تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 6 از 14

معلوم ہوا کہ حضورﷺ نے عتبہ اور عتیبہ سے اپنی بیٹیوں کا نکاح اس وقت کیا جب کافروں کو بیٹی کا رشتہ دینے کی ممانعت کا حکم نازل ہی نہیں ہوا تھا اور حکم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ حضورﷺ کی بعثت اور نزولِ وحی کا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے یہ نکاح ہوئے اور حلال و حرام کی تعیین تو نزول وحی کی وجہ سے ہوئی پھر عتبہ اور عتیبہ سے جدائی بھی ہو گئی رہا سیدنا ابوالعاصؓ اور سیدنا عثمانِ غنیؓ کا سوال تو سیدہ زینبؓ 7ھ میں فوت ہوئیں اسی طرح سیدہ امِ کلثومؓ بھی 7ھ میں فوت ہوئیں ابتدائے وحی سے طویل عرصہ تک اپنے خاوندوں کے نکاح میں رہیں اگر یہ دونوں کافر یا منافق تھے تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ قرآنِ مجید نے حکم دیا:

  1. وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْ‌ۚ الخ۔ (سورة البقرہ آیت نمبر 221)۔
  2. فَلَا تَرۡجِعُوهُنَّ إِلَى ٱلۡكُفَّارِ‌ۖ لَا هُنَّ حِلٌّ۬ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّونَ لَهُنَّ‌ۖ الخ۔ (سورة الممتحنہ آیت نمبر 10)۔
  3.  وَلَا تُمۡسِكُواْ بِعِصَمِ ٱلۡكَوَافِرِ الخ۔ (سورة الممتحنہ آیت نمبر 10)۔

 یہ احکام بڑے واضح ہیں کہ مسلمان عورت مشرک کے نکاح میں مت دو یہ حلال نہیں کہ مسلمان عورت کافر مرد کے نکاح میں رہے کیا نبی کریمﷺ نے ان احکام کا مفہوم نہیں سمجھا؟ اگر سمجھا تو ان پر عمل کیوں نہ کیا؟ کیا نبی الله کہ کسی حکم کی نافرمانی کر سکتا ہے؟ کیا یہ شانِ نبوت کے منافی نہیں؟ اگر سیدنا ابوالعاصؓ اور سیدنا عثمانِ غنیؓ کافر تھے تو نبیﷺ نے اپنی بیٹیاں وہاں کیوں رہنے دیں الله کے حکم کی تعمیل کیوں نہ کی اس الجھن کا حل صرف یہ ہے کہ: 

  1.  یہ تسلیم کرو کہ سیدنا ابوالعاصؓ اور سیدنا عثمانِ غنیؓ مسلمان تھے اور سچے مسلمان تھے۔
  2. یا یہ تسلیم کر لو کہ نبی الله کا باغی ہوتا ہے۔

اگر پہلی بات تسلیم نہ کی جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آدمی دوسری کو صحیح تسلیم کرتا ہے پھر اس کا اسلام سے کیا تعلق رہ جاتا ہے؟ اب ایک الجھن اور باقی رہ جاتی ہے کہ یہ کافر نہیں تھے بلکہ منافق تھے یعنی ان کے دلوں میں کفر تھا اور زبان پر اسلام اور ایمان کا اقرار اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے چند مقدمات قابلِ غور ہیں: 

  1.  کیا نکاح و طلاق کا تعلق دین سے ہے یا نہیں؟ اس کا جواب ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں خواہ وہ کسی فرقے سے تعلق رکھتا ہو جو اسے دین کا حصہ نہ سمجھتا ہو۔
  2.  نکاح و طلاق جب دین ہی کا حصہ ہے اور دین میں حلال و حرام کی تمیز نہ کی جائے تو دین میں فساد ہی فساد ہے دین کہاں رہ جاتا ہے۔
  3. کیا دین کے متعلق کوئی بات نبی اپنی خواہش سے کرتا ہے یا خدا کے حکم سے؟ جواب ظاہر ہے کہ وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ۝ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡىٌ۬ يُوحَىٰ۝۔ (سورة النجم آیت نمبر 3۔4)۔
  4.  نکاح و طلاق دین کا ایک حصہ ہے نبی دین میں ہر بات خدا کے حکم سے کرتا ہے تو نبیﷺ نے اپنی بیٹیوں کے نکاح خدا کے حکم سے کیے۔

تفسیر مظہری صفحہ 472:

قال رسول اللہﷺ ان الله ابى ان اتزوج او ازوج إلا أهل الجنة۔

ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ کو قطعی طور پر ناپسند ہے کہ میں جنتیوں کے بغیر کسی سے نکاح کروں یا نکاح کر کے دوں۔

اور شرح فقہ اکبر صفحہ 133:

إنه عليه صلوة والسلام قال له (عثمانؓ) والذى نفسى بيده لو ان عندى مائة بنت يمتن واحدة بعد واحدة زوجتك اخرى هذا جبرئيل أخبرنی ان الله يامرنى ان ازوجكها۔

ترجمہ: حضور اکرمﷺ نے سیدنا عثمانِ غنیؓ سے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میری ایک سو بیٹاں ہوتی تو میں ایک کی موت کے بعد دوسری تیرے نکاح میں دیتا جاتا یہ جبرائیلؑ ہیں انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسی طرح حکم دیا ہے۔

یہ بات اس وقت ہوئی جب سیدہ رقیہؓ کی وفات کے بعد سیدنا عثمانؓ نے حضور اکرمﷺ نے سیدہ ام کلثومؓ کا رشتہ پوچھا تھا یہ بات واضح ہوگئی کہ نبی جہاں سے رشتہ لیتا ہے اور جہاں رشتہ دیتا ہے وہ بذریعہ وحی بحکمِ خدا دیتا ہے۔

اصولی طور پر یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دین کی ہر بات نبی خدا کے حکم سے بتاتا ہے سیدنا عثمانؓ کے نکاح کے معاملے میں نبی اکرمﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے ارشاد بھی فرما دیا اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں سیدنا عثمانؓ سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ معاذ اللہ! اگر سیدنا عثمانؓ منافق تھے تو:

  1.  کیا علیم بذات الصدور اور عالم غیب خدا کو علم نہیں تھا کہ سیدنا عثمانؓ کے دل میں کھوٹ اور نفاق ہے۔
  2.  اگر علم تھا تو اپنے نبی کو حکم کیوں دیا اگر نبی کریمﷺ از خود کرنے لگے تھے تو منع کیوں نہ کیا جبرائیلؑ کو بھیج کر نکاح کرنے کا حکم دینے کے بجائے نکاح سے منع کرنے کا حکم دینا چاہیے تھا۔
  3. اگر خدا کو سیدنا عثمانؓ کے نفاق کا علم نہیں تھا تو ایسے بے خبر خدا پر ایمان لانے کی ضرورت کیا ہے معلوم ہوا کہ علیم بذات الصدور اور عالم الغیب خدا کو علم تھا کہ سیدنا عثمانؓ کامل الایمان اور سچا مسلمان ہے اس لیے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اپنی بیٹی کا نکاح سیدنا عثمانؓ سے کر دو اور نبیﷺ کی عبودیت کا اندازہ کیجئے کہ فرماتے ہیں میری سو بیٹیاں ہوتی تو سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں دیتا جاتا اگر پہلی زندہ نہ رہتی اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ بات بھی بعید از عقل ہے کہ ایک طرف اپنے نبی کو حکم دے کہ: 

يَـٰٓأَيُّہَا ٱلنَّبِىُّ جَـٰهِدِ ٱلۡڪُفَّارَ وَٱلۡمُنَـٰفِقِينَ وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡہِمۡ‌ۚ الخ۔ (سورة التحریم آیت نمبر 9)۔ 

اور دوسری طرف حکم دے منافق کو ایک بیٹی تو دی تھی اب دوسری بھی دو اور رسول کریمﷺ کے متعلق یہ امر بھی بعید از عقل ہے کہ اللہ کے حکم کے مطلق پرواہ نہ کریں وہ جس سے جنگ کرنے کا حکم دے وہ اسے بیٹیاں دینے لگیں۔

تقابل کے لئے ایک نظیر ملاحظہ ہو: انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 242۔

فإن تزوج فلا تزوجوه وان مرض فلا تعودوه۔

ترجمہ: اگر کوئی (بے نماز) مسلمانوں سے رشتہ مانگے تو اسے رشتہ نہ دو اگر وہ بیمار پڑ جائے تو اس کی بیمار پرس نہ کرو۔

صفحہ 6 از 14