فقہ الحدیث اور اس کی فہم کے لیے مکمل کوشش کرنا
علی محمد الصلابیاس کی مثال علقمہ کی روایت ہے:
’’ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں یوں مخاطب کیا۔ کیا تم یہ حدیث بیان کرتے ہو کہ ایک عورت کو اس کی بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا، اس نے اسے باندھ دیا نہ اسے کچھ کھانے کو دیا اور نہ اسے پانی پلایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سنا عبداللہ بن احمد بن حنبل نے کہا میں نے اپنے باپ سے اسی طرح یہ حدیث سنی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو وہ عورت کون تھی۔ عورت نے جو کیا سو کیا بہرحال وہ کافرہ تھی اور مومن اللہ عزوجل کے ہاں اس سے کہیں زیادہ معزز ہے کہ وہ اسے بلی کے لیے عذاب دے۔ لہٰذا جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرنے لگو تو اچھی طرح غور کر لو کہ کیا بیان کر رہے ہو۔‘‘
(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 519 حدیث نمبر: 10738۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد (جلد 1 صفحہ 121) میں کہا اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔