تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 7 از 14

مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ بے نماز کو رشتہ مت دو یہ حرام ہے اور بے نماز بہت بڑا گناہ گار سہی پھر بھی مسلمان تو ہے ۔مگر نبی کو حکم دیا جاتا ہے کہ منافق کو بیٹی دے پس معلوم ہوا کہ نہ خدا بے خبر ہے نہ رسولﷺ اس کا نافرمان ہے نہ سیدنا عثمانؓ منافق ہے بلکہ:

سخن شناس نہ دلبر اخطا اینجاست۔

رہا فرعون اور آسیہ کا معاملہ تو اس میں چند امور قابلِ غور ہیں:

  1.  جب ساحرینِ فرعون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں شکست ہوئی تو وہ فوراً ایمان لے آئے۔ آسیہ نے شکستِ ساحرین کے بعد ایمان کا اظہار کیا وہ بھی فوری طور پر ایمان لائی۔
  2. آسیہ کا ایمان اجمالی تھا کیونکہ تورات تو غرقِ فرعون کے بعد نازل ہوئی۔
  3. آسیہ نے جب ایمان کا اعلان کیا تو فرعون نے اسے قتل کر دیا۔
  4.  موسوی شریعت اور تھی محمدی شریعت اور ہے۔

لہٰذا اس سلسلے میں فرعون اور آسیہ کو نظیر بنانا محض تکلف بے جا ہے زوجہ نوح علیہ السلام اور زوجہ لوط علیہ السلام کے متعلق دو امور قابلِ توجہ ہیں۔ 

  1.  ان کی شریعت جدا تھی۔
  2.  ان کی بیویاں قوم کے ساتھ ہلاک ہوگئیں۔ 

لہٰذا ان کو نظیر بنانا بے محل اور بے معنیٰ ہے۔

حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق مفسرین نے وضاحت کی ہے: 

قَالَ يَقَوْمٍ هُوءُلاءِ بَنَاتِی هُنَّ أَطْهَرُ لَكُم وكان فی امته يجوز تزويج الكافر بالمسلمة فان تزويج المسلمات من الكفار كان جائزا۔

ترجمہ: یہ میری لڑکیاں ہیں تمہارے لئے پاکیزہ ہیں اور حضرت لوط علیہ السلام کی شریعت میں کفار کا نکاح مسلمانوں سے جائز تھا۔

وقال مجاهد وسعيد بن جبير اراد نساء قومه واضافهن الى نفسه لان کل نبی ابو امته من حيث الشفقة والتربية و هذا القول اولى لان اقدام الانسان على عرض بناته على الاوباش والفجار مستبعد لا يليق لاهل المرءة فكيف بالانبياء وايضا بناته لا تكفى الجمع العظيم امابنات امته ففيهن كفاية لكل۔ (تفسير جمل)۔

ترجمہ: اور مجاہد اور سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اس لفظ سے حضرت لوط علیہ السلام کی مراد اپنی قوم کی لڑکیاں تھیں اپنی طرف اس لئے نسبت کی کہ نبی اپنی قوم کے لئے باعتبار شفقت اور تربیت کے بمنزلہ باپ ہوتا ہے اور یہ قول افضل ہے کیونکہ کوئی انسان گوارا نہیں کرتا کہ اپنی بیٹی کسی اوباش اور فاسق فاجر کو دے تو جو بات اہلِ مروت کے ہاں معیوب ہو وہ بھلا نبی کو کیسے زیب دیتی ہے اور لوط علیہ السلام بھلا اپنی دو بیٹیاں ساری قوم کو کیسے پیش کر سکتے تھے لہٰذا بناتِ امت ہی مراد ہے۔

اس عبارت سے واضح ہے کہ: 

  1. حضرت لوط علیہ السلام کی شریعت میں کافر اور مومن کا نکاح جائز تھا۔
  2. اس کے باوجود حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی بیٹیوں کے متعلق نہیں فرمایا تھا۔
  3.  امت کی عورتیں نبی کی بیٹیاں ہی سمجھی جاتی ہیں۔ 

اس لئے سیدنا عثمانؓ کے نکاح کے سلسلے میں حضرت لوط علیہ السلام کی نظیر بے محل اور تکلف محض ہے اب ایک جاہلانہ اعتراض بھی بیان کر دینا غیر مناسب نہ ہوگا اگر کہا جائے کہ سید زادی کا نکاح غیر سید سے کیسے جائز ہے رسولﷺ کی بیٹیاں تو سید زادیاں ہوئی اس کے جواب میں کہہ دینا کافی ہے کہ سید کا اطلاق حسنینؓ کی اولاد پر کیا جاتا ہے گو یہ تحقیقی مسئلہ نہیں پھر بھی اگر اسے درست تسلیم کیا جائے تو سیدنا علیؓ کو سید کیسے کہیں گے۔ (حیات القلوب جلد 3 صفحہ 45)۔

واکثر گویند که بنابر احتمالات کہ مذکور شد می باید که حضرت امیر المومنین داخل عترت نباشد جواب میگوئم کے کہ عترت را مخصوص با ولا داوی داند شیعه می گوئند که حضرت امیر المومنین ہر چندکہ ظاہر لفظ عترت آنحضرت را شامل نیست اما پدر عترت است و مہتر۔

ترجمہ: اور اکثر لوگ کہتے ہیں کہ مذکور شدہ احتمالات کی وجہ سے امیر المومنین عترت یعنی اہلِ بیتؓ یعنی سادات میں داخل نہیں میں جواب میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص سادات کو امیر المومنین کی اولاد کے ساتھ مخصوص کرتا ہے تو شیعہ کہتے ہیں کہ اگرچہ امیر المومنین کو ظاہر لفظ کے اعتبار سے سادات میں شمار نہیں کیا جا سکتا لیکن وہ سادات کے والد ہیں اور ان سے بہتر ہیں۔

بات صاف ہوگئی کہ سیدنا علیؓ در حقیقت سید نہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ غیر سید سیدوں سےافضل ہے لہٰذا اس کو بیٹی دینا بھی افضل ٹھہرا اگر خود سیدنا علیؓ سید ہیں تو ان کے تمام بھائی اور ان کی تمام اولاد پر سید کے لفظ کا اطلاق درست ہے ان کو سید کیوں نہ کہا جائے اور: 

انوار النعمانیه جلد 1 صفحہ 125:

اما اولاده فهم سبعة وعشرون ولدا ذکر او انثی۔

ترجمہ: سیدنا علیؓ کی اولاد 27 لڑکے لڑکیاں ہیں 18 لڑکے اور 9 لڑکیاں)۔

اگر سیدنا علیؓ کو سید کہا جائے تو ان کے بچوں کو سید زادے اور سید زادیاں کیوں نہ کہاجائے صرف سیدنا حسنینؓ اور ان کی اولاد کو ہی سید کیوں کہا جائے۔ 

آخر میں سیدنا عثمانؓ کے متعلق سیدنا علیؓ کی رائے کا ذکر کر دیتا ہوں:

نہج البلاغه جلد 1 صفحہ 373:

نلت من صهره مالم ينالا۔

ترجمہ: (اے سیدنا عثمانؓ) تو رسول اکرمﷺ سے رشتہ دامادی کی وجہ سے اس بلندی مرتبہ کو پہنچا جہاں سیدنا صدیقؓ سیدنا فاروقؓ نہ پہنچے۔

سیدہ امِ کلثومؓ:

صفحہ 7 از 14