تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 5 از 14
  1.  رسول اللہﷺ کے نکاح میں آنے سے پہلے سیدہ خدیجہؓ کا نکاح عتیق بن عائذ مخزومی سے پھر ابو ہالہ سے ہوا۔ (حیات القلوب جلد 2 صفحہ 91)۔
  2.  سیدہ خدیجہؓ سے رسول اللہﷺ کی چار بیٹیاں تھیں سیدہ زینبؓ سیدہ رقیہؓ سیدہ امِ کلثومؓ سیدہ فاطمہؓ۔ (اصول کافی جلد 1 صفحہ 147)۔ (وفصال شیخ صدوق جلد 2: صفحہ 167)۔ (وحیات القلوب سیدہ 2: صفحہ 718)۔
  3. سیدہ خدیجہؓ کی بہن صرف ہالہ تھی اس کا ایک ہی لڑکا تھا جس کا نام سیدنا ابو العاصؓ تھا۔ (نسبِ قریش صفحہ 230)۔
  4.  حضور اکرمﷺ کی بیٹی سیدہ زینبؓ کا نکاح ہالہ کے بیٹے سیدنا ابو العاصؓ سے ہوا تھا۔ (شیخ صدوق جلد 2 صفحہ 167)۔
  5.  سیدہ خدیجہؓ کی سوتیلی بہن صرف رقیقہ تھی جس کی ایک بیٹی امیمہ تھی۔ (نسبِ قریش صفحہ 229)۔
  6. سیدہ خدیجہؓ کے ہاں عتیق سے ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ (ہندہ) (انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 124)۔
  7.  سیدہ خدیجہؓ کے ہاں ابو ہالہ سے صرف ایک ہی لڑکا ہند پیدا ہوا۔ (انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 124)۔
  8.  اس میں ہمارے (شیعہ) علماء کا اختلاف ہے کہ سیدہ زینبؓ سیدہ رقیہؓ سیدہ امِ کلثومؓ رسول اللہﷺ کی بیٹیاں تھیں یا ربیبہ تھیں۔ (انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 124)۔
  9. سیدہ رقیہؓ اور سیدہ امِ کلثومؓ ہالہ کی بیٹیاں تھی۔(حیات القلوب جلد 2 صفحہ 719)۔
  10. سیدہ زینبؓ اور سیدہ رقیہؓ ہالہ کی بیٹیاں تھیں اور حضورﷺ کی ربیبہ۔ (الاستغاثہ جلد 1 صفحہ 81)۔
  11.  ابو ہالہ کا بیٹا ابو العاص ہالہ کا شوہر تھا۔ (حیات القلوب جلد 2 صفحہ 493)۔
  12.  جب آنحضرتﷺ کا نکاح سیدہ خدیجہؓ سے ہوا تو وہ کنواری تھیں۔ (حیات القلوب جلد 2 صفحہ 728)۔

ان متضاد بیانات کو پڑھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ تاریخی واقعات ہیں ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ناول نویسی ہے جب چاہا جس کردار کو چاہا جیسے چاہا بدل دیا۔

بناتِ رسولﷺ کو ربیبہ کہنا تاریخی اعتبار سے اور علم الانساب کے لحاظ سے بالکل غلط ثابت ہوگیا اب ربائب کو بنات کہنا قرآنی اعتبار سے غلط ملاحظہ کیجئے۔ 

(انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 125)۔

فزيد بن حارثهؓ و كأن لخديجهؓ إشتراه لها حكيم بن حزام باربعمائة درهم فوهبته لرسول اللهﷺ فاعتقه و زوجه ام ايمنؓ فولدت له اسامهؓ فتبناه رسول اللهﷺ فكان يدعى زيدؓ بن رسول اللهﷺ حتىٰ انزل الله تعالىٰ ادعوهم لاباءھم الخ۔

ترجمہ: سیدنا زید بن حارثہؓ سیدہ خدیجہؓ کے غلام تھےحکیم حزام نے انہیں سیدہ خدیجہؓ کے لئے 440 درہم میں خریدا تھا سیدہ خدیجہؓ نے یہ حضور اکرمﷺ کو ہبہ کر دیا تھا حضور اکرمﷺ نے انہیں آزاد کر دیا سیدہ امِ ایمنؓ سے نکاح کر دیا ان سے سیدنا اسامہؓ پیدا ہوئے ان کو حضور اکرمﷺ نے متنبی بنا لیا ان کو سیدنا زیدؓ بن رسول اللہ بلایا جاتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ ادعوهم لاباءهم الخ۔

یہی بیان تفسیر حسن عسکری صفحہ 271 پر بھی موجود ہے۔

فترکوا ذلک وجعلوا یقولون زید اخو رسول اللہﷺ۔

معلوم ہوا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ربائب یا متبنیٰ کو اپنے والد کے بغیر کسی دوسرے کی طرف نسبت کر کے بلانا حرام ہوگیا اور ترک کر دیا گیا ربیبہ کا معاملہ تاریخی اور قرآنی ہر دو اعتبار سے غلط ثابت ہو گیا شیعہ علماء کے بیانات سے واضح ہوگیا کہ حضورﷺ‎ کی چار بیٹیاں تھیں: سیدہ زینبؓ سیدہ امِ کلثومؓ سیدہ رقیہؓ اور سیدہ فاطمہؓ شیعہ مذہب کی حدیث کی چوٹی کی کتاب کافی ہے جس کے مصنف محمد یعقوب کلینی ہیں جن کو حجتہ الاسلام اور ثقۃ الاسلام کے لقب سے ملقب کرتے ہیں یہ کتاب ان کے بقول امام مہدی کی منظور شدہ اور تصدیق شدہ ہے کافی میں ثقہ الاسلام نے جو بیان کیا ہے وہ معمولی سا ہے صاحب علی بن ابراہیم قمی کا شاگرد ہے یہ سیدنا حسن عسکری کا شاگرد ہے تو صاحبِ کافی کی رائے دراصل سیدنا حسن عسکری کی رائے ہوئی تو کافی میں بیان ہو چکا ہے کہ حضور اکرمﷺ کی سیدہ خدیجہؓ سے چار بیٹیاں تھیں حوالہ گزر چکا ہے۔  

بناتِ رسولﷺ کے نکاح کے متعلق چند غلط فہمیاں اور انکا ازالہ

  1.  حضور اکرمﷺ نے اپنی بیٹیوں کے نکاح کے وقت اس امر کا کوئی خیال نہ کیا کہ اپنی بیٹیاں مسلمانوں یا کافروں یا منافقوں کے نکاح میں دے دی جائیں اس لئے آپﷺ‎ نے ابولہب اور سیدنا ابو العاصؓ بن الربیع اور سیدنا عثمان بن عفانؓ کو بیٹیاں دے دیں۔ 
  2. یہ بات کوئی انوکھی نہیں کیونکہ فرعون کے گھر آسیہ مسلمان اور حضرت نوح السلام علیہ اور حضرت لوط السلام علیہ کی بیویاں کافر تھیں۔ مخالفین کی طرف سے یہ دو غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں یا پیدا کی جاسکتی ہیں اس لئے ان کا ازالہ ضروری ہے۔ 

حیات القلوب جلد 2 718۔719:

   ازاں باشد که حق تعالیٰ حرام گرداند دختران دادن بکافراں باتفاق مخالفان حضرت زینبؓ را بابو العاص تزویج نمود در مکه وقتے کہ او کافر بود و ہم چنین رقیهؓ و امِ کلثومؓ بنا بر میاں مخالفان بعتبه و پیشتر عتبہ کہ پسران ابو لہب بود ند کافر بوند تزویج نمودہ بود۔

ترجمہ: پیشتر اسکے کہ کافروں کو لڑکی کا رشتہ دینا حرام قرار دیا گیا مکہ میں حضورﷺ نے سیدہ زینبؓ کا نکاح ابوالعاص بن الربیع سے کیا جبکہ وہ کافر مشہور تھا اور سیدہ رقیہؓ اور سیدہ امِ کلثومؓ کا نکاح ابولہب کے بیٹوں سے کیا جب کہ کافروں سے لڑکی لینا دینا حرام نہیں کیا گیا تھا۔

دوسری جگہ و مشہور آنست کہ دختران آںحضرتﷺ چہار نفر بود ندو ہمہ از حضرت خدیجہؓ بوجود آمدند اؤل زینبؓ وحضرتﷺ پیش از بعثت و حرام شدن دختر بکافراں دادن اور ابی العاصؓ بن الربیعہ تزویج نمود۔

ترجمہ: مشہور مذہب یہی ہے کہ آنحضرتﷺ کی 4 بیٹیاں تھیں اور چاروں سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے تھیں اول سیدہ زینبؓ جس کا نکاح رسول اللہﷺ نے سیدنا ابوالعاصؓ سے اس وقت کیا جب کافر کو لڑکی دینا حرام قرار نہیں دیا گیا تھا۔

صفحہ 5 از 14