تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 12 از 14

ترجمہ: دوسرا شبہ یہ ہے کہ لازم آئے گا کہ سیدنا عمرؓ زانی ہو اور سیدہ امِ کلثومؓ کے بارے میں عقل اسے قبول نہیں کرتی اس کا جواب دو طرح ہے ایک یہ کہ اس نکاح میں سیدہ امِ کلثومؓ پر اس کا کوئی گناہ نہیں تھا ظاہراً نہ واقعہ کے لحاظ سے جہاں تک سیدنا عمرؓ کا تعلق ہے وہ ظاہری شریعت میں وہ زانی نہیں کیوں کہ نکاح ولی شرعی کی اجازت سے ہوا لیکن واقعہ میں اس پر زانی کا عذاب ہوگا بلکہ ہر بدکار کی برائی کا عذاب ہوگا دوسرا یہ کہ جب سیدنا علیؓ نے تقیہ کر لیا تو جائز ہے کہ سیدنا علیؓ اس نکاح پر راضی ہو گئے ہیں کیونکہ ایسا نہ ہو تو ولی غیر مباح میں داخل ہوتا ہے۔

یعنی مسئلہ کا حل یہ ہے کہ:

(1)۔ سیدنا علیؓ نے سیدہ امِ کلثومؓ کا نکاح اپنی خوشی سے کیا مگر شیعہ کی طرف سے اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ سیدنا عمرؓ مرتد تھے (معاذ اللہ) اور شریعت میں کافر سے نکاح کرنا حرام ہے تو سیدنا علیؓ نے ایسا کیوں کیا تو جواب دیا ہے کہ سیدنا علیؓ کو خلافت اس قدر عزیز تھی کہ اس کے لئے اپنی اولاد ازواج اور اموال قربان کر دینا پسند کرتے تھے یعنی یہ عقدہ حل ہو گیا کہ کوئی جبر نہیں تھا بلکہ اپنی خوشی سے خلافت کی خاطر یہ قربانی دے دی قربانی تو بڑی ہے مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ قربانی دینے کا خلافت سے کیا تعلق ہے کیا انہیں کہا گیا تھا کہ یہ قربانی دو تو خلافت ملے گی بات پھر الجھ گئی۔

دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اقتدار کی خاطر یہ قربانی دینا کوئی بڑی بات نہیں اس گئے گزرے زمانے میں بھی لوگ اقتدار کے لئے بیٹیوں بیویوں اور مال کی قربانی دیا کرتے ہیں اور اس کثرت سے ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بھلے مانی سے اقتدار تک پہنچنے والے خال خال ہی ملتے ہیں لہٰذا سیدنا علیؓ کی یہ قربانی تو کوئی خاص وزن نہیں رکھتی۔

اس کی توجیہہ یہ کی گئی ہے کہ سیدنا علیؓ کو صرف اقتدار محبوب نہیں تھا بلکہ وہ اقتدار کو ایک بہت بڑی خوبی تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے تھے وہ یہ اقتدار حاصل کر کے دین کا نظام درست کریں گے حق کا احیاء کریں گے باطل کو مٹائیں گے گویا تمام دنیوی اور اخروی فوائد خلافت سے وابستہ ہیں واقعی نصب العین بڑا بلند ہے دین کی خاطر تو اس سے بڑی قربانی دینا بھی معمولی بات ہے مگر جب انہیں خلافت ملی تو انہوں نے شیخینؓ کے طریقے سے ہٹ کر ایک کام بھی نہیں کیا ان کے عہد کی پالیسی آئینِ احکام وغیرہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ کے پیشتر وہ یہی کام کرتے چلے آئے تھے اتنا ضرور فرق پڑا کہ سیدنا علیؓ کے عہد میں سلطنتِ اسلامی کا پھیلاؤ رک گیا انہوں نے ایک انچ زمین کا اضافہ بھی اسلامی مملکت میں نہیں کیا دوسرا سوال یہ ہے کہ جب سیدنا علیؓ نے خلافت کی خاطر اپنی خوشی سے یہ قربانی دی تو غصبِِ فرج کی تہمت کیوں لگاتے ہو تو جواب یہ دیا کہ شیعوں سے خطرہ تھا اس لئے ان کی خاطر اس پر تقیہ کا لیبل لگا دیا ایک تیر سے دو شکار ایک تو شیعہ مطمئن ہو گئے دوسرا تقیہ کا ثواب مل گیا کیونکہ تقیہ اسی طرح واجب ہے جیسے نماز اور روزہ بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقیہ ان سے بھی افضل ہے کیونکہ نماز اور روزہ کے لئے وقت مقرر ہے بلکہ تقیہ ہر وقت ہر حال اور ہر لحظہ فرض ہے بھی تو کہا گیا ہے کہ جہاں تقیہ نہیں وہاں دین نہیں گویا نماز روزہ تو محض تبرک کے طور پر ہے اصل دین تو تقیہ ہے۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ تقیہ کا ثواب تو مل گیا مگر زنا کے گناہ سے کیسے بچیں گے تو اس کا حل یہ بتایا کہ جہاں تک سیدہ امِ کلثومؓ کا تعلق ہے ان کے متعلق تو زنا کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا رہے سیدنا عمرؓ تو شریعت کے لحاظ سے وہ زانی نہیں کیونکہ ولی شرعی کی اجازت سے نکاح ہوا مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ زانی ہیں بلکہ دنیا بھر کے زانیوں کا عذاب انہیں ہوگا مگر کیوں؟ اس لئے کہ سیدنا عمرؓ جو ہوئے مگر اسی سانس میں دوسری بات بھی کہہ دی کہ جب سیدنا علیؓ نکاح پر راضی ہوئے خواہ حقیقتاً خواہ تقیہ کر کے بہرحال راضی ہو گئے لہٰذا یہ وطی مباح میں داخل ہے یااللہ یہ کیا پہیلی ہے کہ وطی مباح بھی ہے اور دنیا بھر کا عذاب بھی سیدنا عمرؓ کے لئے تیار ہے۔ 

بک گیا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی! 

صحاحِ اربعہ اور سیدہ ام کلثومؓ بنتِ سیدنا علیؓ

اہلِ سنت کے ہاں کتابُ اللہ کے بعد صحاحِ ستہ کا جو درجہ ہے شیعہ کے ہاں صحاحِ اربعہ کو وہی مقام حاصل ہے اس لئے اس مستند ذخیرے سے اس امر کا ثبوت پیش کیا جائے گا کہ سیدہ امِ کلثومؓ سیدنا علیؓ کی بیٹی تھی۔

(1)۔ فروعِ کافی جلد 6 صفحہ 115 116 باب متوفی عنہا زوجها طبع ایران۔

عن ابی عبدالله قال سالته ای (راوی) عن المرأة المتوفى عنها زوجها تعتد فی بيتها او حيث شاءت قال بل حيث شاءت ان علياً عليه السلام لما توفى عمرؓ اتى امِ كلثومؓ فانطلق بها الى بيته۔ 

ترجمہ: راوی کہتا ہے میں نے سیدنا جعفرؒ سے بیوہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ اپنے گھر میں عدت گزارے یا جہاں چاہے تو آپ نے فرمایا جہاں چاہے کیوں کہ سیدنا عمرؓ فوت ہوئے تو سیدنا علیؓ سیدہ امِ کلثومؓ کو اپنے گھر لے آئے۔

یہاں یہ وضاحت نہیں کہ جسے گھر لے گئے وہ اصل بیٹی تھی یا جننی تھی ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اصل بیٹی تھی جننی کو اپنے گھر لے جانے میں انہیں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے بلکہ اندیشہ ہوسکتا ہے کہ ان کے گھر میں دو سیدہ امِ کلثومؓ ہو جاتیں۔

(2)۔ الكافی كتاب النكاح باب فی تزويج امِ كلثومؓ۔

زرارہ کہتا ہے قال الامام ذلک فرج غصبناه۔

ترجمہ: سیدنا جعفرؒ نے فرمایا یہ وہ فرج ہے جو ہم سے چھین لی گئی۔

واقعی کمزوروں سے لوگ بیٹیاں چھین ہی لیا کرتے ہیں اور حمیت بالکل ہی جاتی رہے تو وہ شکوہ بھی نہیں کرتے۔

(3)۔ فروعِ کافی کتاب النکاح باب فی تزويج امِ كلثومؓ

عن ابی عبدالله قال لما خطب اليه قال له امير المومنين انها صبية قال فلقى العباسؓ فقال له ابی بأس فقال ما ذاك قال خطبت الى ابن ابیک فردنی اما والله لا عودن زمزم ولا ادع لكم مكرمة الاهدمتها ولا قيمن عليه شاهدين بانه سرق ولا قطعن يمينه فتاه العباس فاخبره وسأله ان يجعل الامر اليه فجعله اليه۔ 

صفحہ 12 از 14