تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 10 از 14

(3)۔ کہا جاتا ہے کہ سیدہ امِ کلثومؓ زوجہ سیدنا عمر فاروقؓ اوائل زمانہ خلافتِ سیدنا امیرِ معاویہؓ میں قریباً 50ھ میں فوت ہوگئی اور اکثر کتب میں موجود ہے کہ سیدہ امِ کلثومؓ کربلا شام اور کوفہ میں ہمراہ قافلہ موجود تھی تو کیا دوبارہ زندہ ہو کر پھر کربلا گئی اور 50ھ میں پھر مرگئی اکثر کتب میں موجود ہے کہہ کر اپنی بے وزن بات میں وزن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاریخ کی ایک ہی کتاب کو دیکھ لیا ہوتا جسے آپ کے ہاں ناسخ التواریخ کہا جاتا ہے اس میں جلد 1 صفحہ 52 پر موجود ہے۔

وازیں اخبار معلوم می شود که ام کلثوم بنتِ علیؓ که در یوم الکلف و سفر شام با اهل بیت خیر الا نام بود ارین صدیقہ طاہرہ نیست بلکہ ہماں ام کلثوم صغریٰ است که مادرش ام سعید بنت عروہ بن مسعود الثقفی است وهم آن روایت که آورده اند که بعد از هلاکت عمرؓ امِ کلثومؓ را امیر المومنین برائے خود آورد و دیگر اشارت نکرده اند مؤید ہمیں است که در زمان امام حسنؓ وفات یافت۔

ترجمہ: ان اخبار سے معلوم ہوتا ہے کہ جو سیدہ امِ کلثومؓ بنتِ سیدنا علیؓ کربلا اور سفر شام میں قافلہ کے ہمراہ تھی وہ سیدہ فاطمہؓ کے بطن سے نہیں تھی بلکہ یہ وہی امِ کلثوم صغریٰ ہے جس کی ماں امِ سعید بن عروہ ہے اور نیز ان روایات میں آیا ہے کہ سیدنا عمرؓ کی شہادت کے بعد سیدہ امِ کلثومؓ کو سیدنا علیؓ اپنے گھر لے آئے بھی اس کی مؤید ہے کہ سیدنا حسنؓ کے زمانے میں وفات پائی۔

پھر یہی صاحب ناسخ التواریخ جلد 1 صفحہ 53 پر لکھتا ہے کہ ایک مورخ لکھتا ہے کہ امِ کلثومؓ رادر مجلس یزید بدید۔ مگر دوسری طرف حال یہ ہے کہ نویسنده در جائے دیگر بطورے بایں داستان لب می کشاید که حضرت امِ کلثومؓ زوجہ عمرؓ دریں مجلس حضور نداشته است۔

یہ ہے اکثر کتب کا حال کہ خود ہی دعویٰ کیا اور خود ہی تردید کر دی پھر اسی طراز المذہب یعنی ناسخ التواریخ جلد1 صفحہ 59 پر وازیں جملہ اخبار معلوم میگردد که جناب امِ کلثومؓ که در کربلا و شام حضور یافته امِ کلثوم صغری زوجہ عبدالله الاصغر بن عقیل است۔

ان روایات سے ظاہر ہے کہ جو امِ کلثوم کربلا اور شام میں موجود تھی وہ امِ کلثوم صغریٰ زوجہ عبدالله الاصغر بن عقیل ہے۔

غالباً اب تو بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ 50ھ میں مرنے والی سیدہ ام کلثومؓ دوبارہ زندہ ہو کر قافلہ کربلا کے ساتھ نہیں گی تھی بلکہ دوسری سیدہ ام کلثومؓ تھی جو اس وقت بقید حیات تھی۔ 

(4)۔ سیدنا عمرؓ کا نکاح ایک جننی سے ہوا سیدہ امِ کلثومؓ دخترِ سیدہ فاطمہؓ سے نہیں ہوا

انوار نعمانیه جلد1 صفحہ 25:

جب سیدنا عباسؓ نے سیدنا علیؓ سے کہا کہ مجھے اجازت دے دیں کہ سیدہ ام ِکلثومؓ کا نکاح سیدنا عمرؓ سے کردوں تو:

فلما رای امیر المومنين مشقة كلام الرجل على العباسؓ وانه سيفعل معه ما قال ارسل الى جنيته من اهل النجران يهودية يقال لها سخيفه بنت حروزيه فامرها فتمثلت فی مثال امِ كلثومؓ وحجبت الابصار عن امِ كلثومؓ وبعث بها الى الرجل فلم تزل عنده حتىٰ انه استواب بها يوما وقال ما فی الأرض سحر اهل بیت اسحر من بنی هاشم ثم اراد ان يظهر للناس فقتل واخذت الميراث وانصرفت الی نجران و اظهر امیر المومنين ام كلثومؓ فاقول وعلى هذا فحدیث اول فرج غصبناه محمول على التقية او الاتقاء من عوام الشيعة كمالا يخفىٰ۔

ترجمہ: جب سیدنا علیؓ نے سیدنا عباسؓ پر سیدنا عمرؓ کی سخت کلامی دیکھی اور سمجھا کہ سیدنا عمرؓ وہ کر گزریں گے جو کہہ رہے ہیں تو نجران کی ایک یہودی جننی کی طرف نجران میں آدمی بھیجا جننی کا نام سخیفہ تھا سیدنا علیؓ نے جننی کو حکم دیا اور اس نے سیدہ امِ کلثومؓ کی شکل اختیار کر لی اور سیدہ امِ کلثومؓ کو چھپا دیا اور اس جننی کو سیدنا عمرؓ کی طرف بھیج دیا گیا اور وہ ہمیشہ سیدنا عمرؓ کے پاس رہی حتیٰ کہ سیدنا عمرؓ کو ایک روز شک پڑ گیا اور فرمایا زمین پر بنی ہاشم سے بڑا کوئی جادوگر نہیں پھر ارادہ کیا کہ حقیقت ظاہر کر دیں مگر قتل کر دیئے گئے اور وہ جننی میراث لے کر نجران چلی گئی اور سیدنا علیؓ نے سیدہ امِ کلثومؓ کو ظاہر کر دیا میں کہتا ہوں اس بات پر کہ حدیث پہلی فرج جو ہم سے غصب کی گئی تقیہ پر محمول ہوگی یا عوام شیعہ سے بچنے کے لئے ہوگی۔ 

پھر ناسخ التواریخ جلد 1 صفحہ 60:

ایں اخبار باحکایت جنیه منافات نداردچه ایں حکایت است مکتوم که جزبر خواص خویش معلوم نداشته اند و معنیٰ آیت حدیث چنیں است که غصبناه ظاهرا۔

ترجمہ: یہ روایات جننی کی حکایت سے کوئی منافات نہیں رکھتیں کیونکہ یہ حکایت سوائے خواص کے کسی کو معلوم نہیں تھی اور اس حدیث کے معنیٰ یوں ہوں گے بظاہر جو غصب کی گئی۔

مگر اس ضمن میں اصولِ کافی میں یہ ملتا ہے کہ:

العباسؓ ساله (علیؓ) عن يجعل الامر اليه فجعله اليه۔

ترجمہ:  سیدنا عباسؓ نے کہا سیدنا علیؓ سے کہ یہ معاملہ میرے سپرد کر دیں اور سیدنا علیؓ نے سیدنا عباسؓ کو اختیار دے دیا۔

یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں: 

صفحہ 10 از 14