تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 14

تعداد بناتِ رسولﷺ

  يَـٰٓأَيُّہَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزۡوَٲجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡہِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّۚ الخ۔ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر 59)۔

  1. لفظ بنات جمع قلت ہے جس میں نو تک تعداد آسکتی ہے ملاحظہ ہو تفسیر روح المعانی:             
  2.  نزولِ آیت کے وقت حضور اکرمﷺ کی جوان بالغہ بیٹیاں تھیں جنہیں پردہ کا حکم دیا گیا ان دونوں امور کی تاویل کر کے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس لئے اس کی وضاحت ضروری ہے۔

لفظ بنات جمع کا صیغہ محض تعظیم کے لیے ہے مراد صرف ایک بیٹی سیدہ فاطمہؓ ہے۔                     

الجواب: آیت میں احکام تکلیفیہ بیان ہو رہے ہیں عورتوں کو پردے کا حکم دیا گیا ہے یہ مقام مدح و ثنا نہیں ہے ہاں کوئی قرینہ موجود ہو تو مراد لیا جا سکتا ہے مگر یہاں کوئی قرینہ موجود نہیں۔                

 نبی کریمﷺ کی نواسیوں یعنی سیدہ فاطمہؓ کی بیٹیوں کی وجہ سے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ الجواب: نزولِ آیت کے وقت کوئی جوان بالغہ نواسی موجود نہیں تھی یہ تکلیفی خطاب ہے غیر مکلف مخاطب نہیں ہو سکتا۔              

لفظ اِبن اور بِنت اور اسکی جمع بنات بیٹی نواسی وغیرہ سب پر بولا جاتا ہے ہاں اگر لفظ ولد ہوتا تو صرف حقیقی بیٹیاں مراد ہوتیں۔

الجواب: حصہ اول کا جواب اوپر نمبر 2 کے تحت آ چکا ہے رہا لفظ ولد تو یہ ہمیشہ حقیقی بیٹیوں کے لئے نہیں بولا جاتا قرآنِ مجید میں متنبیٰ ادعائی بیٹوں پر بھی یہ لفظ بولا گیا کما قال اللہ تعالیٰ:

وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشۡتَرَٮٰهُ مِن مِّصۡرَ لِٱمۡرَأَتِهِ أَڪۡرِمِى مَثۡوَٮٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوۡ نَتَّخِذَهُ الخ۔ (سورة یوسف آیت نمبر 21)۔ 

وَقَالَتِ ٱمۡرَأَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَيۡنٍ۬ لِّى وَلَكَ‌ۖ لَا تَقۡتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوۡ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا الخ۔ (سورة القصص آیت نمبر 9)۔

 دونوں موقعوں پر لفظ ولد بولا گیا اور مراد متنبیٰ ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ لفظ بنات حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے اور حضور اکرمﷺ کی ایک سے زیادہ بیٹیاں تھیں اب یہ دیکھنا ہے کہ کتنی تھیں۔      

  1.  آیت میں لفظ بنات ہے جو جمع قلت ہے اس لئے آیت سے صاف ظاہر ہے کہ تین سے زیادہ بیٹیاں تھیں۔        
  2.  اصولِ کافی معہ شرح صافی باب التاریخ جلد 1 صفحہ 147:     

وتزوج خدیجہؓ وھو بضع عشرین سنۃ فولد لہ منھا قبل مبعثہ القاسمؓ ورقیہؓ و زینبؓ و ام کلثومؓ و ولد لہ بعد المبعث الطیب والطاھرؓ والفاطمہؓ۔     

ترجمہ: جب حضورﷺ کی عمر بیس برس سے کچھ اوپر تھی سیدہ خدیجہؓ سے نکاح ہوا اور بعثت سے قبل سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے آپ کے لڑکے قاسم اور لڑکیاں سیدہ رقیہؓ سیدہ زینبؓ اور سیدہ امِ کلثومؓ پیدا ہوئیں اور بعثت کے بعد طیب طاہر اور سیدہ فاطمہؓ پیدا ہوئے۔

شارح نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے:      

پس زادہ شد برائے اواز خدیجہؓ پیش از رسالت او قاسمؓ و رقیہؓ وزینبؓ و امِ کلثومؓ وزادہ شد برائے او بعد از رسالت او طیبؓ و طاہرؓ و فاطمہؓ۔                      

اصولِ کافی کے بیان سے معلوم ہوا کہ حضورﷺ کی چار بیٹیاں تھیں جو سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے ہوئیں۔ (3)۔ تذکرہ مسلمین صفحہ 6: 

تزوج خدیجہؓ وھو ابن بضع و عشرین سنۃ فولدت لہ قبل مبعثہ رقیہؓ و امِ کلثومؓ و زینبؓ۔                  

ترجمہ: جب حضورﷺ کی عمر بیس برس سے کچھ زائد تھی سیدہ خدیجہؓ سے نکاح ہوا اور بعثت سے پہلے سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے حضورﷺ کی تین بیٹیاں پیدا ہوئیں سیدہ رقیہؓ سیدہ امِ کلثومؓ اور سیدہ زینبؓ۔

 حیات القلوب جلد 1 صفحہ 79 از ملا باقر مجلسی:

و بسند معتبر منقول است کہ سلیمان بن خالد بحضرت صادقؒ عرض کرد کہ فدائے توشوم مردم گویند کہ آدم دختر خودرا بہ پسران خود تزویج کرد فرمود کہ بلے مردم چنین می گویند لیکن اے سلیمان مگر نمیدانی کہ رسولِ خداﷺ فرمود کہ اگر میدانستم کہ آدم دخترش بہ پسرش نکاح کردہ ہر آئینہ من زینبؓ را قاسم می کردم ودین آدم را ترک نمی کردم۔               

ترجمہ: معتبر سند کے ساتھ نقل ہے کہ سلیمان بن خالد نے سیدنا جعفر صادقؒ سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی لڑکیوں کے نکاح اپنے بیٹوں کے ساتھ کئے فرمایا ہاں لوگ ایسے ہی کہتے ہیں مگر سلیمان تجھے علم نہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ‎ نے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی بیٹی کا نکاح اپنے بیٹے سے کیا تو میں سیدہ زینبؓ کا قاسم سے کرتا اور دینِ آدم کو ترک نہ کرتا۔                        

اس روایت سے معلوم ہوا کہ سیدہ زینبؓ سیدنا قاسم ابنِ رسول اللہﷺ کی حقیقی بہن تھیں یہ قولِ رسول اللہﷺ ہے اور بیان کرنے والے سیدنا جعفر صادقؒ ہیں۔        

 استبصار جلد 1 صفحہ 245:           

 فقال ابو عبداللہ وان زینبؓ بنتِ النبیﷺ توفیت وان فاطمہؓ خرجت فی نساءھا فصلت علی اختھا۔                      

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کے سیدہ زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ فوت ہوئی تو سیدہ فاطمہؓ عورتوں کے ساتھ گھر سے نکلیں اور اپنی بہن کا جنازہ پڑھا۔

سیدنا جعفر صادقؒ نے اس روایت میں سیدہ زینبؓ کو۔

  رسول اللہﷺ کی حقیقی بیٹی فرمایا۔ ب۔ سیدہ زینبؓ کو سیدہ فاطمہؓ کی حقیقی بہن فرمایا۔ ج۔ سیدہ فاطمہؓ کا اپنی بہن کے جنازہ کے لئے گھر سے نکلنا ذکر کیا۔                

 خصال شیخ صدوق جلد 2 صفحہ 167:     

عن ابی عبداللہ قال ولد رسول اللہﷺ عن خدیجہؓ القاسمؓ والطاھرؓ و عبداللہؓ وامِ کلثومؓ ورقیہؓ و زینبؓ و فاطمہؓ وتزوج علی بن ابی طالب فاطمہؓ وتزوج ابوالعاصؓ بن الربیع وھو رجل من بنی امیہ زینبؓ تزوج عثمان بن عفانؓ ام کلثومؓ فماتت ولم یدخل بھا فلما ساروا الی بدر زوجہ رسول اللہﷺ رقیہؓ ثم قال رسول اللہﷺ یا حمیرا فان اللہ تبارک وتعالیٰ بارک فی الودود المولود و ان خدیجہؓ رحمھا اللہ ولدت منی طاھرا وھو عبداللہ وھو المطھر ولدت منی القاسم وفاطمہؓ و رقیہؓ و امِ کلثومؓ و زینبؓ۔                

صفحہ 1 از 14