تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 11 از 14
  1.  کیا اصولِ کافی مستند اور معتبر ہے یا انوار نعمانیہ؟۔
  2. اگر اصولِ کافی کے متعلق شیعہ کا عقیدہ وہی ہے کہ ھذا کاف لشیعتنا تو سیدنا علیؓ نے سیدنا عباسؓ کو جو اختیار دیا تھا اس کا تعلق اپنی بیٹی سیدہ امِ کلثومؓ سے تھا یا یہودی جنیہ سےتھا؟۔
  3.  انوار نعمانیہ میں جو "ارسل" لکھا ہے سیدنا علیؓ نے کس کو بھیجا تھا۔
  4.  کیا اسکو اصل شکل میں جننی نظر آئی؟ اصل شکل میں کیسے نظر آیا کیونکہ روایت کے مطابق اس نے سیدنا علیؓ کے پاس آنے کے بعد سیدہ امِ کلثومؓ کی شکل اختیار کی؟۔
  5.  وہ جننی نکاح کے بغیر حضرت کے پاس بھیج دی گئی۔
  6. سات سال سیدنا عمرؓ کے پاس رہی دو بچے زید اور رقیہ پیدا ہوئے تو اتنی مدت تک سیدہ امِ کلثومؓ کہاں رہی؟۔
  7.  کیا سیدنا علیؓ نے اپنی بیٹی کو ایسی قید تنہائی میں رکھا کہ کسی کو خبر نہ ہونے پائے کہ ایک سیدہ امِ کلثومؓ سیدنا عمرؓ کے پاس ہے اور ایک سیدنا علیؓ کے گھر میں۔
  8. (8)۔ اور یہ جو لکھا ہے کہ ولما مات عمرؓ اتى علىؓ ام كلثومؓ فاخذ بيدها فانطلق بھا تو کیا سیدنا علیؓ جننی کو گھر لے گئے۔
  9.  مگر انوار نعمانیہ میں ہے کہ جننی میراث لے کر نجران چلی گئی یہ کیا معمہ ہے؟۔
  10. جننی سے شریعت میں نکاح حرام ہے اگر سیدنا علیؓ نے نکاح کیا تو فعل حرام کے مرتکب ہوئے اور بغیر نکاح کے بھیجی تب بھی فعل حرام کا ارتکاب کیا۔ 
  11.  اصل سیدہ امِ کلثومؓ سات سال تک تو کہیں چھپائے رکھی اس کے بعد کی اس کی زندگی پر بھی کوئی روشنی ڈالی جائے۔
  12. (صاحبِ طراز المذہب جلد 1 صفحہ 59) پر لکھتا ہے و تمسک باذیال جنیتہ یہو یہ چنداں وجوبے ندارد یعنی جننی کا واقعہ ہی سرے سے بناوٹی ہے۔
  13. اگر یہ واقعہ درست ہے تو سیدنا علیؓ جیسا بزدل اور کسے ظاہر کیا گیا ہے۔
  14.  صاحبِ طراز آگے صفحہ 60 پر لکھتا ہے کہ جننی کا واقعہ اور اول فرج غصبناہ میں کوئی منافات نہیں کیونکہ ظاہر میں تو واقعی بجبرِ سیدہ ام کلثومؓ سے نکاح پڑھایا گیا اور جننی کا واقعہ خواص کے بغیر کسی کو معلوم نہیں اور ہم تو ظاہر کے مکلف ہیں۔
  15.  انوار نعمانیہ کا موقف یہ ہے کہ اول فرج غضبناه محمول على التقيه اوالانقاء عن عوام الشيعة جس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنی رضا مندی سے اپنی بیٹی سیدہ امِ کلثومؓ کا نکاح سیدنا عمرؓ سے کیا مگر شیعہ کے ڈر سے تقیہ کر کے کہہ دیا کہ غصبناہ کیا شیر خدا کے ساتھ اس کردار کا کوئی جوڑ ہے اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ سیدنا علیؓ نے اپنی خوشی سے سیدنا عمرؓ سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا کیونکہ ہم مذہب جو تھے مگر شیعوں کے ڈر سے تقیہ کر کے کہہ دیا کہ جبراً مجھ سے نکاح کرایا گیا ہے۔

حقیقت کے اعتبار سے اس بیان شدہ واقع پر غور کیا جائے تو یہ ایک ایسا گورکھ دھندا ہے کہ جتنا سوچو معمہ در معمہ بنتا چلا جاتا ہے مگر اللہ جزائے خیر دے سید نعمت اللہ محدث الجزائری کو کہ اس عقدے کا حل بتا دیا۔

وانما الاشكال فی تزويج على عليه السلام ام كلثومؓ لعمر بن الخطابؓ وقت تخلفه لانه قد ظهرت منه المناكير وارتد عن الدين ارتد ادا اعظم من كل ارتداد فاذا ارتد على هذا النحو من الارتداد فكيف ساغ فی الشريعة مناكحة وقد حرم الله تعالىٰ نكاح اهل الكفر والارتداد واتفق عليه علماء الخاصة فنقول قد تفمح الاصحاب عن هذا بوجوهين الاول فقد استفاض فی اخبارهم عن الصادق عليه السلام لما سئل عن هذه المناكحة فقال انه اول فرج غصبناه و تفصيل هذا ان الخلافة قد كانت اعز علی امیر المومنين عليه السلام من الاولاد والبنات والازواج والاموال وذلك ان بها نظام الدين و اتمام السنة ورفع الجور و احیاء الحق وموت الباطل وجميع فوائد الدنيا والأخرة فاذا لم يقدر على الدفع عن مثل هذا الامر الجليل الذی ما تمكن من الدفع عنهو التقية باب فتحه الله سبحانه للعباد وامرهم بارتكابه والزمهم به كما اوجب عليهم الصلواة والسلام حتىٰ انه ورد من الائمة الطاهرين عليهم السلام لا دين لمن لا تقية له فقبل عذره عليه السلام فی مثل هذا الامر الجزئی۔

ترجمہ: سیدنا عمرؓ کے خلافت کے وقت سیدنا علیؓ کا سیدہ امِ کلثومؓ کو سیدنا عمرؓ کے نکاح میں دے دینے میں اشکال ہے کیونکہ خلافت کے وقت سیدنا عمرؓ سے بڑی برائیاں ظاہر ہوئیں اور دین سے ایسے پھر گئے تھے کہ اس سے بڑا کوئی ارتداد نہیں پس ایسے مرتد سے شریعت میں نکاح کیسے جائز ہوا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے کافر اور مرتد سے نکاح حرام کیا ہے اور اس پر شیعہ علماء کا اتفاق ہے ہم کہتے ہیں کہ علمائے شیعہ نے اس اعتراض سے دو طرح جان چھڑائی ہے پہلی یہ کہ شیعہ روایات سے ظاہر ہے کہ جب سیدنا جعفرؒ سے پوچھا گیا اس نکاح کے متعلق تو جواب دیا کہ یہ پہلا فرج ہے جو ہم سے غصب کیا گیا تفصیل اس کی یہ ہے کہ خلافتِ سیدنا علیؓ کو اپنی اولاد بیٹیوں بیویوں اور مال سے زیادہ محبوب تھی کیونکہ خلافت سے دین کا نظام قائم ہوتا ہے اتمامِ سنت ہے دفع ظلم احیائے حق اور باطل کی موت ہوتی ہے اور تمام دینی اور دنیوی فوائد اس سے وابستہ ہیں پس جب سیدنا علیؓ کو قدرت نہ تھی کہ سیدنا عمرؓ کو خلافت سے باز رکھیں اور تقیہ ایسا باب ہےاللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے کھول دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ تقیہ اختیار کریں اور تقیہ کو ایسا ہی واجب کر دیا ہے جیسے نماز اور روزہ یہاں تک کہ ائمہ طاہرین سے روایت ہے کہ جس نے تقیہ نہ کیا اس کا کوئی دین ہی نہیں لہٰذا سیدنا علیؓ کا عذر بھی اس جزئی امر میں قبول کیا گیا۔

واما الشبهة الواردة على هذا وهى انه يلزم ان يكون عمرؓ زانيا فی ذلك النكاح وهو مما لا يقبله العقل بالنظر الى ام كلثومؓ فالجواب عنها من وجهين احدهما ان ام كلثومؓ لا حرج عليها فی مثله لا ظاهرا ولا واقعا وهوظاهر واما هو (عمرؓ) فليس بزان فی ظاهر الشريعة لانه دخول مترتب على عقد باذن الولي الشرعی واما فی الواقع وفی نفس الامر فعليه عذاب الزانی بل عذاب كل اهل المساوى والقبائح الثانی فی القطصی) ان الحال لما اٰل الى ما ذكرنا من التقية فيجوز ان يكون قد رضى عليه السلام قبلك المناكحة رفعا لدخوله مسلك غير الوطى المباح۔

صفحہ 11 از 14