معاش رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

معاش رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 4

اور بناوٹی اور خلافِ حقیقت عقیدہ کی تاریخ کا کھوج لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے بھی نعت رسول کا انکار ابو قاسم کوفی نے کیا جس کی وفات 352 ہجری میں ہوئی یعنی چوتھی صدی ہجری سے پہلے اس انکار کا کوئی نشان نہیں ملتا اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ شیعہ کے اہم مسائل جن پر شیعہ مذہب کی رونق کا انحصار ہے وہ نبی کریمﷺ سے صدیوں بعد کی پیداوار ہیں ماتم ہی کو دیکھ لیجئے جس پر شیعہ کی ساری چہل پہل کا مدار ہے صدیوں بعد معز الدولہ کہ عہد میں شروع ہوا۔

ابو قاسم کوفی کی کتاب الاستغاثہ فی بدع الثلاثہ 90:1 کے حاشیہ پر اس کی رائے خوب تنقید کی گئی ہے چنانچہ لکھا ہے:

وقد خالف صاحب الکتاب فی ھذہ الرأی جماعۃ من اساطین العلماء من الفقھاء والنسا بین ممن لا یستھان بھن منھم العامۃ الشیخ المفید محمد بن محمد بن النعمان البکری بغدادی الی ان قال مانصه ان زینب و رقیہ کانتا ابنتی رسول اللہﷺ والمخالف لذلک شاذ بخلافه۔

یعنی ابو القاسم نے علماءِ فقہ اور نصابین کی ایک بڑی جماعت کے مخالفت کی ہے وہ علماء جو دین شیعہ کے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں ابو القاسم کے قول کو تسلیم کرنا اس کثیر جماعت کی توہین ہے ان جید علماء میں شیخ مفید بھی ہیں جن کا صاف عقیدہ ہے کہ حضورﷺ کی چار بیٹیاں تھیں۔

پھر اسی کتاب کے صفحہ 91 پر لکھا ہے:

ھذا رأی الشیخ الجلیل المفید فی ذلک ووافقه تلمیذہ السید الشریف المرتضیٰ علم الھدیٰ وبذلک اتضع الحق۔

یعنی شیخ مفید کے علاوہ اس کے شاگرد سید شریف مرتضیٰ علم الھدیٰ کہ یہی رائے ہے کہ بیٹیاں چار تھیں اس سے حق واضح ہو گیا۔

ابوالقاسم کے اس قول کو رد کرتے ہوئے علامہ عبداللہ مامقانی نے تنفیح المقال صفحہ 79 پر خوب لکھا ہے:

قال ابو القاسم الکوفی فی الاستغاثه فی بدع الثاثه کلام طویل اصرنافیه علی ان زینبؓ التی کانت تحت ابی العاص بن الربیعؓ و رقیہؓ التی کانت تحت عثمانؓ لیستا ببنتی رسول اللہﷺ بل ربیبتاہ ولم یات الا بمازعمه برھانا الی ان قال وان اتعب نفسه الا انه لم یأت الا بمازعمه برھانا الی ان قال وان اتعب نفسه الا انه لم یأت ما یغنی ون تکلف النظر والثبوت وانه کبیت العنکبوت اما اولا فانه یشبه الا جتھاد فی قبال النصوص من الفریقین ون النبیﷺ وعن ائمتنا۔

خلاصہ یہ ہے کہ ابو القاسم کا یہ قول کہ سیدہ زینبؓ اور سیدہ رقیہؓ بیٹیاں نہیں تھیں بلکہ ربیبہ تھیں کو بلادلیل محض رائے اجتہاد ہے نصوص کے مقابلے میں اس کی حیثیت مکڑی کے جالے کے برابر بھی نہیں کتبِ فریقین میں حضورﷺ کی چار بیٹیوں پر نصوص موجود ہیں اہلِ سنت کے پاس فرمانِ رسولﷺ موجود ہے اور شیعہ کے پاس ائمہ کے اقوال موجود ہیں کہ رسول اللہﷺ کی چار بیٹیاں تھیں۔

علامہ مامکانی کی تنقید بجا مگر شیعوں کو کون روک سکتا ہے کہ اماموں کے قول کو رد کر دیں اور ابو القاسم صوفی کے قول کو قبول کر لیں اور شیعوں نے بلاوجہ ابو القاسم کے قول کو ائمہ کے قول پر ترجیح نہیں دی یہ بھی کوئی معمولی آدمی تو نہیں تھا اب اس ابو القاسم کی تصویر شیعہ کتب کے آئینے میں ملاحظہ ہو۔

1۔ تتمتہ المنتہی شیخ عباس قمی صفحہ 309:

ابو القاسم کوفی علی بن احمد بن موسیٰ وفات یافت و اودر آخر عمر مذہبش فاسد شدہ بودو کتابہا بسیار تالیف کردد ہم از کتابہائے ابوالقاسم کوفی کتاب الاستغاثہ است۔

یعنی ابو القاسم نے کتابیں بہت تصنیف کی ہیں مگر آخر میں بے دین ہو گیا تھا واقعی یہ بے دینی کے ہی کرشمے ہیں کہ آدمی ٹھیک دوپہر کے بعد کہہ دے کے آدھی رات ہے اور ایسا کہنے میں اسے کوئی شرم بھی محسوس نہ ہو۔

2۔ شیعہ کتاب نقد الرجال عرف رجال تفرشی از علامہ آقا میر مصطفیٰ طبع طہران 1381 عیسوی:

علی بن احمد ابوالقاسم کوفی رجل من اھل الکوفۃ کان یقول انه من آل ابی طالب و غلافی آخر عمرہ وفد مذھبه وصنف کتب کثیرۃ اکثرھا علی الفساد الی ان قال ثم خلط واظھر مذھب المخمسۃ رأیت له کتبا کثیرا لا یلتفت الیه والمخمسۃ طائفۃ من الغلاۃ یقولون ان سلمانؓ والمقدادؓ و عمارؓ وابا ذرؓ و عمرو بن امیهؓ الغرمی ھم المئکلون لمصالح العالم تعالیٰ اللہ عن ذلک علوا کبیرا۔ (صفحہ 226)

یعنی صاحب نقد الرجال نے شیخ عباس قمی کی تائید ہی نہیں کی اس پر اضافہ یہ کیا کہ ابو القاسم کی اکثر کتب فاسد اور باطل ہیں اس نے دین کو خلط ملط کر دیا بلکہ وہ مخمسہ (پنجتن) کا عقیدہ رکھتا تھا کہ اللہ نے سیدنا سلمانؓ سیدنا مقدادؓ سیدنا عمارؓ سیدنا ابوذرؓ اور سیدنا عمر بن امیہؓ کو تدبیر کائنات کے اختیار دے دیئمے ہیں اور خود معطل ہو کر بیٹھ گئے ہیں گویا ابو القاسم اونچے درجے کا مشرک تھا ایسے غالی کافر مشرک اور مخبوط الحواس آدمی کی رائے کو شیعہ حضرات ائمہ کے اقوال پر ترجیح نہ دیں تو اور کیا کریں قدر شناسی کا تقاضا یہی ہے۔

صاحب استغاثہ کا مخبوط الحواس ہونا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ان کا ایک بیان ملاحظہ ہو۔

وکان رسول اللہﷺ قد زوج اختھا رقیهؓ من عثمانؓ فبقیت زینبؓ عند ابی العاص بن الربیعؓ بعد ذلک مدۃ یسیرہ ومات عنھا ابو العاصؓ ثم ماتت رقبۃ عند عثمانؓ فخطب بعد موتھا زینبؓ فزوجھا رسول اللہﷺ منه و ماتت عندہ۔

اور نبی کریمﷺ سیدہ رقیہؓ کا نکاح سیدنا عثمانؓ سے کیا اور اس کے کافی مدت بعد تک سیدہ زینبؓ سیدنا ابو العاصؓ کے پاس رہی پھر سیدنا ابو العاصؓ فوت ہوئے پھر سیدہ رقیہؓ کی وفات ہو گئی تو سیدنا عثمانؓ نے سیدہ زینبؓ کی خواستگاری کی اور نبی کریمﷺ نے سیدہ زینبؓ کا نکاح سیدنا عثمانؓ سے کر دیا اور سیدہ زینبؓ کی وفات سیدنا عثمانؓ کے گھر ہی میں ہوئی۔

صفحہ 3 از 4