بے مثال حافظہ اور نادر ذہانت
علی محمد الصلابیاس کی مثال سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت پیش آنے والا واقعہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے لوگوں کو کہا کہ وہ سعد کا جنازہ مسجد میں لائیں تاکہ وہ اس پر نماز جنازہ پڑھ لیں لوگوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ تو انھوں نے فرمایا:
مَا اَسْرَعَ مَا نَسِیَ النَّاسُ، مَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم عَلٰی سُہَیْلِ ابْنِ الْبَیْضَائِ اِلَّا فِی الْمَسْجِدِ
(صحیح مسلم: حدیث نمبر973 ۔ مزید معلومات کے لیے دیکھیے: سیرۃ السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا للندوی: صفحہ 250)
’’لوگ کتنی جلدی بھول گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء کا جنازہ مسجد ہی میں پڑھایا تھا۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذکورہ بالا استدراکات کے درج ذیل اسباب ہو سکتے ہیں:
(1)بعض صحابہ کی روایت میں غلطی کا امکان
(2) بعض صحابہ کو نسیان ہو جانا
(3)بعض احادیث کو اچھی طرح نہ سمجھنا
(4)حدیث کے صادر ہونے کے سبب سے عدم واقفیت
(5)یہ معلوم نہ ہونا کہ حدیث منسوخ ہے۔
(6)صحابی کو حدیث کا نہ ملنا۔
بہرحال ایک بار پھر ہم تاکیداً لکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعض استدراکات فقط اجتہادی ہوتے تھے جن میں غلطی کا امکان بعید از عقل نہیں۔ ممکن ہے صحیح ہوں اور ممکن ہے غلط ہوں، لیکن بہرصورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے علمی بنیادیں وضع کر دیں جن سے بعد میں آنے والے محدثین اور علمائے کرام نے علت حدیث اور جرح و تعدیل کے قواعد بآسانی وضع کر کے دین کو محفوظ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔
(السیدۃ عائشۃ و توثیقہا للسنۃ لجیہان رفعت فوزی: صفحہ 84)