معاش رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

معاش رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 4

اس بیان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کسی نے ترنگ میں آکر کہا تھا "کہ علم سائنسی دریاؤ کہیں کا ٹانکا کہیں لاگت ہے" اسی طرح ابو القاسم کی معلومات بھی دریاؤ ہے اور استغاثہ تو سمندر ہے کہیں کا ٹاؤن کا کہیں لاگت ہے کیونکہ یہ حقیقت مسلم فری کی ہے کہ سیدہ زینبؓ دخترِ رسولﷺ زوجہ سیدنا ابو العاصؓ کی وفات 7 ہجری کے اواخر یا 8 ہجری کے اوائل میں ہوئی اور یہ بھی مسلم ہے کہ سیدنا ابو العاصؓ کی وفات 12 ہجری یا 13 ہجری میں ہوئی جیسا کہ تتمہ المنتہیٰ سے نقل کیا جا چکا ہے مگر اس مخبوط الحواس نے ترتیب ہی الٹ دی سیدنا ابو العاصؓ کو پہلے مار ڈالا اور سیدہ زینبؓ کی باری بعد میں آئی اس سے بھی بڑی حماقت کا اظہار اس وقت کیا جب بہن بھائی کا نکاح جائز رکھا ایسے مخبوط الحواس مجتہد کی بات کو ائمہ کے قول پر ترجیح نہ دیں تو دین شیعہ کی برتری کیونکر ظاہر ہو۔

اسی طرح ابو القاسم اور ایسے ہی کچھ دوسرے شیعہ علماء نے سیدہ خدیجہؓ اور ان کی بہن ہالہ بنتِ خویلد کی وفات کو پہیلی بنا کے رکھ دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہالہ پہلے فوت ہوئی اس کی بیٹیوں کی پرورش سیدہ خدیجہؓ کے گھر میں ہوئی اس بناپ اور وہ بناتِ رسولﷺ کہلائی جانے لگیں حالانکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ سیدہ خدیجہؓ پہلے فوت ہوئیں اور ان کی بہن کی وفات ان کے بعد مدینہ میں ہوئی۔

جیسا کہ البدایہ والنہائیہ 128:3:

ثم قال البخاریؒ حدثنا اسماعیل بن خلیل اخبرنا علی بن سحر عن ھشام بن عروہ بن ابیه عن عائشۃؓ قالت استاذنت ھالۃ بنت خویلد اخت خدیجۃؓ علی رسول اللہﷺ‎ فعرف استئذان خدیجۃؓ فارتاع فقال اللھم ہالۃ فغرت فقلت ماتذکر من عجوز من عجائز قریش حمراء الشدقین ھلکت فی الدبر ابدلک اله خیرا منھا وھکذا رواہ مسلم عن سویلد بن سعید عن علی بن سھر وھذا ظاھر۔

بخاریؒ نے کہا ہے کہ سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ ہالہ بنتِ خویلد نے جو سیدہ خدیجہؓ کی بہن تھی حضورﷺ کے گھر آنے کی اجازت طلب کی حضورﷺ نے سمجھا کہ سیدہ خدیجہؓ اجازت طلب کر رہی ہیں پس حضورﷺ تیار ہوئے فرمایا اے اللہ یہ تو ہالہ ہے سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں مجھے غیرت آئی میں نے کہا کہ قریش کی ایک بوڑھی عورت کو آپ کیا یاد کرتے ہیں جو سرخ چہرے والی تھی زمانہ ہوا کے فوت ہو چکی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا نعم البدل عطا کر دیا ہے اسی طریقہ کے مسلم نے روایت کی ہے اور ظاہر ہے۔

اس رو وائرس ہے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ:

  1. ہالہ نے نبی کریمﷺ سے اجازت مانگی اور استیذان کا حکم مدینہ میں نازل ہوا۔
  2. سیدہ خدیجہؓ کا انتقال مکہ میں ہی ہو گیا تھا۔
  3. ہالہ کے استیذان کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب سیدہ عائشہؓ بیتِ رسولﷺ میں تھیں۔
  4.  سیدہ عائشہؓ کا نکاح سیدہ خدیجہؓ کی وفات کے بعد ہوا۔
  5.  ہلکت فی الدھر کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ: سیدہ خدیجہؓ مدتوں پہلے فوت ہو چکی تھیں۔

لیکن یار لوگ پھر بھی بڑے وثوق سے کہا کرتے ہیں کہ ہالہ فوت ہو گئی اور اس کی بیٹیاں سیدہ خدیجہؓ نے اپنے گھر میں پالیں واقعی آدمی لٹھ لے کے عقل کے پیچھے پڑا ہو تو اس سے بھی اونچی باتیں کہہ سکتا ہے۔

ایک بہانہ:

کچھ شیر نما کا کہنا ہے کہ شیعہ کتاب قرب الاسناد کی حدیث میں مسعدہ بن صدقه سنی راوی ہے لہٰذا قابلِ قبول نہیں۔

بظاہر بہانہ تو خوب ہے مگر حقائق اس کا ساتھ نہیں دیتے کیونکہ:

  1. قرب الاسناد کی روایت کو علامہ مجلسی شیعہ نے اپنی کتاب حیات القلوب میں نقل کیا ہے۔
  2. علامہ مامقانی شیعہ نے اپنی کتاب تنقیح المقال میں نقل کیا ہے۔
  3.  یہ روایت سیدنا جعفرؒ سے مروی ہے اور یہ مسعدہ بن صدقہ وہ ہے جو اصحابِ سیدنا جعفر صادقؒ سے ہے سکہ بندرافضی ہے۔
  4. جس مسعدہ بن صدقہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ سنی ہے یا شیعہ وہ سیدنا باقرؒ سے روایت کرتا ہے اور چار بیٹیوں والی روایت کا راوی نہیں۔

5تنقیح المقال میں تذکرہ مسعدہ بن صدقہ میں ہے کہ:

مسعدہ بن صدقه یکنی ابا بشر روی عن ابی عبداللہ وابی الحسن له کتب منھا کتب خطب امیر المومنین فظاہر النجاشی من حیث عدم غمزہ فی مذھبه مسعدہ بن صدقه دو ھیں: احدھما یروی عن الباقرؒ وھو العاصی تبری والا خری یروی عن الصادق والکاظم والذی یروی عن الباقرؒ تبری۔

مسعدہ بن صدقه جسکی کنیت ابو بشر ہے یہ روایت کرتا ہے کہ سیدنا جعفرؒ سے ابو الحسن سے اس کی کتابیں ہیں ان سے امیر المومنین کے خطبے بھی ہیں اور علامہ نجاشی نے اس کے مذہب پر کوئی تنقید نہیں کی مسعدہ بن صدقہ دو ہیں ایک سیدنا باقرؒ سے روایت کرتا ہے یہ سنی ہے تبری مذہب کا ہے دوسرا سیدنا جعفرؒ اور موسیٰ کاظم سے اور جو سیدنا جعفرؒ سے روایت کرتا ہے وہ تبری فرقہ کا ہے یا سنی ہے۔

روضہ کافی اور فروع کافی میں مسعدہ بن صدقہ سیدنا جعفرؒ کی حدیث کا راوی ہے اسی طرح تہذیب الاحکام میں باب فضل المساجد اور باب وصیت میں مسعدہ بن صدقہ راوی سیدنا جعفر صادقؒ کا ہے۔

خلاصہ یہ ہوا کہ مسعدہ سیدنا باقرؒ سے روایت کرتا ہے وہ تبری فرقہ کا ہے جو شیعہ فرقہ میں سے ہے (ملاحظہ ہو فرق الشیعہ از علامہ نو بختی شیعہ) یا سنی ہے اور جو سیدنا جعفرؒ سے روایت کرتا ہے وہ شیعہ ہے اور یہ چار بیٹیوں والی روایت اس مسعدہ کی ہے جو شیعہ ہے اور سیدنا جعفرؒ سے روایت کہتا ہے اور قرب الاسناد روایت میں وہی مسعدہ جو سیدنا جعفرؒ سے روایت کرتا ہے اور شیعہ ہے لہٰذا یہ محض فرار کی راہ ہے کہ مسعدہ کو سنی کہہ کر اس کی روایت سے جان چھڑانے کی کوشش کی گئی ہے۔

بناتِ رسولﷺ کے سلسلے میں مہمات کتبِ شیعہ سے اقتباس دینے کے بعد ہم اس مسئلہ کو قرآن کریم علم انساب اور تاریخ کی روشنی میں بیان کرتے ہیں۔


صفحہ 4 از 4