امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے قیصر و کسریٰ کی سُنت پر عمل کرتے ہوئے یزید کو نامزد کیا۔ (کلیات شبلی
مولانا ابوالحسن ہزارویامیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے قیصر و کسریٰ کی سُنت پر عمل کرتے ہوئے یزید کو نامزد کیا۔
(کلیات شبلی)
️الجواب اہلسنّت
1: کلیات شبلی منظوم کلام کا مجموعہ اور اُردو ادب کی کتاب ہے۔ گویا موصوف نے اپنے ذوقِ شاعرانہ کو تسکین دینے کے لیے یہ مجموعہ مرتب کیا۔ قرآن کریم کا ارشاد ایسے ہی شاعروں کے بارے میں ہے :
والشعراء يتبعهم الغاوون (الشعرآ: 224)
2: یزید کی نامزدگی کو سنت قیصر و کسریٰ کہنا مولانا مرحوم کا اپنا ذاتی خیال ہے اہلسنّت کا نظریہ ہرگز یہ نہیں کہ بیٹے کو جانشین بنانا قیصر و کسریٰ کی سنت ہے بلکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سنت حیدر کرار رضی اللہ عنہ پر عمل کرتے ہوئے یہ اقدام کیا ہے کیوں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی یزید کو جانشین بنانے سے پہلے یہ واقعہ پیش آ چکا تھا کہ حیدرِ کرار رضی اللہ عنہ کے جانشین حضرت حسن رضی اللہ عنہ مقرر فرمائے گئے۔ حالانکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ حیدر کرار رضی اللہ عنہ کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ پس امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حیدر کرار رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل کیا جو خلفائے راشدین میں سے ہیں اور خلفائے راشدین کی سنت اپنانے کا حکم خود رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔
جواب کا مختصر خلاصہ درج ذیل ہے
یہ محض شاعری کا ذوق اور اظہار ادب ہے۔
جو اعتراض امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پہ تراشا گیا وہ بالکل بے سند ہےجس کی کوئی حیثیت نہیں۔
یہ الزام محض بے اصل ھے کیونکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے قبل حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مسند خلافت پر ابن علی رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا برا جمان ہونا کسی کے نزدیک بھی قابل انکار واقع نہیں۔
یہ واقعہ بھی انہیں شیعہ لوگوں کی ناپاک فکروں کا حاصل ہے جو اہانت صحابہ کو اپنا دین اور ایمان جانتے ہیں۔
ایسی بے سروپا باتوں پر اعتماد کرنا اور بلا تحقیق کسی خبر کو اڑانا از روئے حدیث جھوٹ کی ایک قسم ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے:
كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ماسمع
کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو(تحقیق کے بغیر ) نقل کر دے۔