تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 14

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ سیدہ خدیجہؓ سے حضور اکرمﷺ کے دو بیٹے سیدنا قاسمؓ اور سیدنا طاہرؓ اور چار بیٹیاں سیدہ رقیہؓ سیدہ امِ کلثومؓ سیدہ زینبؓ اور سیدہ فاطمہؓ پیدا ہوئیں سیدہ فاطمہؓ کا نکاح سیدہ علیؓ بن ابی طالب سے ہوا سیدہ زینبؓ کا نکاح سیدنا ابوالعاصؓ بن الربیع اموی سے ہوا سیدہ امِ کلثومؓ کا نکاح سیدنا عثمان بن عفانؓ سے ہوا رخصتی سے پہلے وہ فوت ہوگئی پھر حضور اکرمﷺ نے سیدہ رقیہؓ کا نکاح سیدنا عثمانؓ سے کر دیا جب بدر کی طرف جانے لگے پھر حضورﷺ نے فرمایا اے حمیرا (سیدہ عائشہؓ) اللہ نے اس عورت میں برکت رکھی ہے جو بچوں سے محبت کرتی ہے اور سیدہ خدیجہؓ اللہ اس پر رحم کرے اس سے میرے بیٹے سیدنا طاہرؓ اور سیدنا قاسمؓ اور میری بیٹیاں سیدہ فاطمہؓ سیدہ رقیہؓ سیدہ امِ کلثومؓ اور سیدہ زینبؓ پیدا ہوئیں۔        

اس روایت سے معلوم ہوا کہ:

  1.  حضور اکرمﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے اپنی چار بیٹیوں کے نام سیدہ عائشہؓ کے سامنے بیان فرمائے۔ ب۔ حضورﷺ نے یہ بھی بتایا کہ یہ میری ساری بیٹیاں سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے تھیں۔       
  2. پھر سیدہ خدیجہؓ کے لئے دعا فرمائی۔         
  3.  سیدنا جعفر صادقؒ نے نہ صرف چار بیٹیوں کے نام لئے بلکہ ان کے نکاح کی تفصیل بھی بتائی۔                
  4.  سیدنا جعفر صادقؒ نے اس روایت کی تصدیق فرمائی۔

حیات القلوب جلد 2 صفحہ 718: 

بہ سند معتبر از حضرت صادقؒ روایت کردہ است کہ از برائے رسول خداﷺ متولد شدند طاہرؓ و قاسمؓ و فاطمہؓ و امِ کلثومؓ و رقیہؓ و زینبؓ و فاطمہؓ را آنحضرت امیر المومنین تزویج نمود و تزویج کردبا ابوالعاص بن ربیعہ کہ از بنی امیہ بود زینبؓ راو بعثمان بن عفانؓ امِ کلثومؓ را و پیش از آنکہ بخانہ آں رود برحمت الٰہی واصل شد و بعد از و حضرت رقیہؓ رابا و تزویج نمود۔  

 حیات القلوب جلد 2 صفحہ 718:  

وابن بابویہ بہ سند معتبرآں روایت کردہ است کہ از برائے رسول خداﷺ متولد شد از خدیجہؓ قاسمؓ و طاہرؓ و نام طاہر عبد اللہ بودوام کلثومؓ و رقیہؓ و زینبؓ و فاطمہؓ حضرت امیر المومنینؓ فاطمہؓ را تزویج نمود و زینبؓ را ابو العاصؓ بن ربیعہ واومردے بوداز بنی امیہ و عثمانؓ بن عفان امِ کلثومؓ را تزویج نمود و پیش از آنکہ بخانہ او برد برحمت الٰہی واصل شد پس بجنگ بدر رفتند حضرت رسول خداﷺ رقیہؓ را باو تزویج نمود۔         

ملا باقر مجلسی کی بیان کردہ ان دو روایات سے ثابت ہوا۔                     

  1. سیدنا جعفر صادقؒ کا ایمان ہے کہ رسولِ اکرمﷺ کی چار بیٹیاں سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے ہوئیں ان کے نام سیدہ زینبؓ سیدہ امِ کلثومؓ سیدہ رقیہؓ اور سیدہ فاطمہؓ ہیں۔  
  2.  سیدنا جعفر صادقؒ نے ان کے نام ہی نہیں لئے بلکہ ان کے نکاح کی تفصیل بھی بیان فرمائی۔
  3. ملا باقر نے ان روایات کی سند کو معتبر قرار دیا۔  
  4. حضور اکرمﷺ کو سیدنا عثمانؓ بہت محبوب تھے اس لئے اپنی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے ان کے نکاح میں دے دیں اگر حضورﷺ کو سیدنا عثمانؓ کے خلوص اور ایمان کے متعلق شبہ بھی ہوتا تو ہرگز ایسا نہ کرتے اگر کوئی کج فہم یہ کہے کہ حضورﷺ نے ڈر کے مارے ایسا کیا یا تقیہ کیا یا مال و دولت کے لالچ میں یہ کیا تو ایسا شخص نہ شانِ رسالت سے واقف ہے نہ اس کا رسولﷺ پر ایمان ہے۔           

 حیات القلوب جلد 2 صفحہ 330: 

شیخ طبرسی و علی بن ابراہیم قمی و دیگراں روایت کردہ اند واز جملہ آں ہا عثمانؓ بود و رقیہؓ دختر حضرت رسولﷺ کے زن او بود۔    

علامہ طبرسی و علی بن ابراہیم قمی جو سیدنا حسن عسکری کا شاگرد ہے دونوں اقرار کرتے ہیں کہ سیدہ رقیہؓ حضرت رسول کریمﷺ کی بیٹی تھی اور سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں تھی۔      

 حیات القلوب جلد 2 صفحہ 89: 

ملا باقر مجلسی نے سیدہ عائشہؓ اور سیدہ فاطمہؓ کا ایک مکالمہ نقل کیا ہے جس کے بعد رسول اکرمﷺ نے سیدہ عائشہؓ کو خطاب کر کے فرمایا:                      

پس حضرت رسول اللہﷺ درخشم شد و گفت بس کن ای حمیراؓ کہ خدا برکت میدہد زنے راکہ شوہر رابسیار دوست داردو بسیار فرزند آورد و خدیجہؓ خدا اور رحمت کنداز من طاہرؓ و مطہر رابہم رسانید کہ او عبداللہؓ بود و قاسمؓ را آورد و رقیہؓ و فاطمہؓ و زینبؓ و امِ کلثومؓ از و بہم رسید۔            

 حیات القلوب جلد 2 صفحہ 391 بدر کے قیدیوں کہ فدیہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:  

تا آنکہ زینبؓ دختر رسول اللہﷺ کہ زوجہ ابو العاصؓ بن ربیعہ بود گردن بند خود راکہ حضرت خدیجہؓ باد دادہ بود برائے فدیہ شوہر خود ابو العاصؓ فرستاد۔ 

اس حدیث کو شیخ طبرسی نے اخراج کیا ہے جو معتبر علمائے شیعہ سے ہے شیخ طبرسی اور ملا باقر مجلسی کا اقرار ہے کہ سیدہ زینبؓ رسول خداﷺ کی بیٹی تھی۔  

مندرجہ بالا گیارہ اقتباسات کا خلاصہ یہ ہے کہ:

  1.  قرآن مجید کی آیت سے ثابت ہے کہ حضور اکرمﷺ کی بیٹیاں تین سے زیادہ تھیں۔   
  2.  حضور اکرمﷺ نے اپنی زبان مبارک سے فرمایا کہ سیدہ خدیجہؓ سے میری چار بیٹیاں سیدہ زینبؓ سیدہ امِ کلثومؓ سیدہ رقیہؓ اور سیدہ فاطمہؓ پیدا ہوئیں۔
  3. سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ رسول خداﷺ کی چار بیٹیاں تھیں جو سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے پیدا ہوئیں۔
  4. سیدہ فاطمہؓ اور سیدہ زینبؓ کو سیدنا جعفر صادقؒ نے حقیقی بہن فرمایا اب اگر کوئی کہے کہ رسولﷺ کی ایک ہی بیٹی تھی تو اول وہ قرآن کی آیت پیش کرے کہ ایک ہی بیٹی تھی پھر رسولﷺ کا قول پیش کرے کہ میری ایک ہی بیٹی تھی پھر سیدنا جعفر صادقؒ کا قول پیش کرے کہ حضورﷺ کی ایک ہی بیٹی تھی اگر ایسا نہ کر سکے اور یقیناً نہیں کر سکتا اور پھر بھی اس بات پر اصرار کرے کہ حضورﷺ کی صرف ایک ہی بیٹی تھی تو ایسا شخص سیدنا جعفر صادقؒ کا مخالف رسول اللہﷺ کا مخالف اور قرآن کا منکر ہے۔   

اب ذرا شیعہ محدث سید نعمت اللہ کی زبانی یکجا تفصیل سنئے:          

انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 124:     

صفحہ 2 از 14