پہلا مبحث دعوت الی اللہ میں ان کے اثرات
علی محمد الصلابی1۔ مدنی عہد میں دعوت الی اللہ پر ان کے اثرات
مدنی عہد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کردار سنت مطہرہ کی تعلیم و تعلم اور اسے حفظ کرنا رہا۔ چاہے وہ قولی سنت ہو یا فعلی ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی زندگی سے متعلق تھیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 34)
ترجمہ: اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔
درج ذیل نکات میں یہ اہم اور نمایاں اثر واضح ہو گا۔
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے متعلق آپ کی قولی اور فعلی سنن مطہرہ کو سمجھنا اور یاد کرنا خصوصاً آپﷺ کے جو اوقات اپنے اہل خانہ کے ساتھ ان کے گھروں میں بسر ہوتے تھے۔
2۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی علم شرعی حاصل کرتیں اسے پوری امانت اور تندہی سے امت کے دیگر افراد تک پہنچا دیتیں اور پوری امت تک یہ عظیم میراث نبوی پہنچانے میں شاید ان کا کوئی ثانی نہیں۔
3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سوال پوچھنے والی مومن عورتوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان بہترین رابطہ کار تھیں۔ خاص طور پر خواتین کے مخصوص احکام کی تفصیل کے لیے یہ اپنی مثال آپ تھیں۔
اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ:
’’جب ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے بعد غسل کی کیفیت پوچھی تو آپﷺ نے اسے غسل کی کیفیت بتائی، پھر فرمایا: ’’تو کستوری کا پھاہا ( الفرصۃ: اونی یا سوتی کپڑے کا ٹکڑا۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 431۔) رکھ لے اور پھر اس کے ساتھ طہارت حاصل کر۔‘‘
وہ کہنے لگی میں کیسے طہارت حاصل کروں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو اس کے ساتھ طہارت حاصل کر۔‘‘
اس عورت نے پھر پوچھا: کیسے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’سبحان اللہ! تو طہارت حاصل کر۔‘‘
تو بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور کہا تو اس کے ساتھ خون کے نشانات صاف کر لے۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 314۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 332۔ )
4۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھلائی کے راستے کی طرف اور دعوت الی اللہ کے لیے مسلمان عورت کے لیے بہترین نمونہ اور عمدہ مثال تھیں۔
5۔ متعدد قرآنی آیات ان کے معاملے کی وجہ سے نازل ہوئیں جن سے امت کے لیے متعدد احکام شریعت مستنبط ہوئے جیسے آیت تیمم کا نزول وغیرہ۔
6۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سامان دنیا اور اللہ و اس کے رسول اور آخرت کے گھر میں سے ایک منتخب کرنے کا اختیار دیا تو انھوں نے بلاتردد اللہ، اس کے رسول اور دارِ آخرت کو منتخب کیا اور دنیا کے فانی و زائل سامان کی طرف توجہ نہ دی۔ اس انتخاب میں ان کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان اور عمل صالح کے راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید اور نصرت و حمایت کا واضح اعلان تھا۔
(السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا بنت ابی بکر رضی اللّٰہ عنہ لخالد العلمی: صفحہ 13 معمولی رد و بدل کے ساتھ نقل کیا گیا متن۔)