معاش رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

معاش رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 4

معاشِ رسولﷺ

بچپن میں حضورﷺ نے یہ بکریاں چرائیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہﷺ کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ تو فرمایا کہ میں بھی چند قیراط اجرت پر مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔

سیدنا جعفر بن عبداللہؓ کی روایت میں تو یہاں تک فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔

آپﷺ کہ دادا عبدالمطلب کی وفات کے آپ کہ چچا ابو طالب نے آپ کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائی مگر حقیقت یہ ہے کہ حضورﷺ نے بچپن میں ہی اپنے کثیرُ العیال اور عسیرُ الحال چچا کی معاشی مدد کے لیے اجرت پر بکریاں چرانے کا کام بچپن میں ہی شروع کر دیا تھا۔

جب حضورﷺ کی عمر 25 برس کی ہوئی تو ابو طالب نے آپ سے کہا میں ایک مفلس شخص ہوں ہم پر تنگی کا دور ہے اور تمہاری قوم کا مال سے لدا ہوا اونٹوں کا قافلہ روانہ ہونے والا ہے سیدہ خدیجہؓ بنتِ خویلد تمہاری قوم کے کچھ لوگوں کو اپنے تجارتی اونٹوں کے ہمراہ تجارت کے لیے بھیجا کرتی ہے مناسب ہے کہ تم بھی اس کے پاس جا کر خود کو اس خدمت کے لیے پیش کر دو امید ہے کہ وہ تمہیں فوراً قبول کر لے گی ادھر اس گفتگو کی خبر کسی نے سیدہ خدیجہؓ کو پہنچا دے انہوں نے فوراً ہی از خود حضورﷺ اس کو بلا بھیجا اور آپ سے کہا کہ میں آپ کو دوسرے لوگوں سے دوگنا معاوضہ دوں گی۔

لما بلغ رسول اللہﷺ خمسا و عشرین سنۃ قال ابو طالب انا رجل لا مال لی وقد اشتد الزماں علینا وھذہ غیر قومک قد حضر خروجھا الی الشام و خدیجہؓ بن خویلد تبعت رجالا من قومک فی عیراتھا فلو جئتھا فعرضت نفسک علیھا لاسرعت الیک۔ 

اس طرح جوانی میں بھی حضورﷺ نے تجارت کر کے اپنے مخلص چچا کے کنبہ کی پرورش کا حق ادا کیا پھر سیدہ خدیجہؓ سے آپ کی شادی ہوئی تو انہی کے مال پر گزر اوقات بھی ہوتی اور اسلام کی خدمت بھی ہوتی رہی۔

مدینہ طیبہ تشریف لائے تو انصار رضا کارانہ طور پر حضورﷺ کے کھانے پینے کا انتظام کرتے تھے سات آٹھ سال بعد انسان نے کھجوروں کے درخت پر ہدیۃً دیئے کہ ان کا پھل حضورﷺ کا اور درخت مالکوں کے رہیں گے۔

جب جہاد فرض ہوا تو آپﷺ نے وہ درخت مالکوں کو لٹا دیے اور فرمایا جعلت رزقی تحت ظل رمعی یعنی اللہ نے میرا رزق تلواروں اور نیزوں کے سائے میں رکھ دیا اس مالِ غنیمت سے حضورﷺ قوت لا یموت لیا کرتے تھے یہی وجہ تھی دو دو ماہ تک حضورﷺ کے گھر آگ نہ جلتی تھی چنانچہ حضور ﷺ نے اس کی وجہ بیان فرما دی کہ:

ما اوحی الی ان اجمع المال واکون من التاجرین ولکن اوحی الی ان سبح بحمد ربک وکن من الساجدین واعبد ربک حتیٰ یاتیک الیقین۔ (مشکوۃ صفحہ 444)۔ 

اسی طرح کنز العمال 2: 52 اور درمنشور میں بھی درج ہے۔

مجھے اس امر کی وحی نہیں کی گئی کہ میں مال جمع کر کے بڑا تاجر بن جاؤں بلکہ مجھے بذریعہ وحی یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد کر اس کے سامنے سجدہ کر وہ اس کی عبادت میں لگا رہے یہاں تک کہ موت آ جائے۔

 قرآنِ کریم میں بھی حضور ﷺ کو تلقین فرمائی گئی:

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيۡهِ‌ ؕ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى۞ وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا‌ ؕ لَا نَسْأَلُكَ رِزۡقًا‌ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ‌ ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلتَّقۡوٰى۞۔

(سورة طٰہ آیت نمبر 131۔ 132)۔

اور مت پسار اپنی آنکھیں اس چیز پر جو فائدہ اٹھانے کو دی ہم نے ان طرح طرح کے لوگوں کو رونق دنیا کی زندگی کی ان کے جانچنے کو اور تیرے رب کو دی ہوئی روزی بہتر ہے اور بہت باقی رہنے والی اور حکم کر اپنے گھر والوں کو نماز کا اور خود بھی قائم رہے اس پر ہم نہیں مانتے تجھ سے روزی ہم روزی دیتے ہیں تجھ کو اور انجام بھلا ہے پرہیزگاری کا۔

کیا صاف صاف ہدایت فرما دی کہ دنیا کے زیب و زینت اور مال و متاع کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے میں نے جو انعام آپ پر کیا ہے اس کے مقابلے میں خسیس دنیا کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی یعنی حضورﷺ کو مال جمع کرنے کی ممانعت فرما دی گئی اور حضورﷺ نے اس ہدایت ربانی پر عمل کرنے کا حق ادا کر دیا۔

مدینہ طیبہ میں آپ کا کام تبلیغ و اشاعتِ دینی ہی تھا اور اس کی اجرت لینے کا ذکر ہی کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے اعلان کرا دیا کہ:

وَ مَاۤ اَسْئٙلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ اللہ الخ۔ یعنی اس کا اجر میں تم سے کیوں لینے لگا وہ تو میں اپنے رب سے لوں گا صاف ظاہر ہے کہ مال جمع کرنے کی تمام صورتیں ختم کر دی گئی معاش کے لیے صرف مال غنیمت رہ گیا تو ترکہ کیا ہوتا اور میراث کی تقسیم کا سوال ہی کیوں کر پیدا ہوتا۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآنِ کریم میں تقسیمِ میراث کے صاف احکام موجود ہیں مثلاً:

يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِىۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ‌ ۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ‌ ۚ فَاِنۡ كُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ‌ ۚ وَاِنۡ كَانَتۡ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصۡفُ‌ ؕالخ 

یا اسی قبیل یہ دوسری آیات کا تقاضا یہ ہے کہ حضورﷺ کی میراث اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول کے مطابق تقسیم ہو مگر سوال یہ ہے کہ میراث کا حکم تو مال مملوکہ کے لیے ہے اور میراث کے متعلق تمام آیاتِ مملوکہ مال سے تعلق رکھتی ہیں تمام علماء اور مناظرین کو اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ جب شیعہ کی طرف سے آیات میراث پیش ہوں تو انہیں صاف کہہ دیا جائے کہ یہ مال مملوکہ سے تعلق رکھتی ہیں اور حضورﷺ کے پاس مالِ فے تھا جس پر نبی کریمﷺ نے کوئی ایسا مال چھوڑا ہی نہیں جس پر آپ کا مالکانہ قبضہ ہو مالِ فے پر آپ کا قبضہ متولیانہ تھا اگر موجودہ حالت سے اس کی تشریح کی جائے تو کچھ ایسی صورت بنتی ہے کہ جب کسی ملک کا صدر یا وزیرِاعظم فوت ہو تو حکومت کے خزانہ کو اس کے ورثہ میں تقسیم کر دیا جائے کیا اس کی کوئی نظیر دنیا میں ملتی ہے ظاہر ہے قومی خزانہ یا بیتُ المال پر حاکم کا قبضہ مالکانہ نہیں ہوا کرتا کہ اس میں میراث کا قانون جاری کیا جائے لہٰذا ان آیات کا کوئی محل اور مورد ہی نہیں ملتا تو ان پر عمل کیسے ہوتا۔

صفحہ 1 از 4