تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 14

وابنِ ادریس بہ سند صحیح از امام باقرؒ روایت کردہ است کہ حضرت رسول خداﷺ‎ دختر بدو منافق داد یکے ابوالعاصؓ پسر ربیعہ وآں دیگرے کہ عثمانؓ بود۔

ترجمہ: ابنِ ادریس نے صحیح کے ساتھ سیدنا باقرؒ سے روایت کی ہے کہ حضورﷺ‎ نے دو منافقوں کو بیٹیاں دیں سیدنا ابوالعاصؓ بن ربیع دوسرا سیدنا عثمانؓ تھا۔

ابنِ ادریس نے سیدنا باقرؒ سے جو روایت کی ہے اس کا پہلا حصہ ایک حقیقت کا اقرار ہے دوسرا حصہ سیدنا باقرؒ کے ذمے تہمت ہے سیدنا باقرؒ سے یہ توقع نہیں ہو سکتی کہ کوئی ایسی بات فرمایئں جس سے شانِ رسالت کی توہین ہوتی ہو۔ 

باقر مجلسی کے قولِ دوم کے متعلق سید ابو القاسم کوفی کا مضحکہ خیز بیان دیکھئے۔

الاستغاثہ جلد 1 صفحہ 81:

والابنتان طفلتان و کان فی حدثان بتزویج كانت هاله أخت خديجةؓ فقيرة وكانت خديجةؓ من الأغنياء المومنين بكثرة المال فأما هند بن ابى هاله فإنه لحق بقومه وعشيرته بالبادية وبقيت طفلتانِ عند أمها هالة أخت خديجةؓ فضمت خديجةؓ اختها هالة مع الطفلتين إليها وكفلت جميعهم وكانت هالة أخت خديجةؓ هى الرسول بين خديجةؓ وبين رسول اللهﷺ‎ فى حال التزويج فلما تزوج رسول اللهﷺ‎ بخديجةؓ ماتت هالة بعد ذلك بمدة يسيرة و خلفت طفلين زينبؓ و رقيهؓ فى حجر رسول اللهﷺ‎ وحجر خديجةؓ فربهما۔

ترجمہ: حضور اکرمﷺ سے نکاح کے وقت سیدہ خدیجہؓ کی دو خورد سالہ دو لڑکیاں تھیں اور ہالہ ہمشیرہ سیدہ خدیجہؓ غریب تھی اور سیدہ خدیجہؓ مالدار تھیں پس ہند بن ابی ہالہ اپنے قبیلہ کے ساتھ جنگل میں چلا گیا اور یہ خورد سالہ دو لڑکیاں اپنی ماں کے پاس رہ گئیں جو ہالہ بنتِ خویلد ہمشیرہ سیدہ خدیجہؓ تھی سیدہ خدیجہؓ نے اپنی بہن ہالہ اور اس کی دونوں بچیوں کو اپنے گھر رکھ لیا اور ان کی کفالت کرنے لگی سیدہ خدیجہؓ کے ساتھ حضورﷺ کے نکاح میں یہ ہی ہالہ وکیل تھی جب حضورﷺ کا سیدہ خدیجہؓ سے نکاح ہوگیا تو کچھ عرصہ بعد ہالہ مر گئی اور یہ دونوں لڑکیاں سیدہ زینبؓ اور سیدہ رقیہؓ حضورﷺ کے گھر سیدہ خدیجہؓ کے پاس پرورش پاتی رہیں۔

استغاثہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ناول نگار کسی مخصوص مقصد کی بنا پر اپنے ذہن میں ناول کا ایک ڈھانچہ تیار کرچکا ہے اب اس کے لئے اپنی پسند کے مطابق کردار تیار کر رہا ہے جس کا رشتہ جس سے جی چاہا جوڑ دیا کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا۔

بہرحال اس میں ایک مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ صاحبِ استغاثہ نے سیدہ زینبؓ کو ہالہ کی بیٹی قرار دیا ہے اور حیات القلوب جلد 2 صفحہ 493 مرقوم ہے۔

وہمین جماعت اموال ابو العاصؓ ابن الربیع راکہ پسر خواہر خدیجہؓ و شوہر زینبؓ بود۔

ان دونوں علماء کے بیان کو جمع کیا جائے تو نتیجہ یہ نکلا کہ سیدنا ابو العاصؓ کا نکاح اپنی حقیقی بہن سے ہوا صاحبِ استغاثہ کی تحقیق کی داد دینی چاہیے انہیں اپنی اس تحقیق پر اتنا ناز ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ علماء تو علمِ انساب سے جاہل ہیں کہتے ہیں:

وجادلونى اشد مجادلة فى أنهم من خديجةؓ اى من ولد خديجهؓ فاعلمتهم ان ذلك جهل منهم بنسبهم۔

سید ابو القاسم نے اپنے علم کے زور سے حقیقی بہن بھائی کو میاں بیوی بنا دیا اور علماء کو اپنی جہالت کی بنا پر یہ ہمت نہ ہو سکی واقعی ہر مردے و ہر کارے۔

پہلے باب میں معتبر حوالوں سے تفصیل دی جا چکی ہے کہ:

  1.  سیدہ خدیجہؓ کی حقیقی بہن ہالہ تھی اور ہالہ کا صرف ایک لڑکا ابوالعاص تھا۔
  2. دوسری بہن جس کی ماں دوسری تھی اس کا نام رقیقہ تھا۔
  3. رقیقہ کی صرف ایک لڑکی تھی جسکا نام امیمہ تھا۔

اب سیدہ زینبؓ سیدہ امِ کلثومؓ اور سیدہ رقیہؓ کو ربیبہ ثابت کرنے کے لیے ان کی کوئی تیسری بہن تلاش کرنی پڑے گی اور تین خواتین کو اس کی بیٹیاں بنا کر سیدہ خدیجہؓ کے ہمراہ حضور اکرمﷺ کے گھر آنا ثابت کرنا پڑے گا تاریخ اس معاملے میں ساتھ نہیں دیتی اس کا تو اعلان ہے کہ سیدہ خدیجہؓ کی ایک حقیقی بہن اور ایک ماں کی طرف سے سوتیلی اور ان دونوں کے ہاں اس نام کی لڑکی پیدا ہی نہیں ہے ہوئی۔

پس افسانہ نگاری اور ناول نویسی کا سہارا لینا پڑے گا اس کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو:

حیات القلوب جلد 2 صفحہ 728 سید مرتضیٰ اور شیخ طوسی نے روایت کی ہے۔

چوں آ ں حضرت خدیجہؓ را تزویج نمودا و باکرہ بود و بعقد شوہر دیگر پیش آں حضرت نیامدہ بود۔

ملاباقر کہتا ہے کہ: قول اول اشہر است۔

قولِ اول وہ ہی ہے جو متعدد روایات میں پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ سیدہ خدیجہؓ کے پہلے خاوند عتیق بن عائذ اور ابو ہالہ تھے۔

ان علماءِ کرام کے مختلف بیانات کو جمع کرنے سے انسان اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ واقعی ان حضرات نے تاریخ کو ناول اور افسانہ بنا دیا مثلاً:

صفحہ 4 از 14