصر میں بہت بڑا سہارا مل گیا۔ یہ سابقہ مصر حکومتوں کے خاندان سے تھی ملا علی تبریزی اور مرزا حسن فرسانی کے سرپرستی میں مصر میں بہائیت بہت زیادہ پھیلی تھی۔ عبدالکریم طہرانی مرزا ابو الفضائل جورفاد قانی جو کہ قاہرہ میں ہی 1914ء میں مر کر قاہرہ ہی میں دفن ہوا۔ یہ بہاںٔیوں کا بہت بڑا داعی تھا۔ عبدالبہاء کے بعد یہ ہی بڑا داعی تھا۔ یہ مصر میں طویل عرصہ زندہ رہا شروع میں اس نے بہائیت کے ساتھ اپنی وابستگی اور ایمان و نسبت کا ذکر نہ کیا مگر خفیہ زہر پھیلاتا رہا۔ جب اسے جان کی امان ملی تو اسے پورے وثوق کے ساتھ علی الاعلان پھیلاتا رہا اور پورا ان کا دفاع کرتا رہا، جھگڑتا رہا اور اخبارات میں بہاںٔیت کا دفاع کرتا رہا، خصوصاً اخبار المقنطف میں دھوکہ بازی میں اتنا زیادہ آگے جا چکا تھا کہ اس نے بہاںٔیت کی دعوت لیڈروں، سیاسی لوگوں اور قائدین تک پہنچا دی، اور انہیں بہائیت کے جال میں پھنسا دیا، مصطفیٰ کامل اس کی مدح سرائی کرنے لگا۔ اور اس کی الدر البہیہ کی اپنے اخبار اللوا میں تعریف کی المأيد اخبار کے ایڈیٹرز کو بھی پھنسانے ہی والا تھا مگر شیخ رشید رضا نے اپنے رسالہ المنار میں ایسا زبردست اور مضبوط جرأت مندانہ حملہ کیا کہ لوگوں کو علم ہوا کہ یہ تو ایک بت پرستی کا فرقہ ہے۔ یہ پڑھ کر المؤید کا ایڈیٹر بھی اس فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچ گیا شیخ حسونہ فوادی کے عہد میں ازہر یونیورسٹی میں بھی بہائیوں نے ہنگامہ آرائی کی تھی لیکن انہیں وہاں سے نکال دیا گیا ان کے مشہور داعی درج ذیل ہے۔

فرج اللہ کردی یہ مصر میں بہاںٔیوں کی کتابیں طبع کرواتا تھا۔ شیخ الجزاوی کے عہد میں ازہر میں کرد بہاںٔیوں کی نشاندہی ہوئی، انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا لیکن انگریز جو اس وقت مصر پر قبضہ چاہتے تھے۔ ان کے دیگر مطالبات پورے کرنے کے خلاف رک گئے۔ اور بہائیوں نے ان کے ماتحت اور ان کی نگرانی میں کام شروع رکھا۔ اس وقفہ میں انہوں نے کئی محفلیں منعقد کی۔ اہم ترین وہ تھی جو اپنے مرکز قاہرہ میں منعقد کی الدر مرداش، ہسپتال، کے قریب اس کا انعقاد کیا تھا۔ تاہم بہائیوں کے سر پر ایک شدید ضرب لگی کہ ان کا اہم ترین داعی الحاج عبدالکریم طہرانی اسلام میں واپس لوٹ آیا اس نے اس فرقہ کے معاملہ کی خوب نقاب کشائی کی۔

1960ء میں حکومتِ مصر نے یہ حکم جاری کیا کہ بہائیوں کے اجلاس پر پابندی ہے اور ان کی املاک قبضہ میں لے لی جائیں۔ اور کوئی بھی بہائی مذہب کے نام کی سرگرمی منع ہے۔ اس بیان کے بعد 1984ء میں مصری پولیس نے اکتالیس افراد حسین بیکار کی قیادت سمیت قبضہ میں لیے۔ یہ المصریہ اخبار کا صحافی تھا اور یہی ان کی مصر کے مرکزی اجلاس کا اہم کردار تھا سوڈان اور شمالی افریقہ کے بہائیوں کا رئیس تھا عدالت نے اسے تین سال تک قید کرنے کا فیصلہ سنایا اور ایک ہزار مصری پونڈ جرمانہ بھی کیا۔ لیکن نئی عدالت نے اسے 2001ء میں بری کر دیا مصر کی حکومتی اداروں نے اور سوہاگ کی نگرانی میں شرعی عدالت نے بہائیوں کی عقیدہ کی خرابی واضح کی اور یہ بیان دیا کہ بہائیوں کی تمام کتابوں پر پابندی ہے جیسا کہ لعھد والمیثاق ہے۔ (المجموعہ والمبارکہ) ہے یہ ان رسائل کا مجموعہ ہے جو بہائی دین پھیلانے کا باعث تھے اور   مفاوضات عبدالبہاء کو بلجیکا کی حکومت کے دارالنشر سے طبع ہوئی تھی ان سب پر پابندی ہے۔ 2006ء میں مصر کی عدالت علیا نے یہ حکم جاری کیا کہ بہائی دین ایک رسمی دین نہیں یہ ایک شخصیت پرستی دین ہے، لہٰذا اس کی تدوین و اشاعت پر پابندی ہے۔ انڈونیشیا کے سربراہ عبدالرحمٰن وحید کے عہد میں وہاں بہائی پائے گئے تھے اس دور میں انہیں حریت گفتار حاصل ہوئی اور سربراہ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس سے پہلے یہ خفیہ کام کرتے تھے۔ انہوں نے 2000-21-3 میں یہاں علی الاعلان اجلاس منعقد کیا۔ سربراہ انڈونیشیا وحید خود اس میں شریک ہوا تھا۔ اور ان کی عید کی مبارک باد دی۔

صفحہ 2 از 3