تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 14

فاول امرأة تزوجها خديجةؓ بنتِ خويلد وكانت قبله عند عتيق بن عائذ المخزومی فولدت له جارية ثم تزوجها ابو هالة إلاسدى فولدت له هند بن ابى هاله ثم تزوجها رسول اللهﷺ و ربى ابنها هند فاول ماحملت ولدت عبدالله بن محمد و الطيب و الطاهر ولدت له القاسم اكبر ولده إلى أن قال و انما ولدت له ابنان و أربع بنات زينبؓ و رقيهؓ و ام كلثومؓ و فاطمهؓ فاما زينبؓ بنت رسول اللهﷺ فتزوجها ابو العاص بن الربيع فى الجاهلية فولدت له جارية اسمها امامة تزوجها علىؓ ابن ابى طالب بعد وفات فاطمةؓ و قتل أمير المؤمنين عليه السلام و عنده أمامة فخالف عليها بعده المغيرة بن نوفل بن الحارث بن عبد المطلب وماتت زينبؓ بالمدينة لسبع سنين من الهجرة واما رقيهؓ فتزوجها عتبة بن ابى لهب فطلقها قبل أن يدخل بها ولحقها منه اذىٰ فقال اللهم سلط على عتبة كلبا من كلابك فتناوله الاسد من بين اصحابه و تزوجها بعده بالمدينة عثمانؓ بن عفان فولدت له عبدالله و مات صغيرا نقره ديك على عينيه فمرض فمات و توفيت بالمدينة زمان بدر فتخلف عثمانؓ على دفنها منعه ذلك ان شهد بدر وقد كان عثمانؓ هاجر الى حبشة و معه رقيةؓ واما امِ كلثومؓ فتزوجها ايضاً عثمانؓ بعد اختها رقيةؓ و توفيت عنده الى ان قال وقد تقدم اختلاف اصحابنا فى ان رقيهؓ ام كلثومؓ هل همار بيبتاہ ام ابنتاه و الحال عندنا لا يتفاوت لان عثمانؓ فی زمن النبیﷺ كان مظهر الاسلام وكان النبیﷺ يريد تاليف قلوبهم و دخول الاسلام إليها فكان يلاطفهم بانواع اللطائف من الأموال والمناكحات وغيره۔ 

ترجمہ: پہلی عورت جس سے رسول کریمﷺ نے نکاح کیا سیدہ خدیجہؓ تھی آپﷺ سے پہلے سیدہ خدیجہؓ کا نکاح عتیق سے ہوا تھا اس سے ایک لڑکی ہوئی پھر ابوہالہ اسدی سے نکاح ہوا اور اس سے ایک لڑکا ہند ہوا پھر حضورﷺ سے نکاح ہوا اور اس کے لڑکے ہند نے حضورﷺ کے گھر پرورش پائی اس سے حضورﷺ کے لڑکے قاسم اور طاہر ہوئے سیدہ خدیجہؓ سے حضورﷺ کے دو لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں سیدہ زینبؓ سیدہ رقیہؓ سیدہ امِ کلثومؓ اور سیدہ فاطمہؓ سیدہ زینبؓ کا نکاح سیدنا ابو العاصؓ بن ربیعہ سے زمانہ جاہلیت میں ہوا اسکی بیٹی سیدہ امامہؓ پیدا ہوئی جس سے سیدنا علیؓ بن ابی طالب نے وفاتِ سیدہ فاطمہؓ کے بعد نکاح کیا جب امیر المومنین قتل کئے گئے سیدہ امامہؓ ان کے گھر تھی پھر اس سے سیدنا مغیرہؓ بن نوفل نے نکاح کیا اور سیدہ زینبؓ 7 ہجری میں مدینہ میں فوت ہوئی سیدہ رقیہؓ کا نکاح عتبہ بن ابی طالب سے ہوا رخصتی سے پہلے اس نے طلاق دے دی حضورﷺ کو اس سے ایذا پہنچی تو فرمایا کہ اللہ اس پر اپنا کوئی کتا مسلط کر چنانچہ شیر اسے کھا گیا پھر سیدہ رقیہؓ کا نکاح مدینہ میں سیدنا عثمان بن عفانؓ سے ہوا اس سے ایک لڑکا عبداللہ ہوا جسے بچپن میں ہی مرغ نے آنکھوں کے درمیان ٹھونگ ماری وہ بیمار ہوا اور بدر کے زمانہ میں مدینہ میں فوت ہوا سیدنا عثمانؓ اسکی تجہیز و تکفین کی وجہ سے بدر کی جنگ میں شامل نہ ہو سکے اور سیدنا عثمانؓ نے حبشہ ہجرت کی تو سیدہ رقیہؓ ساتھ تھی اور سیدہ رقیہؓ کے بعد سیدنا عثمانؓ کا نکاح سیدہ امِ کلثومؓ سے ہوا وہ انہی کے گھر فوت ہوئیں      

اس بارے میں شیعوں کے اختلاف کا ذکر پہلے ہوچکا ہے کہ کیا سیدہ امِ کلثومؓ اور سیدہ رقیہؓ ربیبہ تھیں یا بیٹیاں ہمارے نزدیک اس میں کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ حضورﷺ کے زمانہ میں سیدنا عثمانؓ نے اسلام کا اظہارِ کیا اور حضورﷺ کی ایسے لوگوں کی تالیفِ قلب اموال اور مناکحات سے کیا کرتے تھے۔

انوارالنمانيہ کی اس عبارت سے ذیل کے امور ثابت ہوئے:

  1.  سیدہ خدیجہؓ کا پہلا نکاح عتیق بن عائذ سے ہوا جس سے ایک لڑکی پیداہوئی (ہندہ)۔                       
  2.  نکاحِ ثانی ابوہالہ سے ہوا جس سے صرف ایک لڑکا پیدا ہوا "ہند" جس نے حضورﷺ کے گھر پرورش پائی۔یعنی سیدہ خدیجہؓ جب حضورﷺ کے نکاح میں آئیں تو ان کی کوئی لڑکی موجود نہ تھی جن کو ربیبہ بنایا جاتا صرف ایک لڑکا ہند تھا جس کی پرورش حضورﷺ کے ہاں ہوئی۔          
  3.  حضورﷺ کے نکاح میں آنے کے بعد سیدہ خدیجہؓ سے چار لڑکیاں پیدا ہونے کا ذکر کیا ہے سیدہ زینبؓ سیدہ امِ کلثومؓ سیدہ رقیہؓ اور سیدہ فاطمہؓ۔ 
  4. سیدہ زینبؓ کی وفات 7ھ میں ہوئی اور حیات القلوب جلد 2 صفحہ 719 کے مطابق سیدہ امِ کلثومؓ کی وفات بھی 7ھ میں ہوئی اور سیدہ رقیہؓ تو سیدہ ام کلثومؓ سے پہلے فوت ہوچکی تھیں۔
  5. ابتداء میں صاحبِ انوار النعمانیہ نے اقرار کیا ہے کہ سیدہ خدیجہؓ سے حضورﷺ کی چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔پھر تین کو ربیبہ بنانے کا کیا مطلب کیا اپنی بیٹی کو بھی ربیبہ بنایا یا کہا جاتا تھا۔                      

اس سے ایک اور بات بھی واضح ہوگئی کہ عیسائیوں سے مباہلہ کے موقع پر جو باہر آئی بیٹی وہی تھی اگر اور بیٹیاں ہوتیں تو وہ کیوں نہ باہر آتیں؟ بات یہ ہے کہ آیت مباہلہ 9ھ کے آخر میں نازل ہوئی اور حضورﷺ کی تین بیٹیاں 7ھ میں وفات پاچکی تھیں اب مباہلہ میں شامل ہونے کے لئے قبر سے کیوں کر باہر آتیں۔ حضور اکرمﷺ کی حقیقی بیٹیوں کو ربیبہ کہنے کا تکلف اس لئے کیا گیا کہ کہیں سیدنا عثمانؓ کامل الایمان قرار نہ دیے جائیں۔                       

دوسرا پہلو یہ اختیار کیا گیا کہ ان تین بیٹیوں کو سیدہ خدیجہؓ کی ہمشیر زاد بتایا گیا مگر باب اول میں یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ سیدہ خدیجہؓ کی حقیقی بہن صرف ہالہ تھی اس کا ایک بیٹا ابوالعاص تھا کوئی بیٹی تھی ہی نہیں۔    

ملا باقر مجلسی نے دونوں قول نقل کر کے خود ان کی تردید کر دی۔ 

حیات القلوب جلد 2 صفحہ 719: 

قول اول: کہ رقیہؓ و امِ کلثومؓ دخترانِ خدیجہؓ بودند از شوہر دیگر کہ پیش از حضرت رسولﷺ داشتہ بود و حضرت ایشاں تربیت کردہ بود۔  

ترجمہ: سیدہ رقیہؓ اور سیدہ امِ کلثومؓ سیدہ خدیجہؓ کی بیٹیاں تھیں سابقہ خاوندوں سے اور رسولِ خداﷺ نے صرف انکی تربیت کی تھی۔   

قول دوم: بعض گفتہ اند کہ دختران ہالہ خواہر خدیجہؓ بودند جواب دیا وبرنفی ایں دو قول روایات معتبرہ دلالت میکنند۔            

ترجمہ: بعض کہتے ہیں کہ سیدہ خدیجہؓ کی بہن ہالہ کی بیٹیاں تھیں ان دونوں قولوں کی تردید اور نفی معتبر روایات اور احادیث سے ہوتی ہے۔

اور حیات القلوب جلد 2 صفحہ 723 پر سیدنا باقرؒ سے بہ سند صحیح مرقوم ہے:

صفحہ 3 از 14