تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 8 از 14

اہلِ بیتِ رسولﷺ میں کانٹ چھانٹ کا سلسلہ ازواجِ مطہراتؓ سے شروع ہو کر بناتِ رسولﷺ پر ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اور آگے چلتا ہے چنانچہ اس عادت کے تحت عیار لوگوں نے سیدہ فاطمہؓ کے بطن سے سیدنا علیؓ کی بیٹی سیدہ امِ کلثومؓ کے وجود کا بھی انکار کر دیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ تاریخ اس حقیقت کا ساتھ نہیں دیتی بلکہ سیدنا عمرؓ کا سیدنا علیؓ کا داماد بن جانا محبانِ اہلِ بیتؓ کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ایسے واقعات پر غور کرنے کی دو صورتیں ہیں اول یہ کہ اس کے متعلق کوئی روایت ملتی ہے یا نہیں دوم یہ کہ وہ امر واقعہ ہے یا تاریخی حقیقت ہے یا نہیں علمائے اصول پہلے کو روایت دوسرے کو درایت کہتے ہیں اس غور و فکر کے بعد نتیجہ پر پہنچنے کی اصولی صورت یہ ہے اگر کوئی روایت مخالف واقعہ اور درایت آجائے تو قبول نہ ہوگی اس اصول کے اطلاق کے سلسلہ میں رسالہ اعتقاد یہ شیخ صدوق کے مقدمہ میں شیخ مفید کے مناقب کے سلسلے میں ایک مناظرہ کے حالات درج ہیں کہ بغداد میں شیخ مفید نے قاضی عبد الجبار معتزلی پر اعتراض کیا تھا کہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ سے خلافتِ سیدنا علیؓ  ثابت ہوتی ہے تو قاضی عبد الجبار نے جواب دیا کہ یہ ایک روایت ہے اور خلافتِ صدیقی امر واقعہ تاریخی حقیقت اور درایت ہے اور درایت کے مقابلہ میں روایت قابلِ قبول نہیں اس قسم کا ایک مناظرہ قاضی ابوبکر باقلانی کا بھی ملتا ہے اس میں یہی جواب دیا گیا مگر قاضی عبد الجبار کے جواب پر شیخ مفید نے سوال کیا کہ جنگِ جمل اور صفین میں امامِ حق سیدنا علیؓ کے مقابلے میں جو لوگ تھے ان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے تو قاضی عبد الجبار نے جواب دیا کہ ان کی آخر صلح ہو گئی اور ہر فریق اپنے کئے پر تائب ہو گیا تو شیخ مفید نے کہا قاضی صاحب! جنگِ جمل و صفین درایت ہے اور توبہ یا صلح روایت ہے لہٰذا درایت کے مقابلہ میں روایت کو کیسے قبول کیا جائے گا اس پر قاضی عبد الجبار خاموش ہو گیا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ روایت جو مقابلہ درایت آتی ہے وہ دو طرح کی ہوتی ہے اول یہ کہ اس واقعہ یا درایت کی تکذیب کرتی ہو وہ روایت نا قابلِ قبول ہوگی دوم یہ کہ روایت کا تعلق صاحبِ واقعہ یا صاحبِ درایت سے ہو وہ قابلِ قبول ہے اس واقعہ میں صلح کا تعلق جنگ سے نہیں بلکہ فریقین سے ہے کہ اس واقعہ کے بعد کے حالات کیسے گزرے تو روایت نے بتا دیا کہ ان میں صلح ہوگئی تھی لہٰذا اس روایت نے واقعہ کی تصدیق کر دی اور ظاہر ہے کہ صلح ہمیشہ بعد جنگ ہوتی ہے اسی طرح سیدہ ام کلثومؓ دخترِ سیدہ فاطمہؓ کا نکاح سیدنا عمرؓ سے ہونا واقعہ اور درایت ہے لہٰذا جو روایت اس کی تکذیب کرے وہ مردود ہے علمائے شیعہ میں سے مورخ شہیر عباس قلی خان سپرے نے طراز المذہب مظفری جسے فاسخ التواریخ سے تعبیر کیا جاتا ہے جلد 1 صفحہ 60 طبع تہران 1346ھ میں اختلاف نکاحِ سیدہ امِ کلثومؓ پیش کر کے اسے مختلف فیہ قرار دینے کی ناکام کوشش کی ہے دلیل یہ دی ہے کہ:

  1.  بعض روایتوں میں آتا ہے کہ سیدنا علیؓ نے خود سیدہ امِ کلثومؓ کا نکاح سیدنا عمرؓ سے کیا۔
  2. بعض میں آتا ہے کہ سیدنا عباسؓ کو اس کا اختیار دیا۔
  3.  بعض میں آتا ہے کہ ذلک فرج غضبناہ۔ (معاذاللہ)
  4.  بعض میں آتا ہے کہ سیدہ ام کلثومؓ کے نکاح میں مہر 40 ہزار درہم باندھا گیا۔
  5.  بعض میں آتا ہے کہ چار ہزار مقرر ہوا۔
  6. بعض میں آتا ہے کہ 500 مقرر ہوا۔
  7. بعض میں ہے کہ جب سیدنا عمرؓ نے 40 ہزار دینا چاہا تو جواب ملا کہ مہر کی رقم والدہ کے مہر سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔
  8.  بعض کہتے ہیں کہ سیدہ امِ کلثومؓ سے سیدنا عمرؓ کا بیٹا زید پیدا ہوا اور دونوں ماں بیٹا اکٹھے مر گئے۔
  9. بعض کہتے ہیں کہ بیٹا زید زندہ رہا۔
  10.  بعض کہتے ہیں زندہ اولاد کوئی نہیں ہوئی۔ 

ان اختلافات پر غور کرنے سے انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ یقینا نکاح ہوا نمبر 1 سے نمبر 3 تک نکاح کی صورت میں اختلاف ہے نکاح ہونے میں کوئی اختلاف نہیں نمبر 4 سے نمبر 7 تک مہر کی رقم میں اختلاف ہے اور ظاہر ہے کہ مہر اس وقت مقرر ہوتا ہے جب نکاح ہوا لہٰذا یہ اختلاف بھی نکاح ہونے کی تصدیق کرتا ہے نمبر 8 سے نمبر 10 تک بیٹے کے زندہ پیدا ہونے یا زندہ رہنے میں اختلاف ہے پیدا ہونے میں کوئی اختلاف نہیں لہٰذا یہ اختلاف بھی نکاح ہونے کی مزید تصدیق کرتا ہے۔ 

خلاصہ یہ ہوا کہ عباس قلی کے بیان کردہ اختلافات سے یہ نتیجہ نکلا کہ یقیناً نکاح ہوا مہر بھی مقرر ہوا اور بیٹا بھی پیدا ہوا یہاں تک تو صرف اصولی بحث تھی اب تاریخی شواہد پیش کئے جاتے ہیں۔ 

ثبوتِ نكاح سیدہ امِ كلثومؓ

1۔ طراز المذہب جلد 1 صفحہ 57:

و خود دریں جاگوئند و توضیح کنند که امِ کلثومؓ دختر امیر المومنین داد از بطن مطهر حضرت صدیقہ کبریٰ فاطمه الزهراء صلوات الله علیها است که عمر بن الخطابؓ محض برائے شرف و بقائے پیوند بایں وصلت مبادرت نمود۔

ترجمہ: اور خود اس جگہ وضاحت کرتے ہیں کہ سیدہ امِ کلثومؓ دخترِ سیدنا علیؓ سیدہ فاطمہؓ کے بطن سے پیدا ہوئی اور سیدنا عمرؓ نے اہلِ بیتؓ سے تعلق کرنے اور شرف حاصل کرنے کے لئےان سے نکاح کیا۔

(2)۔ طراز المذہب صفحه 58:

رزیل اسامی بنات مكرمات امیر المومنین علی علیہ السلام گوید جناب امِ کلثوم کبریٰؓ دختر فاطمۃ الزہراء علیها السلام درسرائے عمر بن الخطابؓ بود و از دے فرزندے بیادرده چنانچه مذکور شد و چون عمر مقتول شد محمد بن جعفرؓ بن ابی طالب اور اور تخت نکاح آورد و بعد از وفات محمد عون بن جعفرؓ بن ابی طالب آنحضرت را تزویج نمود۔

سیدنا علیؓ کی بیٹیوں کے نام کے بیان میں: 

سیدہ امِ کلثومؓ دخترِ سیدہ فاطمہؓ سیدنا عمرؓ کے نکاح میں تھی اس سے ایک بیٹا پیدا ہوا جیسا کا ذکر ہو چکا ہے جب سیدنا عمرؓ شہید ہو گئے وہ سیدنا محمد بن جعفرؓ کے عقد میں آئی اور سیدنا محمد بن جعفرؓ کی وفات کے بعد سیدنا عون بن جعفرؓ بن ابی طالب سے ان کا نکاح ہوا۔ 

(3)۔ طراز المذہب جلد 1 صفحہ 65:

می گوید در خبر صحیح است که عمر بن الخطابؓ جناب امِ کلثومؓ دخترِ فاطمہ الزہراء سلام الله علیها را از پدرش امیر المومنین از بهر خویشتن خواست گاری کرد۔

صفحہ 8 از 14