تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 13 از 14

ترجمہ: واقعی شیرِ خدا کہہ کر اس سے ایسا کردار منسوب کرنا صرف محبانِ اہلِ بیتؓ کو زیب دیتا ہے کوئی اور بھلا کہاں ایسی ڈھٹائی کا مظاہرہ کر سکتا ہے ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب سیدنا علیؓ نے تقیہ کر کے سیدنا عمر فاروقؓ کو امیر المومنین تسلیم کر لیا تو تقیہ کر کے ہی انہیں داماد تسلیم کر لینے میں کیا قباحت ہے البتہ ایک الجھن رہ جاتی ہے کہ بقول شیعہ امام برحق ہے اور بقول شیعہ کافر کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کر رہا ہے یہ امامت کیسی ہے اور یہ شریعت کونسی ہے؟ اس الجھن سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ کو کامل الایمان تسلیم کرو تو سیدنا علیؓ کا ایمان بچ سکتا ہے مگر کوئی اس الجھن سے نکلنا نہ چاہے تو اس پر جبر تو نہیں کیا جا سکتا۔

(4)۔ استبصار كتاب النكاح باب العدة جلد 3 صفحہ 184 185:

ان علياًؓ لما توفى عمرؓ اتی امِ كلثومؓ فانطلق بها الى بيته۔

(5)۔ استبصار (ايضاً)

ان علياًؓ لما مات عمرؓ اتی امِ کلثومؓ فاخذ بيدها فانطلق بها الى بيته۔

(6)۔ تہذيب الاحكام طبع ایران جلد 8 صفحہ 16

ان علياًؓ لما توفى عمرؓ اتی امِ كلثومؓ فانطلق بها الى بيته

(7)۔ تہذيب الاحكام جلد 9 صفحہ 362 كتاب الميراث

عن جعفرؓ عن ابيه قال ماتت امِ كلثومؓ بنت علىؓ وابنها زيد بن عمر بن الخطابؓ فی ساعة واحدة لا يدرى ايهما قبل فلم يورث احدهما من الأخر وصلى عليهما ضجيعا۔

(8)۔ فروع کافی کی ایک روایت پہلے بیان ہو چکی ہے

صحاحِ اربعہ کی یہ روایات سیدنا جعفرؒ اور سیدنا باقرؒ سے مروی ہیں ان میں سے چھ حدیثیں ایسی ہیں کہ وہی راوی اور وہی الفاظ ہیں جو کافی میں ہیں پھر استبصار اور تہذیب سے اختصار ان علیاًؓ سے بقدرِ ضرورت نقل کی ہیں۔

اوائل خلافتِ سیدنا امیرِ معاویہؓ میں سیدہ امِ کلثومؓ اور ان کے بیٹے زید کی وفات ہوئی۔ 

انکارِ نکاح پر تبصرہ:

(1)۔ ناسخ التواریخ صفحہ 63 پر لکھتا ہے کہ:

شیخ (مفید ) اصل ایں واقعه را انکارمی نماید برائے بیان آنست که از طرق اهل بیت بعید است و گرنه بعد از ورود این جمله اخبار وجود ایں مناکحت انکارش عجیب می نماید دهم از حضرت ابی عبداللہ مردیست ان علياؓ لما توفى عمرؓ اتی امِ کلثومؓ فانطلق بها الى بيته بروجود این قضیه تصریح می نماید۔ 

ترجمہ: شیخ مفید اس واقعہ سے اس بنا پر انکار کرتا ہے کہ اہلِ بیتؓ کے طریقہ کے خلاف ہے مگر ان تمام روایات کے بعد انکار کرنا تعجب کی بات ہے اور سیدنا جعفرؒ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمرؓ فوت ہوئے تو سیدنا علیؓ سیدہ امِ کلثومؓ کے پاس آئے اور ان کو اپنے گھر لے آئے روایت اس قصہ کے وجود پر صریح دلالت کرتی ہے۔

(2)۔ اس کتاب کے جلد 1 صفحہ 59 پر درج ہے۔

علامه مجلسی در بحارالانوار بعد از نگارش برنے اخبار میں نویسد که از حضرت ابی عبد الله مردیست که در باب ترویج ام کلثومؓ فرمود ان ذلك فرج غصبناه وبردایتی فرمود اول فرج غصب منا امِ كلثومؓ۔ 

ترجمہ: یعنی شیعہ مورخ عباس قلی خان اس انکار پر تبصرہ کرتے ہوئے صاف لکھتا ہے کہ شیخ مفید کے پاس عدمِ نکاح سیدہ امِ کلثومؓ  ہمراہِ سیدنا عمر فاروقؓ کوئی دلیل نہیں بلکہ یہ انکار در حقیقت ائمہ معصومین کے فرمان کا انکار ہے یہ احادیث امام سے منقول ہو کر صحاحِ اربعہ میں درج ہیں تو حدیث امام کسی عالم کے قول سے کیسے مردود قرار دی جاسکتی ہے۔

(3)۔ مجالس المومنین جلد 1 صفحہ 195:

محمد بن جعفرؓ بعد از فوت عمر بن الخطابؓ همشرف مصاہرت حضرت امیر المومنین مشرف گشته امِ کلثومؓ را باعدم کفاعت از روئے اکراہ در جہالہء عمرؓ بود تزویج نمود۔ 

ترجمہ: سیدنا عمرؓ کے ساتھ سیدہ امِ کلثومؓ کا نکاح غیر کفو ہونے کی وجہ سے بجبر کیا گیا تھا تو سیدنا عمرؓ کی وفات کے بعد سیدنا محمد بن جعفرؓ نے امیر المومنین کے ساتھ رشتہ مصاہرت کا شرف حاصل کرنے کے لئے سیدہ امِ کلثومؓ سے نکاح کر لیا۔

یہاں بڑی فنکاری سے انکار کیا گیا ہے جس میں اقرار بھی پایا جاتا ہے کہ نکاح تو ہوا مگر جبراً ہوا اور برضا و رغبت نکاح نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ معاملہ کفو کا تھا اور سیدنا عمرؓ کفو سے نہ تھے یہ سہارا بھی بڑا بودا ہے کیونکہ شیعہ فقہ میں کفو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا شیعہ کتب میں دفتر کے دفتر بھرے ہیں کہ شیعہ کفو کے قائل نہیں طوالت سے بچنے کے لئے ایک حوالہ نقل کیا جاتا ہے شرائع الاسلام از علامہ حلی کفو کے سلسلے میں لکھتا ہے:

يجوز نكاح الحرية العبد والعربية العجمی والهاشمية غير الهاشمى۔

ترجمہ: آزاد عورت کا نکاح غلام سے جائز ہے عربی عورت کا نکاح عجمی مرد سے ہو سکتا ہے اور ہاشمی عورت کا نکاح غیر ہاشمی مرد سے جائز ہے۔

اس کی شرح مسالک الافہام میں شہیدِ ثانی شیخ زین الدین نے لکھا ہے(جلد اول کتاب النكاح)۔

وزوج النبیﷺ ابنته عثمانؓ وزوج ابنته زینبؓ بابی العاصؓ بن الربيع و ليسا من بنی هاشم و كذلك زوج علىؓ ابنته امِ كلثومؓ من عمر وتزوج عبدالله بن عمرؓ بن عثمانؓ فاطمة بنت الحسينؓ وتزوج مصعب بن الزبيرؓ اختها سكينه وكلهم من غير هاشم۔ 

ترجمہ: نبی کریمﷺ نے اپنی بیٹی کا نکاح سیدنا عثمانؓ سے کیا اور اپنی بیٹی سیدہ زینبؓ کا نکاح سیدنا ابوالعاص بن الربیعؓ سے کیا یہ دونوں ہاشمی نہیں تھے اسی طرح سیدنا علیؓ نے اپنی بیٹی سیدہ امِ کلثومؓ کا سیدنا عمرؓ سے کیا اور سیدہ فاطمہ بنتِ حسینؓ کا نکاح سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے ہوا اور اس کی بہن سکینہ کا نکاح سیدنا مصعب بن زبیرؓ  سے ہوا اور یہ سب غیر ہاشمی تھے۔

شارح نے پانچ رشتے بطورِِ ثبوت پیش کر دیئے کہ ہاشمی اور غیر ہاشمی کے درمیان ہوئے۔

ان میں کفو کا سوال پیدا نہیں ہوتا مختصر یہ کہ کفو کا مسئلہ فقہ جعفری میں مطلق قابلِ لحاظ نہیں یہ فقہ جعفری کا متفق علیہ فیصلہ ہے۔

اس نکاح کے باوجود انکار کی بحث کو فیصلہ کن مرحلہ پر پہنچانے کے لئے ہم ایک مشہور شیعہ مورخ کو پیش کرتے ہیں جس نے اپنی کتاب طراز المذہب میں ایک مستقل باب تزویج امِ کلثومؓ ہمراہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ باندھا ہے جو صفحہ 48 سے صفحہ 68 تک پھیلا ہوا ہے اس میں سے چند اِقتباس درج ذیل ہیں۔

صفحہ 13 از 14