بہائیوں کے فقہی احکام اور بہائیوں کی مقدس کتابیں - ردِ…

بہائیوں کے فقہی احکام اور بہائیوں کی مقدس کتابیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 2

اور ان کی کتاب الاقدس بھی ردی افکار کا مجموعہ ہے اور گھٹیا معانی پر مشتمل ہے اور بے مقصد احکام ہیں جو معاشرتی زندگی سے جہالت کا ثبوت ہیں۔ ایک کہتا ہے:

من یدعی الباطن وباطن الباطن قل ایھا الکذاب تاالله ما عندك انه من القشور ترکنا ھالکم کما تترك العظام للکلاب۔ 

جو باطن کا دعویٰ کرتا ہے اور باطن کے باطن کا بھی کہہ دو اے کذاب اللہ کی قسم تمہارے پاس چھلکا ہے جو ہم نے تمہارے لیے چھوڑا ہے، جس طرح ہڈیاں کتوں کے لیے چھوڑی جاتی ہیں۔

غور فرمائیں! یہ اسلوب و انداز اللہ کا ہوسکتا ہے قطعاً نہیں یہ تو کسی غیر مہذب کی بات ہے۔ علاوہ ازیں اس میں اور حماقتوں کا اعتراف کیا ہے پتہ چلتا ہے۔ جیسے ذبح کرنے والے ویسے ہی کھانے والے کی صورت ہے۔ گرمیوں میں وضو ایک مرتبہ ہے اور سردیوں میں ہر تین دن بعد کرنا ہے کتنا کھلا تضاد ہے۔ بڑے ہی ردی اور رکیک انداز پر قرآن پاک سے الفاظ و انداز چرانے کی کوشش کی ہے سورة الرعد کی ایک آیت سے بڑے بھونڈے انداز سے سرقہ کرتا ہے:

انا الذین نکسوا عھد الله فی اوامرهٖ ونکسوا علی اعقابھم اولٓںٔک من اھل الضلال لدی الغنی المتعال۔ 

اسی طرح اس دجال نے سورۃ بقرہ سے بھی آیات کو چرا کر اور آیات بدل کر اور درمیان میں کلمات کا اضافہ کر کے لوگوں کو قرآن پاک کا دھوکہ دینے کے لیے جھوٹ تیار کیا ہے۔ اس کی کتاب اقدس میں ہے: 

قل لو اجتمع من فی السموات والارض وما بینھما ان یاتوا بمثل ذالک الانسان لن یستطیعون ولن یقدرون ولو کانوا کل بکل مستعین۔ 

اس میں علمِ نحو کے قاعدوں کے خلاف لکھا ہے کہ لن جمع کے نون کے گرا دیتا ہے۔ یستطیعون الخ تک آیا ہے، اگر اس جاہل کو پتہ ہی نہیں۔ ان یاتوا میں مؤنث کی ضمیر آتی تھی یہ مذکر کی لے آیا ہے اتنا بڑا جاہل اور دجال تھا۔

اس نے سورۃ الاسراء پارہ 15 سے الفاظ چرائے ہیں۔ احادیث سے بھی اس نے چوری کی ہے۔ بخاری و مسلم میں آتا ہے (لا یؤمن احدکم حتی یحب لاخیه ما یحب لنفسه) یہ دجال اس حدیث سے چوری کرتے ہوئے لکھتا ہے: 

لا ترضوا لاحد ما لا ترضونه لانفسکم۔ (الاقدس)

ان کی یہ کتاب دسیوں لغوی و نحوی غلطیوں سے لبریز ہے یہ اللہ کی وحی نہیں ہو سکتی یہ تو کسی عقل سے پیدل ردی قسم کی ذہنی مریض کا کلام ہی ہو سکتا ہے اور اللہ کے کلام کا مقابلہ ناممکن ہے اس جیسی کتاب تو ایک جاہل بھی لا سکتا ہے کتاب مقدس میں کہتا ہے:

اغنمسوا فی بحر بیانی لعلکم تطلعون۔ 

بیان کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاؤ تاکہ تم مطلع ہو جاؤ۔

قرآن پاک میں سورۃ نور پارہ 18 میں (يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ۬ مُّبَـٰرَڪَةٍ۬ الخ۔)(سورۃ النور آیت 35)۔

 یہ کہتا ہے اس مبارک درخت سے مراد مرزا بہائی علی حسین ہے۔ سورۃ ابراہیم 14 میں آیت:

(يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِى ٱلۡأٓخِرَةِ‌ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّـٰلِمِينَ‌ۚ وَيَفۡعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ۝(سورۃ ابراہیم آیت 27)۔

اس میں دنیا کی زندگی میں ایمان حضرت محمدﷺ پر لانا ہے، اور آخرت پر ایمان سے مراد ہے کہ مرزا حسین علی بہائی کے ساتھ ایمان لایا جائے۔

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۝ وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۝ وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۝ وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۝ وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۝ وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۝ وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۝ وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْ۝ بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ۝ وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۝(سورۃ التکویر آیت 1 تا 10)

بہائیوں کا گمراہ امام کہتا ہے، سورج لپیٹے جانے سے مراد ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کا زمانہ ختم ہو جائے گا، اور یہ بہائی شریعت میں تبدیل ہو جائےگا، اور پہاڑ چلائے جائیں گے اس سے مراد کہ نئے نئے دستور ظاہر ہوں گے، اونٹنی معطل ہونے سے مراد ہے کہ بڑے بڑے انجن گاڑیوں کے وجود آ جائیں گے، اور اونٹ بے کار ہو جائیں گے، درندے اکٹھے ہونے کا مطلب ہے کہ چڑیا گھر بنائے جائیں، سمندر جوش ماریں گے، اس سے مراد کہ کشتیاں اس میں چلیں گی، نفس ملائے جائیں گے اس سے مراد ہے کہ یہود و نصاریٰ اور مجوسی وغیرہ سب ایک دین میں مل جائیں گے، وہ بہائی دین ہے۔ زندہ درگور سے پوچھا جائے گا اس کا مطلب ہے کہ ان دنوں میں پیٹ کے بچے مر جائیں گے، ان سے ملکی قوانین کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اوپر بیان کردہ ان کی تفسیر کے بعد ہر صاحبِ دانش ان کی جہالت اور ان کے افکار کی رذالت اور دینی و دنیاوی سخافت اور ردی پن سے فوراً آگاہ ہو جاتا ہے۔ 

مزید تفصیلات درج ذیل کتابوں میں ملاحظہ فرمائیں۔

البہائيہ والبابيہ وموقف الاسلام منہا (سہير الفيل) الموسوعة الشاملة للفرق المعاصره (اسامه شحاذه) اور ہیثم کسوانی) الموسوعة الميسره للندوة العالميه للشباب الاسلامی (البہائيہ والبابيہ) علامہ احسان الہٰی ظہيرؒ (فرق معاصرة) ڈاکٹر غالب عواجی (سلسله ماذا تعرف عن للشيخ احمد حسين (الراصد الاليكترونيه)

 جو کہ انٹرنیٹ میں موجود ہے۔


صفحہ 2 از 2