خلفائے راشدین کے عہد میں ان کے دعوت دین میں اثرات
علی محمد الصلابیرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے بعد خلفائے راشدینؓ کے مبارک عہد دعوت الہٰی کی تاریخ کا اہم سنگ میل ہیں کیونکہ یہ زمانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد آنے والے ادوار کے درمیان ایک مضبوط پل تھے۔ اس عرصے میں دعوت دین کے لحاظ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی اثرات ظاہر ہوئے۔
1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسلمانوں تک دعوت دین پہنچانے میں شدید حرص رکھتی تھیں۔ اس دور کے مسلمانوں، صحابہؓ و کبار تابعینؒ نے ان سے خوب دینی تعلیم حاصل کی بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنتیں جن پر صرف آپﷺ کے اہل خانہ ہی مطلع ہوتے تھے۔
2۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خلفائے راشدینؓ اور کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اہم امور میں بہترین مشیر رہیں۔
3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیشتر ایسے احکام فقہیہ میں مرجعِ خاص تھیں جو اکثر صحابہؓ سے مخفی تھے۔
4۔ انھوں نے متعدد ان مسائل کی وضاحت و تشریح کی جن کا تعلق عقیدہ صحیحہ سے تھا۔ وہ ان مسائل کی بہترین شارح اور مفسرہ تھیں۔
5۔ کبار صحابہؓ میں سے جو بھی ان سے تفسیر قرآن کریم کے بارے میں پوچھتا یہ ان کے لیے بہترین مرجع ثابت ہوتیں۔
6۔ زہد، دنیا سے بے رغبتی اور اس کی حرص نہ رکھنے میں عمدہ مثالیں قائم کیں اور وہ اس میدان میں مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔
(السیدۃ عائشۃ بنت ابی بکر رضی ا للہ عنہما لخالد العلمی: صفحہ 14 معمولی رد و بدل کے ساتھ۔)