معاش رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

معاش رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 4

لہٰذا نبی کریمﷺ نے مال جمع کیا نہ ترکہ چھوڑا نہ تقسیمِ میراث کا سوال پیدا ہوا حقیقت یہی ہے اور افسانوں کا کیا اعتبار۔

ذریتِ رسولﷺ

انسان جب اس درجہ جری ہو جائے گی قرآنِ کریم کہ بیان کردہ تاریخی حقائق کا انکار کر دینے میں اور نہ سمجھے تو اس کے لیے کسی حقیقت کا انکار کر دینا کہاں مشکل ہوتا ہے قرآنِ حکیم نے نبی کریمﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کو اہلِ بیتؓ کی ترکیب سے خطاب کر کے تفصیلی ہدایات دیں یار لوگوں نے صاف انکار کر دیا اور کتاب اللہ لغت محاورہ اور عرف سب حدود کو پھاند گئے۔

ازواج کے بعد اولاد کا نمبر آتا ہے تو یہی روش اس ضمن میں بھی اختیار کی کہ نبی کریمﷺ کی بیٹیوں میں سے ایک کو بیٹی تسلیم کیا باقی کا انکار کر دیا اور اس ہٹ دھرمی کے تائید کے لیے ایک طومار گڑھ دیا جس کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں نہ مانوں۔

بناتِ رسولﷺ کے سلسلے میں قرآنِ کریم حدیثِ نبویﷺ علم الانساب وغیرہ سے تفصیلی بحث بعد میں آئے گی سب سے پہلے ہم شیعہ کتب سے شواہد پیش کرتے ہیں۔

  1. منتہی الآمال شیخ عباس قمی شیعہ مجتہد طبع جدید مطیع تبریز 1: 108۔109۔

در قرب الاسنا داز حضرت صادق علیہ السلام روایت شدہ است کہ از برائے رسولﷺ از خدیجہؓ متولد شدند طاہر و قاسم و فاطمہؓ و ام کلثومؓ و رقیہؓ و زینبؓ و تزویج نمود فاطمہؓ رابحضرت امیر المومنینؓ و زینب رابابی العاص بن ربیع کہناز بنو امیہ بود وام کلثومؓ رابعثمانؓ بن عفان و پیش ازاں کہ بخانہ عثمانؓ برو برحمت الہٰی واصل شد و بعد ازاد حضرت رقیہ رابا وتزویج نمود۔

قرب الاسناد میں سیدنا جعفرؒ سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے رسول اللہﷺ کے بیٹے طاہر اور قاسم اور بیٹیاں سیدہ فاطمہؓ سیدہ ام کلثومؓ سیدہ رقیہؓ اور سیدہ زینبؓ پیدا ہوئی سیدہ فاطمہؓ کا نکاح امیر المومنین سیدنا علیؓ سے ہوا سیدہ زینبؓ کا نکاح سیدنا ابو العاص بن ربیعؓ سے ہوا جو بنو امیہ میں سے تھے اور سیدہ ام کلثومؓ کا نکاح سیدنا عثمانؓ سے ہوا سیدہ ام کلثومؓ کی وفات کے بعد حضورﷺ نے سیدہ رقیہؓ کا نکاح سیدنا عثمانؓ سے کر دیا۔

2۔ اسی کتاب کے صفحہ 105 پر منہیہ میں لکھتا ہے۔

فرزند نبی قاسم ابراہیم است

پس طاہر و طیب از راہ تعظیم است

یا فاطمہؓ و رقیہؓ و ام کلثومؓ

زینب شمر ارترا سر تعلیم است۔

یعنی شیخ عباس ابو نصر فراہی حضورﷺ کی اولاد امجاد کے متعلق اپنے دو شعروں میں لکھتا ہے کہ نبی کریمﷺ کے بیٹے قاسم اور ابراہیم ہیں جن کو تعظیم کے طور پر طاہر اور طیب کہتے ہیں پھر (بیٹیوں میں) سیدہ فاطمہؓ سیدہ رقیہؓ اور سیدہ ام کلثومؓ کے ساتھ سیدہ زینبؓ کو شمار کر اگر تجھے علم سے کوئی واسطہ ہے۔

2۔ خصائل شیخ صدوق 168:2 پر سیدہ عائشہؓ اور سیدہ فاطمہؓ کا مکالمہ لکھا ہے۔

وقال رسول اللہﷺ‎ یا حمیرا (عائشہؓ) فان اللہ تعالیٰ بارک فی الولود الودود فان خدیجۃ رحمھا اللہ ولدت منی طاھرا وھو عبداللہ وھو المطھرو ولدت منی القاسم و فاطمہؓ ورقیهؓ وام کلثومؓ و زینبؓ۔

اسی خصال کی فارسی شرح میں 188:2 پر لکھتا ہے:

خدیجہؓ کہ خدائش رحمت کندا ذمن دوپسر آورد یک طاہر عبداللہ نام داشت و مطہر لقب داشت دوم قاسم و چہار دختر برائے من آورد فاطمہؓ و رقیہؓ و کلثومؓ و زینبؓ۔

4۔ کشف الغمہ 139:2 طبع جدید مطیع علمیہ قم:

خدیجہؓ اول امرلۃ تزوجھا رسول اللہﷺ‎ و اولاد کلھم منھا الا ابراھیم فانه ماریۃ۔

سیدہ خدیجہؓ پہلی خاتون ہیں جو نبی کریمﷺ کے نکاح میں آئیں اور حضورﷺ کی ساری اولاد انہی کے بطن سے ہے سوائے ابراہیم کے جو سیدہ ماریہؓ کے بطن سے تھے۔

5۔ تمتہ المنتہی 4:1:

ابو العاص بین ربیع قریشی زوج سیدہ زینبؓ دختر رسول ﷺ درسنہ 13 اوفات کرد۔

6۔ مناقب شہر ابنِ آشوب 161:1 طبع جدید:

و اولادہﷺ من خدیجۃ القاسم و عبداللہ وھما الطاہر و الطیب واربع بنات زینبؓ رقیهؓ ام کلثومؓ و فاطمہؓ۔

7۔ تنفیح المقال فی احوال الرجال از علامہ عبداللہ مامقانی شیعہ کی شہرہ آفاق کتاب طبع جدید نجف اشرف 13.52 صفحہ 77:

ان کتب الفریقین مشحونۃ بانھا ولدت للنبیﷺ اربع بنات زینبؓ و ام کلثومؓ و فاطمہؓ و رقیہؓ الی ان قال وبناته فادر کن الاسلام وھاجرن معه واتبعنه وامن به۔

یعنی فریقین (اہلِ سنت اور شیعہ) کی کتابیں بھری پڑی ہیں کہ سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے حضورﷺ کی چار بیٹیاں سیدہ زینبؓ سیدہ ام کلثومؓ سیدہ فاطمہؓ اور سیدہ رقیہؓ پیدا ہوئیں آپ کی بیٹیاں اسلام لائیں حضورﷺ کے ساتھ ہجرت کی اور حضورﷺ کا اتباع کیا۔

8۔ تنقیح المقال من فصل النساء صفحہ 73:

کانت خدیجهؓ اذ تزوجھا رسول اللہﷺ‎ بنت اربعین سنه و ستۃ اشھر و کان رسول اللہﷺ‎ یومئذ ابن احدی وعشرین سنۃ وولدت له اربع بنات کلھن ادرکن الاسلام وھاجرن وھن زینبؓ و فاطمہؓ و رقیہؓ و ام کلثومؓ۔

یعنی حضورﷺ سے نکاح کے وقت سیدہ خدیجہؓ کی عمر ساڑھے چالیس برس تھی اور حضورﷺ کی عمر اکیس برس سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے حضورﷺ کی چار بیٹیاں پیدا ہوئیں سب اسلام لائیں اور سب نے ہجرت کی اور وہ سیدہ زینبؓ سیدہ فاطمہؓ سیدہ رقیہؓ سیدہ ام کلثومؓ۔ 

9۔ پھر اسی کتاب کے صفحہ 73 پر لکھا ہے:

عن سعدہ بن صدقه قال حدثنی جعفر بن محمد عن ابیه قال ولد لرسول اللہﷺ من خدیجۃؓ القاسمؓ و الطاہرؓ و ام کلثومؓ و رقیہؓ و فاطمہؓ و تزوج ابا العاص بن ربیعہؓ وھو من بنی امیه زینباؓ و تزوج عثمان بن عفانؓ ام کلثومؓ ولم یدخل بھا حتیٰ ھلکت و زوجه رقیہؓ مکانھا۔

سوال یہ کہ منتھی الآمال حضال کشف الغمہ تتمتہ المنتھی مناقب شہر بن آشوب تنفیح المقال وغیرہ کتبِ شیعہ مذہب کی مستند اور چوٹی کی کتابیں ہیں ان میں کہیں سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے حضورﷺ کی چار بیٹیوں کی وضاحت کہیں ان میں سے ہر ایک کے نکاح کا تذکرہ بھی ہے کہیں ان کے نام لے کر چار کی وضاحت موجود ہے پھر شیعہ کس بناء پر یہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ کی ایک بیٹی تھی۔

صفحہ 2 از 4